Monday , December 11 2017
Home / اضلاع کی خبریں / خانگی تعلیمی اداروں کے ساتھ حکومت کا طرز عمل نامناسب

خانگی تعلیمی اداروں کے ساتھ حکومت کا طرز عمل نامناسب

کریم نگر /19 اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) ریاستی حکومت کا بلا سوچے سمجھے طرز عمل منصوبہ بندی طلباء اور خانگی تعلیمی اداروں کیلئے انتہائی پریشان کن مسئلہ بن چکا ہے ۔ تلنگانہ ریاست تعلیمی خانگی انتظامیہ اسوسی ایشن کے جنرل سکریٹری نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ 2014 کے تعلیمی سال میں اس وقت کے وزیر تعلیم کے کئے گئے فیصلہ سے تعلیم کے نقصان کے ساتھ خانگی تعلیمی ادارے بحران کاشکار ہوچکے ہیں ۔ 2014-15 تعلیمی ادارہ میں حکومت دسہرہ تہوار سے قبل سہ ماہی امتحانات منعقد کرتے تھے لیکن تعطیلات کے بعد رکھے گئے ۔ حکومت کے اس غیر دانشمندانہ احکامات سے بچے تعطیلات میں اپنی تعلیم کو جاری نہ رکھ سکے ۔ 2014-15 تعلیمی سال 12 اپریل کی بجائے 20 کو منعقد کرے یکم سے 9 تک سالانہ امتحانات یکم اپریل کو منعقد کرنے پر بچوں نے کہا کہ کیا کریں کیا نہ کریں حالات کا شکار ہوگئے ۔ 2016-17 پہلی تا پانچویں جماعت تک خانگی اسکولس میں سرکاری کتب پڑھانے کا حکم دیا ۔ لیکن 21 اپریل تک بھی سربراہ نہیں کئے گئے ۔ ریاست کے کسی مقام پر کوئی خانگی اسکول می معمولی غلطی ہوجائے تو تمام سرکاری اسکولس کو چھوڑ کر خانگی اسکولس قصوروار ٹھہرایا جانا دانشمندی نہیں ہے ۔ اب سرکاری اسکولس مڈ ڈے میلس کے نام پر کھلے رکھے جارہے ہیں ۔ یہ کونسا طریقہ کار ہے ۔ 2015-16 دسویں کے امتحانی مراکز پر سی سی کیمرے لگائے گئے پھر حکم واپس لے لیا گیا ۔ دو وقت کا اسکول بند کرنے کا حکم دے کر پھر دوبارہ رکھے جانے کیلئے حکم دینا کبھی ایک ہی وقت رکھا جانے کا حکم دینا حکومت کا طرز عمل سمجھ سے باہر ہے۔ خانگی اسکولس چلانے اب 35 سوالات کا جواب دینے صراحت کرنے کیلئے پولیس انٹلی جنس کے ساتھ اسکول کی تنقیح کیا معنی جبکہ کئی اسکولس 30-25 سال سے چل رہے ہیں ۔ اجازت حکومت ہی نے دی ہے تو پھر اب تنقیح کس بات کی ۔ خانگی تعلیمی ادارہ جات سے 4 لاکھ افراد کو روزگار فراہم ہو رہا ہے ۔ حکومت ایک لڑکے پر 50 ہزار خرچ کر رہی ہے ۔ ہم آپ کی بحچ کر رہے ہیں اور نفع دے رہے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT