Sunday , February 18 2018
Home / شہر کی خبریں / خانگی اسکولس کے غیر تربیت یافتہ اساتذہ کو ٹریننگ کے اقدامات

خانگی اسکولس کے غیر تربیت یافتہ اساتذہ کو ٹریننگ کے اقدامات

مرکزی حکومت کے قواعد پر عمل آوری ، کڈیم سری ہری کا کونسل میں جواب
حیدرآباد ۔ 6۔ نومبر (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر تعلیم کڈیم سری ہری نے کہا کہ ریاست کے مسلمہ خانگی مدارس کے غیر تربیت یافتہ اساتذہ کیلئے مرکزی حکومت کے قواعد کے مطابق ٹریننگ کی تکمیل کے اقدامات کئے جائیں گے۔ قانون ساز کونسل میں وقفہ سوالات کے دوران پی سدھاکر ریڈی کے سوال پر ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست میں مسلمہ خانگی اسکولوں کی تعداد 11,262 ہے جن میں 92,675 ٹیچرس برسر خدمت ہیں، ان میں سے صرف 3,905 ٹرینڈ ٹیچرس ہیں۔ مرکزی حکومت نے غیر تربیت یافتہ اساتدہ کیلئے 31 مارچ 2019 ء تک ٹریننگ کی تکمیل کی مہلت مقرر کی ہے جس کے تحت وہ انٹرمیڈیٹ میں 50 فیصد نشانات حاصل کرتے ہوئے ٹریننگ کی تکمیل کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت فروغ انسانی وسائل کے احکامات کے مطابق ایسے اساتذہ جو ڈی ای اور ای ڈی پروگرام میں داخلہ کی اہلیت نہیں رکھتے، وہ انٹرمیڈیٹ میں 50 فیصد نشانات کے ساتھ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ میں شرکت کرسکتے ہیں اور بنیادی اہلیت حاصل کرنے کیلئے دوبارہ انٹرمیڈیٹ امتحانات میں شرکت کرنا ہوگا۔ ایسے ٹیچرس کو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ کے ڈی ای ای ڈی پروگرام میں داخلہ کی اجازت دی جائے گی۔ سری ہری نے کہا کہ مرکزی حکومت کے قواعد کے مطابق ان ٹرینڈ ٹیچرس کیلئے ٹریننگ کی تکمیل مقررہ مدت میں کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ایڈیڈ اور ان ایڈیڈ اسکولوں میں غیر تربیت یافتہ اساتذہ کی تفصیلات حکومت کی جانب سے حاصل کی جارہی ہے ۔ تمام اضلاع سے تفصیلات ملنے کے بعد ان کیلئے ٹریننگ کا اہتمام کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ایڈیڈ اسکولوں میں مخلوعہ اساتذہ کی جائیدادوں پر تقررات کے سلسلہ میں 2004 ء سے پابندی عائد ہے۔ اس مسئلہ کو چیف منسٹر سے رجوع کرتے ہوئے امتناع برخواست کرنے اور مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات کی مساعی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اسکولوں کو مستحکم کرنے اور طلبہ کے داخلوں میں اضافہ کیلئے مواضعات میں انگلش میڈیم اسکولس قائم کئے گئے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر طلبہ کیلئے ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے ڈپٹی چیف منسٹر نے تیقن دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں ٹیچر اور طلبہ کے تناسب کو برقرار رکھا جائے گا۔ سرکاری اور خانگی اسکولوں کیلئے ٹیچر۔طلبہ کی تعداد کے سلسلہ میں طئے شدہ تناسب ہے جس کے ذریعہ بہتر تعلیم کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ۔ ایسے اسکول جہاں اس تناسب کی پابندی کی جائے گی ، انہیں حکومت کی جانب سے مسلمہ قرار دیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT