Wednesday , August 15 2018
Home / شہر کی خبریں / خانگی اسکولس میں محفوظ ماحول فراہمی پر غور،فائر سیفٹی کی شرط سے نجات دلانے کی حکمت عملی ، تجاویز کی طلبی

خانگی اسکولس میں محفوظ ماحول فراہمی پر غور،فائر سیفٹی کی شرط سے نجات دلانے کی حکمت عملی ، تجاویز کی طلبی

حیدرآباد۔22فروری(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ خانگی اسکول انتظامیہ کو فائر سیفٹی قوانین کی سختیوں سے نجات دینے کے لئے حکمت عملی تیار کرنے میں مصروف ہے! ریاست میں خانگی اسکولوں کے لئے موجود فائر سیفٹی قوانین کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات جو کہ بیشتر اسکولوں میں نہیں کئے جا رہے ہیں اور ادارہ جات مقامی اداروں میں شعبہ فائر سیفٹی سے برائے نام صداقتنامہ حاصل کرتے ہوئے انہیں استعمال کیا جانے لگا ہے اس میں حکومت کی جانب سے ترمیم کرتے ہوئے اسکولوں کے انتظامیہ کو راحت فراہم کرنے کے سلسلہ میں غور کیاجانے لگا ہے۔ محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کے مطابق حکومت نے اس سلسلہ میں تجاویز طلب کی گئی ہیں کہ ان قوانین میں ترمیم کے ذریعہ محفوظ ماحول کس طرح سے فراہم کیا جاسکتا ہے۔ خانگی اسکولوں کی جانب سے اس سلسلہ میں حکومت سے نمائندگی کرتے ہوئے اسکولوں کی عمارتوں میں آتش فرو آلات کی تنصیب کے علاوہ دیگر قوانین کے نفاذ کے سلسلہ میں احکامات پر عمل آوری میں ہونے والی مشکلات سے واقف کرواتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ اسکول انتظامیہ اس صداقتنامہ کے حصول کے لئے کافی مشکلات کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق خانگی اسکولوں کی جانب سے سرکاری اسکولوں میں آتش فرو آلات کی عدم موجودگی اور ان پر ان قوانین کے عدم اطلاق کے علاوہ دیگر امور پر توجہ دہانی کروائی گئی جس کے بعد حکومت نے اس سلسلہ میں رعایت یا شرائط میں نرمی کے متعلق غور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خانگی اسکولوں کو مسلمہ حیثیت کے حصول کیلئے لازمی ہے کہ وہ محکمہ فائر سیفٹی کی جانب سے دیئے گئے شرائط کے مطابق عمارت کی تعمیر کو یقینی بنانے کے علاوہ اسکول میں لاکھوں روپئے مالیت کے فائر سیفٹی آلات کی تنصیب کو ممکن بنائیں لیکن ریاست میں بیشتر اسکولوں کی جانب سے ان شرائط کی تکمیل نہیں کی جاتی بلکہ برائے نام این او سی حاصل کرلی جاتی ہے اور محکمہ تعلیم کے عہدیدار بھی اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں اور اسے بنیاد بناتے ہوئے وہ اپنی آمدنی میں اضافہ کر رہے ہیں ۔ حکومت کی جانب سے فائر سیفٹی کے امور میں ترمیم کے مسئلہ پر تجاویز طلب کئے جانے کے متعلق محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ محکمہ کی جانب سے فوری طور پر اس سلسلہ میں کوئی رائے نہیں دی جاسکتی اسی لئے محکمہ تعلیم کی جانب سے فائر سیفٹی اور ڈیساسٹر مینجمنٹ کے عہدیداروں کے ہمراہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے مشاورت کی جائے گی اور اس کے بعد ہی کوئی قطعی رائے دی جائے گی۔مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں نے بتایا کہ شہری انتظامیہ کے قوانین میں کوئی ترمیم کی گنجائش فراہم نہیں کی جائے گی کیونکہ جی ایچ ایم سی حدود میں اسکولوں ‘ دواخانوں اور دیگر عوامی مقامات پر فائر سیفٹی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی ترجیحات میں شامل ہیں اور شہریوں کو تحفظ کی فراہمی کے معاملہ میں جی ایچ ایم سی کوئی مفاہمت نہیں کرسکتی بلکہ حکومت کی جانب سے رائے حاصل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس بات کی جانب توجہ مبذول کروائی گئی ہے کہ بیشتر اسکولوں میں ان قوانین پر عمل آوری نہیں کی جا رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT