Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / خانگی اسکولس میں من مانی فیس وصولی کے خلاف نوٹس

خانگی اسکولس میں من مانی فیس وصولی کے خلاف نوٹس

اندرون پندرہ یوم جواب کی ہدایت ، اولیائے طلبہ اور سرپرستوں کی شکایتوں کا مثبت اثر
حیدرآباد۔13اپریل (سیاست نیوز) ریاست میں خانگی اسکولوں کی جانب سے وصول کی جا رہی فیس میں ہونے والے اضافہ اور اسکولوں کی آمدنی کے متعلق تفصیلی آگہی کیلئے ریاستی حکومت نے ریاست کے 162 سرکردہ اسکولوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اپنے جملہ حسابات پیش کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔محکمہ تعلیم تلنگانہ نے ریاست میں اولیائے طلبہ اور دیگر تنظیموں کی جانب سے موصولہ شکایات کی بنیاد پر کاروائی کرتے ہوئے 162اسکولوں کو نوٹس جاری کردی ہے اور توقع ہے کہ اندرون 15یوم اسکول انتظامیہ کی جانب سے محکمہ کو جواب موصول ہو جائیں گے ۔ ان جوابات کے موصول ہونے کے بعد ہی ماہرین کی کمیٹی کی جانب سے اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ اسکولوں کی جانب سے جو فیس میں اضافہ کیا گیا ہے وہ واجبی ہے یا غیر واجبی اضافہ کیا جا رہا ہے۔ گذشتہ کئی ماہ سے ریاست بھر کے سرکردہ بالخصوص کارپوریٹ اسکولوں کی جانب سے کئے جانے والے اضافہ سے پریشان اولیائے طلبہ و سرپرست حکومت اور متعلقہ محکمہ سے شکایات کرتے آرہے ہیں اور اس مسئلہ کی یکسوئی کیلئے متعدد مرتبہ احتجاجی دھرنے بھی منظم کئے جا چکے ہیں لیکن اس کے باوجود جاریہ تعلیمی سال کے آغاز کے موقع پر بیشتر تعلیمی اداروں نے حسب معمول اپنی فیس میں اضافہ کیا لیکن اس پر کوئی روک نہیں لگائی گئی جس پر گذشتہ دنوں اولیائے طلبہ نے دوبارہ احتجاج منظم کیا جس پر حکومت نے تیقن دیا تھا کہ بہت جلد خانگی اسکولوں کی فیس کو باقاعدہ بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے ریاست کے 162خانگی اسکولوں کی آڈٹ رپورٹ طلب کی گئی ہے اور اسکول انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ آڈٹ رپورٹ پیش کرنے میں کوتاہی نہ کریں بلکہ نوٹس موصول ہوتے ہی حسابات داخل کردیں تاکہ فیس کو باقاعدہ بنانے کے عمل کو تیز کیا جاسکے اور اس بات کا جائزہ لیا جاسکے کہ اسکولوں کی جانب سے کیا گیا فیس میں اضافہ درست ہے یا نہیں ۔محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں جن اسکولوں کو نوٹس جاری کی گئی ہیں ان میں بیشتر کا تعلق حیدرآباد سے ہے اور خانگی اسکولوں کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ جب تک ریاست کارپوریٹ نظام تعلیم جاری رہے گا اسکولوں کے لئے یہ مسائل پیدا ہوتے رہیں گے۔ متوسط خانگی اسکولوں کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ کارپوریٹ اسکولوں کی جانب سے وصول کی جانے والی من مانی فیس کے خلاف کاروائی کے بجائے محکمہ کی جانب سے ایسے اسکولوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو حقیقی معنوں میں تعلیم کے ذریعہ خدمت کا کام انجام دے رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT