Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / خانگی اسکولس میں ٹیٹ کامیاب اساتذہ کے تقرر کو یقینی بنانے کوشش

خانگی اسکولس میں ٹیٹ کامیاب اساتذہ کے تقرر کو یقینی بنانے کوشش

آئندہ تعلیمی سال سے فیصلے پر عمل آوری کیلئے ریاستی حکومت کے اقدامات
حیدرآباد۔25اکٹوبر(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ خانگی اسکولوں میں ٹیٹ کامیاب اساتذہ کے تقرر کو یقینی بنانے کے اقدامات کے طور پر ڈی ایس سی کی طرح خانگی اسکولوں میں اساتذہ کے تقررات کے متعلق غور کر رہی ہے۔ حکومت تلنگانہ نے ریاست کے بیشتر خانگی اسکولوں میں غیر معیاری اور کم تعلیمیافتہ اساتذہ کے تقررات کے متعلق شکایات کی وصولی کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا کہ ریاست میں موجود تمام خا نگی اسکولوں میں ٹیٹ کامیاب اساتذہ کا تقرر عمل میں لایا جائے۔ تفصیلات کے بموجب آئندہ تعلیمی سال سے تمام خانگی اسکولوں میں ٹیٹ کامیاب اساتذہ کو ہی خدمات انجام دینی ہوںگی ۔ محکمہ ٔ تعلیم کے عہدیداروں کے بموجب خانگی اسکولوں میں اہل اساتذہ کے تقرر کا قانون پہلے سے موجود ہے لیکن بعض اسکولوں کے ذمہ داران کی جانب سے اس قانون کو نظر انداز کرتے ہوئے ایسے اساتذہ کا تقرر عمل میں لایا جانے لگا تھا جو تعلیمی اعتبار سے بچوں کو پڑھانے کی لیاقت نہیں رکھتے۔ حکومت کی جانب سے تیار کردہ منصوبہ کے مطابق خانگی اسکولوں میں اساتذہ کے تقررات کا معاملہ اب خود حکومت کی راست نگرانی میں انجام پائے گا۔ ڈی ایس سی طرز انتخاب کے ذریعہ حکومت کی نگرانی میں اہل اساتذہ کے مختلف اسکولوں میں تقررات عمل میں لائے جائیں گے۔حکومت کے اس فیصلہ سے خانگی اسکول انتظامیہ میں ناراضگی پیدا ہوسکتی ہے لیکن عہدیداروں کا کہنا ہے کہ متعدد شکایات کے موصول ہونے کے بعد اساتذہ کے تقرر کے سلسلہ میں محکمہ کی جانب سے مداخلت کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈا ایس سی طرز پر خانگی اسکولوں میں تقررات کیلئے حکومت کی جانب سے ضلعی سطح پر درخواستیں طلب کی جائیں گی اور ٹیٹ میں کامیابی حاصل کرنے والے اساتذہ کی درخواستوں پر غور کرنے کے بعد کونسلنگ کا عمل رکھا جائے گا تاکہ تمام خانگی اسکولوں میں اساتذہ کے تقررات کو انجام دیا جا سکے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے تعلیمی اصلاحات کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات کی بعض گوشوں سے سراہنا کی جا رہی ہے تو کچھ گوشے ان اصلاحات کی مخالفت بھی کر رہے ہیں۔ خانگی اسکولوں میں جہاں اسکول چلانے والے انتظامیہ کو اساتذہ کے تقررات کے اختیارات حاصل ہوتے ہیں ان میں مداخلت کیلئے محکمہ تعلیم کے عہدیدار یہ جواز پیش کر رہے ہیں کہ بھاری فیس وصول کرتے ہوئے معمولی اجرت پر اساتذہ کے تقررات کے ذریعہ اسکول انتظامیہ قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور اہل اساتذہ کی تعداد کافی کم ہونے کے سبب معیار تعلیم میں بہتری نہیں لائی جا رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT