Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / خانگی تعلیمی اداروں میں فیس کو باقاعدہ بنانے کا منصوبہ

خانگی تعلیمی اداروں میں فیس کو باقاعدہ بنانے کا منصوبہ

اولیاء طلبہ اور اسکول انتظامیہ کا اجلاس منعقد کرنے کا اعلان : کے سری ہری
حیدرآباد۔ 21 ۔ مارچ ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر تعلیم کڈیم سری ہری نے کہا کہ زائد فیس وصول کرنے والے تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت خانگی تعلیمی اداروں میں فیس کو باقاعدہ بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ حکومت نے سرپرستوں کی شکایات پر شہر میں 12 خانگی اسکولس کو نوٹس جاری کی ہے، ان میں سے بعض اسکولوں نے اپنا جواب داخل کیا جبکہ بعض دوسروں نے عدالت میں مقدمہ کا بہانہ بنایا۔ حکومت اسکولوں کے جوابات کا جائزہ لے کر کارروائی کرے گی۔ انہوں نے اولیائے طلبہ اور اسکول انتظامیہ کا اجلاس منعقد کرنے کا بھی اعلان کیا۔ وقفہ سوالات کے دوران غیر مسلمہ خانگی مدارس سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے
اعتراف کیا کہ خانگی تعلیمی ادارے طلبہ سے زائد فیس وصول کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں پہلی جماعت تا 10 ویں جماعت 60 لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہیں ، جن میں 31 لاکھ طلبہ خانگی تعلیمی اداروں میں ہیں جبکہ 29 لاکھ طلبہ سرکاری مدارس میں زیر تعلیم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست میں 14 ہزار خانگی تعلیمی ادارے ہیں۔ حکومت کو شکایات ملی ہیں کہ انٹرنیشنل، کانسیپٹ ، ماڈل اور دیگر ناموں سے مختلف اسکولوں کا جال بچھایا گیا ہے جن میں زائد فیس وصول کی جارہی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر کے مطابق متحدہ آندھراپردیش میں فیس باقاعدہ بنانے کیلئے جی او 91 جاری کیا گیا تھا، جس میں ضلع واری سطح پر فیس ریگولیٹری کمیٹی کے قیام کی گنجائش تھی۔ اس جی او کے خلاف تعلیمی اداروں نے ہائیکورٹ میں درخواست داخل کی اور عدالت نے جی او کو کالعدم کردیا ۔ حکومت نے ہائیکورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی ہے اور یہ معاملہ زیر التواء ہے۔ کڈیم سری ہری نے کہا کہ آندھراپردیش میں جی او 42 جاری کیا گیا تھا جس میں داخلہ کیلئے اسکریننگ ٹسٹ اور کیاپیٹیشن فیس پر امتناع عائد کیا گیا۔ ہائیکورٹ نے اس جی او پر حکم التواء جاری کیا ہے اور یہ معاملہ ہائیکورٹ میں زیر دوران ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2009 ء میں قانون حق تعلیم کو منظوری دی گئی ۔ تاہم اس قانون پر ریاستوں کو اختلاف ہے۔ اس قانون پر عمل آوری سے سرکاری تعلیمی اداروں کی بقاء کو نقصان ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد خانگی تعلیمی اداروں کی حوصلہ شکنی کرنا نہیں ہے بلکہ زائد فیس کی وصولی روکنا اس کا مقصد ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 1994 ء میں تعلیمی فیس کو باقاعدہ بنانے کیلئے جی او ایم ایس 1 جاری کیا گیا تھا جس کے تحت آج بھی کارروائی کی جاسکتی ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے آئندہ 10 دن بعد اس مسئلہ پر عوامی نمائندوں کے ساتھ  اجلاس منعقد کرنے کا تیقن دیا۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ اور سرپرستوں کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ حکومت فیس باقاعدہ بنانے کیلئے سنجیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں 152 غیر مسلمہ اسکولس ہیں، اگر وہ مسلمہ حیثیت کیلئے رجوع ہوں تو حکومت مسلمہ حیثیت دے گی۔ جو غیر مسلمہ اسکولس بند ہورہے ہیں، ان کے طلبہ کو دیگر اسکولوں میں ضم کیا جارہا ہے۔ ارکان وینکٹ ویریا، آر کرشنیا (تلگو دیشم) ، پی اجئے (کانگریس) اور ڈاکٹر لکشمن (بی جے پی) نے ضمنی سوالات کرتے ہوئے بتایا کہ خانگی اسکولوں میں بھاری فیس کی وصولی سے اولیائے طلبہ پریشان ہیں۔ سرپرستوں کو فیس کی ادائیگی کیلئے قرض حاصل کرنا پڑ رہا ہے۔ ڈاکٹر لکشمن نے کہا کہ تعلیم اور علاج صرف دولتمندوں کیلئے قابل رسائی بن چکا ہے۔ اسکولوں میں سالانہ دیڑھ تا تین لاکھ روپئے وصول کئے جارہے ہیں۔ آر کرشنیا نے زائد فیس کی وصولی روکنے کیلئے قانون سازی کا مطالبہ کیا۔ کڈیم سری ہری نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشنل آفیسرس کو غیر مسلمہ خانگی اسکولوں کے خلاف کارروائی کا اختیار دیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT