Saturday , January 20 2018
Home / شہر کی خبریں / خانگی اسکولوں میں صرف سرکاری کتب پڑھانا لازمی

خانگی اسکولوں میں صرف سرکاری کتب پڑھانا لازمی

حیدرآباد ۔ 20۔ مئی (سیاست نیوز) ریاست کے خانگی اسکولوں میں بھی سرکاری کتب کے ذریعہ درس و تدریس لازمی قرار دیدی گئی ہے۔ حکومت تلنگانہ نے ایک انتہائی اہم فیصلہ کرتے ہوئے تمام خانگی امدادی و سرکاری اسکولوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ اسکولوں میں خانگی پبلیشرس کی کتابوں اور گائیڈس قطعی نہ پڑھائی جائیں۔ خانگی کتب پڑھانے والے تعلیمی اداروں کے

حیدرآباد ۔ 20۔ مئی (سیاست نیوز) ریاست کے خانگی اسکولوں میں بھی سرکاری کتب کے ذریعہ درس و تدریس لازمی قرار دیدی گئی ہے۔ حکومت تلنگانہ نے ایک انتہائی اہم فیصلہ کرتے ہوئے تمام خانگی امدادی و سرکاری اسکولوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ اسکولوں میں خانگی پبلیشرس کی کتابوں اور گائیڈس قطعی نہ پڑھائی جائیں۔ خانگی کتب پڑھانے والے تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ان کے الحاق کو ختم کردیا جائے گا۔ مسٹر ایم سومی ریڈی ڈسٹرکٹ ایجوکیشنل آفیسر حیدرآباد کی جانب سے جاری کردہ ایک اہم سرکیولر نمبر RC.No.Spl/DEO/2015 کے مطابق حکومت نے اس بات کی ہدایات جاری کی ہے کہ خانگی اسکولوں میںپہلی جماعت تا پانچویں جماعت بھی صرف سرکاری درسی کتب پڑھائی جائیں اور کسی قسم کی کوئی اضافی کتب کا استعمال نہ کیا جائے۔ ان احکامات کے مطابق اب خانگی اسکولوں میں پڑھ رہے طلبہ کو اسکول کی جانب سے دی جانے والی کتب خریدنا لازمی نہیں رہ گیا ہے جو کہ اسکول انتظامیہ کی جانب سے والدین پر ڈالا جانے والا بہت بڑا بوجھ بنے ہوئے تھے۔ حکومت نے پہلی تا آٹھویں جماعت تک کے درسی کتب کو سی سی ای طرز طریقہ کار پر تیار کرلیا ہے اور ان کتب کے ذریعہ ہی طلبہ کو تمام اسکولوں میں یکساں پڑھائی یقینی بنانی ہوگی۔ ضلع ایجوکیشنل آفیسر کی جانب سے جاری کردہ سرکیولر میں اس بات کی صراحت کی گئی ہے کہ تمام خانگی، سرکاری و امدادی اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کو صرف سرکاری کتب کے ذریعہ ہی درس و تدریس کا عمل کروایا جانا چاہئے۔

علاوہ ازیں کسی بھی خانگی پبلیشر یا گائیڈس کی مدد حاصل کرنے سے اجتناب کیا جانا چاہئے۔ ان احکامات میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ اساتذہ کی جانب سے طلبہ کو مطالعاتی مواد بازار سے خریدنے کی تلقین کی جاتی ہے جس کی وجہ سے طلبہ میں موجود ذہنی ورزش کی صلاحیت کمزور پڑتی جاری ہے اسی لئے مکمل طور پر حکومت نے گائیڈس پر امتناع عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے چونکہ اس سے نہ صرف بچوں کی صلاحیتوں میں کمی واقع ہورہی ہے بلکہ اساتذہ اپنی سہولت کیلئے اس کے استعمال کو فروغ دے رہے ہیں۔ احکامات میں اسکول کے ذمہ داران و ہیڈ ماسٹرس کو اس بات کی ہدایت دی گئی ہے کہ خانگی کتب بالکلیہ طورپر نہ رکھیں اور سرکاری کتب کے ذریعہ ہی طلبہ کو پڑھانے کے انتظامات کئے جائیں۔ بصورت دیگر نہ صرف اسکول کا الحاق ختم کردیا جائے گا بلکہ اسکول کے خلاف کارروائی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

گزشتہ چند برسوں سے والدین ، سرپرستوں اور اولیائے طلبہ کی جانب سے اس بات کی مسلسل شکایات کی جارہی تھی کہ خانگی اسکولوں میں من مانی کتب نصاب میں شامل کرتے ہوئے طلبہ کو کتابیں خریدنے کیلئے مجبور کیا جارہا ہے اور اسی طرح مخصوص دکانات و شوروم سے یونیفارم حاصل کرنے کا پابند بنایا جارہا ہے ۔ ان شکایات کاجائزہ لینے کے بعد حکومت کی جانب سے کئے گئے اس اقدام کے مطابق اب طلبہ خواہ کسی جماعت میں تعلیم حاصل کر رہے ہوں ، انہیں سرکاری نصاب کے ذریعہ ہی تعلیم حاصل کرنی ہوگی اور حکومت کی جانب سے تمام اسکولوں کے یکساں یونیفارمس کے متعلق بھی غور کیا جارہا ہے لیکن یونیفارم کو یکساں بنانے کے سلسلہ میں احکامات کی اجرائی آئندہ تعلیمی سال کے آغاز سے قبل ممکن نظر نہیں آتی جبکہ سرکاری نصاب کا لزوم فوری طور پر نافذ کردیا گیا ہے اور اس بات کی صراحت کردی گئی ہے کہ خانگی کتب قطعی طور پر نہ فروخت کئے جائیں اور نہ ہی ان کا استعمال کیا جائے بلکہ صرف سرکاری طور پر تیار کردہ نصاب کے ذریعہ ہی بچوں کی تعلیم کو یقینی بنایا جائے ۔

TOPPOPULARRECENT