Saturday , November 25 2017
Home / شہر کی خبریں / خانگی اسکولس پریشان ؟اچھی تعلیم دلانے کا خواب شرمندہ نظر آنے لگا ہے

خانگی اسکولس پریشان ؟اچھی تعلیم دلانے کا خواب شرمندہ نظر آنے لگا ہے

پریشان والدین کو اقلیتی اقامتی اسکولس سے راحت‘ مفت قیام ، طعام اور یونیفارم
حیدرآباد 19 جون : ( سیاست نیوز ) : حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر ریزیڈنشیل اسکولس قائم کرنے کی وجہ سے خانگی تعلیمی ادارے بحران کی جانب گامزن ہیں ۔ جاریہ سال 240 اقلیتی اور بی سی ریزیڈنشیل اسکولس قائم کرنے سے خانگی تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم 60 فیصد طلبہ نے اقامتی اسکولس میں داخلہ لے لیا ہے ۔ میرٹ کا تعلیمی مظاہرہ کرنے والے طلبہ بھی ریزیڈنشیل اسکولس کا رخ کرنے سے خانگی تعلیمی انتظامیہ پریشان ہے ۔ سرکاری اسکولس میں بنیادی سہولتوں کے فقدان کے باعث غریب اور متوسط طبقات کے افراد نے مالی مسائل کے باوجود اپنے بچوں کو انگریزی تعلیم دلوانے کے لیے خانگی اسکولس میں داخلہ دلایا کرتے تھے ۔ تاہم حکومت کی جانب سے ہر اسمبلی حلقہ میں ایک اقلیتی اور ایک بی سی ریزیڈنشیل اسکولس قائم کرنے سے انگریزی میڈیم میں زیر تعلیم طلبہ ریزیڈنشیل اسکولس میں بڑے پیمانے پر داخلہ لے رہے ہیں ۔ منڈل سطح پر لڑکے اور لڑکیوں کے لیے علحدہ ریزیڈنشیل اسکولس قائم کرنے سے غریب اور متوسط طبقات کے افراد کو متبادل کے طور پر سرکاری انگریزی میڈیم ریزیڈنشیل اسکولس دستیاب ہورہے ہیں ۔ حکومت کے اس فیصلے سے منڈل سطح پر موجود خانگی تعلیمی ادارے بحران کی طرف گامزن ہورہے ہیں ۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ 80 فیصد طلبہ خانگی تعلیمی اداروں سے سرکاری ریزیڈنشیل اسکولس میں داخلہ لے رہے ہیں ۔ کئی خانگی اسکولس سے طلبہ ٹی سی حاصل کرتے ہوئے ریزیڈنشیل اسکولس سے رجوع ہورہے ہیں ۔ ریزیڈنشیل اسکولس میں داخلہ کے لیے طلبہ کے درمیان مسابقت پیدا ہوگئی ہے ۔ زیادہ تر نشستیں خانگی اسکولس میں زیر تعلیم طلبہ کو مل رہی ہے ۔ ریزیڈنشیل اسکولس میں جماعت پنجم تا ہفتم داخلے دئیے جارہے ہیں ۔ 240 ریزیڈنشیل اسکولس میں 80 ہزار طلبہ داخلے لینے کی اطلاعات ہیں ۔ حکومت نے ریزیڈنشیل اسکولس میں عالمی سطح کی تعلیم دینے بنیادی سہولتیں فراہم کرنے فی طالب علم پر سالانہ 1.25 لاکھ روپئے خرچ کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ جس سے والدین کا ریزیڈنشیل اسکولس پر اعتماد پیدا ہوا ہے ۔ اقلیتی اقامتی اسکولس میں بھی طلبہ بڑے پیمانے پر داخلے لے رہے ہیں جس سے خانگی تعلیمی انتظامیہ پریشان ہے ۔ ضلع گدوال خانگی تعلیمی اداروں کی تنظیم کے صدر ایم بیچوپلی نے ایک منظم سازش کے تحت خانگی تعلیمی اداروں کو نقصان پہونچانے کا حکومت پر الزام عائد کیا ہے ۔ مزید ریزیڈنشیل اسکولس کے قیام سے خانگی تعلیمی اداروں کو نقصان پہونچنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ ضلع سدی پیٹ کے بیشتر مواضعات میں بچوں کو سرکاری اسکولس میں پڑھانے کی قرار دادیں منظور کی گئی ہیں اور خانگی تعلیمی اداروں کی گاؤں میں تشہیر پر امتناع عائد کردیا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT