Thursday , September 20 2018
Home / شہر کی خبریں / خانگی اسکول میں من مانی فیس وصولی کا سلسلہ برقرار

خانگی اسکول میں من مانی فیس وصولی کا سلسلہ برقرار

وزیر تعلیم و ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری کے احکامات پر عمل نظر انداز
حیدرآباد۔12جنوری(سیاست نیوز) اولیائے طلبہ و سرپرست خانگی تعلیمی ادارو ںکی جانب سے طلب کی جانے والی اضافی فیس نہ جمع کروائیں اور اپنے موقف پر قائم رہیں خانگی اسکول انتظامیہ اور کارپوریٹ تعلیمی ادارۂ جات ان کے بچوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کرسکتے اسی لئے سرپرست اور اولیائے طلبہ و والدین خائف نہ ہوں بلکہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ احکام کے مطابق اپنے موقف پرڈٹے رہیں ۔ ڈپٹی چیف منسٹر و ریاستی وزیر تعلیم مسٹر کڈیم سری ہری نے سرکاری احکامات کے باوجود تعلیمی اداروں کی جانب سے اضافی فیس وصول کئے جانے کی اطلاعات پر یہ بات کہی اور انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے کافی غور کرنے کے بعد فیس میں اضافہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اگر اس کے بعد بھی تعلیمی اداروں کی جانب سے فیس میں اضافہ کیا جاتا ہے تو ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔ مسٹر کڈیم سری ہری نے بتایا کہ حکومت نے پروفیسر تروپتی راؤ کی رپورٹ پر عمل آوری کے سلسلہ میں جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور اسی لئے تعلیمی ادارو ںکو احکام جاری کئے گئے ہیں کہ وہ فیس میں اضافہ کے فیصلہ کو زیر التواء رکھیںلیکن اس کے باوجود بھی کئی والدین اور سرپرستوں کی جانب سے اس بات کی شکایات موصول ہورہی ہیں کہ خانگی و کارپوریٹ تعلیمی اداروں کی جانب سے اضافی فیس وصول کی جا رہی ہے ۔ مسٹر کڈیم سری ہری نے بتایا کہ جن اسکولوں میں انتظامیہ نے فیس میں اضافہ کا فیصلہ کیا ہے اور والدین و سرپرستوں کو نوٹس جاری کی ہے ان کے خلاف کاروائی کی ہدایت دی جا چکی ہے کیونکہ ان اسکولوں کے انتظامیہ نے سرکاری احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے اولیائے طلبہ کو گمراہ کرتے ہوئے اضافی فیس وصول کر رہے ہیں۔محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کو دی گئی ہدایات کے مطابق شہر حیدرآباد کے علاوہ ریاست تلنگانہ کے دیگر شہری علاقوں میں چلائے جانے والے خانگی و کارپوریٹ تعلیمی اداروں اور اقامتی اسکولوں کی جانب سے وصول کی جانے والی فیس کی مکمل رپورٹ حاصل کی جائے تاکہ اس بات کا جائزہ لیا جاسکے کہ حکومت کی جانب سے احکام کی اجرائی کے بعد بھی کن اسکولوں اور تعلیمی اداروں کی جانب سے فیس میں اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ریاستی وزیر تعلیم نے محکمہ تعلیم کے اعلی عہدیداروں کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہاکہ وہ فیس میں اضافہ کرنے والے تعلیمی اداروں اور خانگی و کارپوریٹ اسکولوں کے خلاف قانونی کاروائی کے جواز کا جائزہ لیں تاکہ فوری کاروائی کو ممکن بنایا جا سکے۔

TOPPOPULARRECENT