خانگی انجینئرنگ کالجوں میں دوسرے مرحلہ کی کونسلنگ کی اجازت

حیدرآباد۔/29اکٹوبر، ( این ایس ایس ) ریاست کے 174 خانگی انجینئرنگ کالجوں کو آج زبردست راحت ملی جب سپریم کورٹ نے انہیں داخلوں کیلئے دوسرے مرحلہ کی کونسلنگ منعقد کرنے کی اجازت دے دی۔ جے این ٹی یو نے ان 174کالجس کی مسلمہ حیثیت ختم کرتے ہوئے انہیں پہلے مرحلہ میں داخلوں کیلئے کونسلنگ سے روک دیا تھا۔ سپریم کورٹ میں ریاست تلنگانہ کے چند خانگی ا

حیدرآباد۔/29اکٹوبر، ( این ایس ایس ) ریاست کے 174 خانگی انجینئرنگ کالجوں کو آج زبردست راحت ملی جب سپریم کورٹ نے انہیں داخلوں کیلئے دوسرے مرحلہ کی کونسلنگ منعقد کرنے کی اجازت دے دی۔ جے این ٹی یو نے ان 174کالجس کی مسلمہ حیثیت ختم کرتے ہوئے انہیں پہلے مرحلہ میں داخلوں کیلئے کونسلنگ سے روک دیا تھا۔ سپریم کورٹ میں ریاست تلنگانہ کے چند خانگی انجینئرنگ کالجوں کی طرف سے دائر کردہ درخواستوں پر سماعت کی جارہی تھی۔ عدالت نے جے این ٹی یو کی جانب سے ان انجینئرنگ کالجس کو غیر مسلمہ قرار دیئے جانے کے اعلان کو غیر قانونی قرار دیا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ عدالت عظمیٰ جو اس مقدمہ کی سماعت کررہی ہے کالجوں کی طرف سے مقرر کردہ تعلیمی شیڈول پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے گذشتہ روز منگل کو سماعت ملتوی کردیا تھا۔ تاہم سپریم کورٹ نے آج اپنی سماعت جاری رکھی اور متاثرہ خانگی انجینئرنگ کالجوں میں داخلوں کیلئے دوسرے مرحلہ کی کونسلنگ مکمل کرنے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں صرف وہی کالجس داخلوں کے لئے دوسرے مرحلہ کی کونسلنگ کے اہل ہوں گے جو سال 2013-14 میں جے این ٹی یو سے ملحق تھے۔ عدالت عظمیٰ نے یہ واضح کردیا کہ کونسلنگ کا عمل 14نومبر تک مکمل ہوجانا چاہیئے اور ان کالجس میں تعلیمی سال کا 15نومبر سے آغاز ہوجانا چاہیئے۔ عدالت نے یہ ہدایت بھی کی کہ پہلے سیمسٹر کے امتحانات 15جنوری تک مکمل کئے جائیں اور دوسرے سیمسٹر کے امتحانات بہر صورت 15فبروری سے شروع کئے جائیں۔

TOPPOPULARRECENT