Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / خانگی اسکول طلبہ کے آدھار اندراج میں مشکلات ، سرکاری اسکولس میں اندراج کا امکان

خانگی اسکول طلبہ کے آدھار اندراج میں مشکلات ، سرکاری اسکولس میں اندراج کا امکان

محکمہ تعلیمات میں تفصیلات کی طلبی ، غلط اندراج کی تحقیقات پر جعلسازی کا انکشاف ممکن
حیدرآباد۔9۔جنوری (سیاست نیوز) سرکاری اسکولوں میں طلبہ کی تعداد میں واقعی اضافہ ہو رہا ہے یا محکمہ تعلیم کی جانب سے صرف اعداد و شمار کے کھیل کھیلے جا رہے ہیں؟ حکومت کی جانب سے طلبہ کے آدھار نمبرات کے ساتھ اندراج کے لزوم کے بعد اس بات کا انکشاف ہو جائے گا۔ تعلیمی سال 2015-16کے دوران حکومت نے تمام طلبہ کیلئے آدھار نمبرات کا اندراج لازمی قرار دیا لیکن جاریہ سال اس لزوم پر سختی سے عمل آوری کی جا رہی ہے لیکن خانگی اسکولوں کے ذمہ داروں کواس سلسلہ میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور سرکاری اسکولوں میں آدھار کے اندراج کے سلسلہ میں تاحال کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں بلکہ داخلوں کے وقت جو آدھار نمبرات درج کئے گئے ہیں ان کے علاوہ مابقی طلبہ کے اندراج کو یقینی بنانے کیلئے کوئی اقدامات ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں۔ خانگی اسکولوں میں تعلیم حاصل کررہے طلبہ کے آدھار کے اندراج میں آنے والی مشکلا ت کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ ایک اسکول میں 50تا100طلبہ کے آدھار کارڈ نمبر درج نہیں ہو پا رہے ہیں اور اس بات کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان طلبہ کے آدھار کارڈ نمبر کا پہلے ہی کہیں اندراج عمل میں آچکا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں بڈی باٹا پروگرام کے علاوہ دیگر داخلوں سے مربوط شعور بیداری پروگرامس کے دوران آدھار نمبرات کے اندراج کے ذریعہ داخلوں میں اضافہ دکھائے جانے کے شبہات ظاہر کئے جا رہے ہیں اور سرکاری اسکولوں کی جانب سے ان آدھار نمبروں کا غلط استعمال کئے جانے کی تحقیقات کے لئے نمائندگی کے متعلق غور کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے بموجب سرکاری اسکولوں میں تعلیمی سال کے آغاز کے ساتھ ہی نئے داخلوں کی مہم اور بچوں کو اسکول تک لانے کیلئے اقدامات کئے جاتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی سرکاری اسکولو ںمیں طلبہ کی اضافی تعداد ریکارڈ کروا دی جاتی ہے لیکن اب جب کہ حکومت نے تمام طلبہ کو آدھار سے مربوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو یہ حقیقت سامنے آرہی ہے کہ سرکاری اسکولوں میں داخلہ تو ہو رہے ہیں لیکن یہ داخلے صرف رجسٹر کی حد تک محدود ہیں اور اگر واقعی ایسا ہے تو سرکاری اسکولوں سے ترک تعلیم کا ریکارڈ جو جاری کیا جاتا ہے اس پر بھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں شہروں کے مختلف علاقوں میں موجود خانگی اسکولوں کے ذمہ داروں کو ان کے اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے طلبہ کے آدھار کارڈ نمبر کے آن لائن اندراج میں پیش آرہی مشکلات کے متعلق انہوں نے محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کو واقف کروایا ہے لیکن اس کے باوجود یہ کہا جا رہا ہے کہ جن کے آدھار نمبر کے اندراج میں دشواریاں پیدا ہو رہی ہیں ان کی تفصیلات محکمہ تعلیم کو روانہ کردی جائیں ۔ محکمہ تعلیم کے اس رویہ سے خانگی اسکولوں کے ذمہ داران کے علاوہ شعبہ تعلیم سے وابستہ افراد کی تشویش میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے کیونکہ سرکاری اسکولو ںمیں میں اگر ان طلبہ کے آدھار نمبروں کا اندراج کیا گیا ہے تو یہ سرکاری اسکول انتظامیہ کی جانب سے حکومت کو دھوکہ دہی کے مترادف ثابت ہوگا۔محکمہ تعلیم کے اعلی عہدیداروں کو چاہئے کہ وہ اس سلسلہ میں ضروری احکامات جاری کرتے ہوئے تحقیقات کو یقینی بنائیں کیونکہ حکومت کی جانب سے ریاست میں تعلیم کے فروغ کیلئے متعدد اقداما اور نئی تعلیمی پالیسی کے متعلق اعلانات کئے جا رہے ہیں اور ایسی صورت میں سرکاری اسکولوں کے ذمہ دار ہی اس طرح کی جعل سازیوں میں ملوث ہوں گے تو سرکاری اسکولوں کے حالات میں کبھی سدھار ممکن نہیں ہو پائے گا۔

TOPPOPULARRECENT