Wednesday , July 18 2018
Home / شہر کی خبریں / خانگی تعلیمی اداروں میں فیس کا اضافہ ، نوٹس بورڈس پر اعلانات

خانگی تعلیمی اداروں میں فیس کا اضافہ ، نوٹس بورڈس پر اعلانات

حکومت کے فیصلہ پر عمل ندارد ، طلبہ اور اولیائے طلبہ بے چینی کا شکار
حیدرآباد۔22 ۔ جنوری (سیاست نیوز) اسکولوں میں فیس کے اضافہ کے متعلق حکومت کے احکامات کی خانگی تعلیمی اداروں بالخصوص کارپوریٹ اداروں میں کوئی وقعت باقی نہیں رہی بلکہ بیشتر کارپوریٹ اداروں کی جانب سے باضابطہ نوٹس بورڈ پر فیس میں اضافہ کی اطلاع نصب کرتے ہوئے فیس حاصل کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں اور استفسار پر یہ کہا جارہا ہے کہ حکومت کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کا اطلاق ان پر نہیں ہوتا۔ شہر حیدرآباد و سکندرآباد کے علاوہ تلنگانہ کے اضلاع میں چلائے جانے والے اقلیتی موقف کے حامل تعلیمی اداروں (اسکول) میں یہ کہا جارہا ہے کہ ریاستی حکومت کے احکامات کا اطلاق ان پر ممکن نہیں ہے کیونکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اسکول کی فیس کے تعین کے مجاز ہیں۔ اس کے علاوہ بیشتر تعلیمی اداروں میں تروپتی راؤ کمیٹی کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ اس رپورٹ میں کمیٹی نے سالانہ 10 فیصد فیس میں اضافہ کی گنجائش فراہم کی ہے اور اس گنجائش کے مطابق ہی وہ فیس میں اضافہ کر رہے ہیں ۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے مطابق خانگی و کارپوریٹ اداروں میں تعلیمی فیس میں بے تحاشہ اضافہ کے بجائے دیگر خدمات کے نام پر فیس کی وصولی کی حکمت عملی تیار کی ہے ، اس کے علاوہ اولیائے طلبہ و سرپرستوں کو اس بات کیلئے مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ آئندہ تعلیمی سال کے پہلے تین ماہ کی فیس بھی جاریہ تعلیمی سال کے اختتام پر ہی ادا کردیں۔ پیشگی فیس ادائیگی پر رعایت کی ترغیبات بھی تعلیمی اداروں کی جانب سے فراہم کی جارہی ہیں اور کہا جارہا ہے کہ قبل از وقت فیس کی ادائیگی کی صورت میں انہیں پانچ تا دس فیصد فیس میں رعایت فراہم کی جائے گی ۔ تعلیمی اداروں کی جانب سے فراہم کی جانے والی ان ترغیبات کو بھی محکمہ تعلیم کے عہدیداروں نے غیر قانونی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر کسی تعلیمی ادارہ میں اضافی فیس وصول کی جاتی ہے تو اس کی مسلمہ حیثیت ختم کرنے پر بھی غور کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT