Thursday , August 16 2018
Home / ہندوستان / خانگی دواخانوں کا دواؤں پر 1200% تک منافع کا انکشاف

خانگی دواخانوں کا دواؤں پر 1200% تک منافع کا انکشاف

دوا ساز کمپنیوں پر زیادہ سے زیادہ ایم آر پی پرنٹ کرنے خانگی دواخانوں کا دباؤ : سروے
نئی دہلی۔ 20 فروری (سیاست ڈاٹ کام) پرائیویٹ ہاسپٹلس کے حوالے سے ایک حیرت انگیز تحقیقی رپورٹ سامنے آئی ہے۔ اس رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ پرائیویٹ ہاسپٹلس، دواؤں اور ڈائیگناسٹک کے نام پر 1200% تک منافع حاصل کررہے ہیں۔ یہ سنسنی خیز انکشاف نیشنل فارماسیوٹیکل پرائسنگ اتھاریٹی (این پی اے اے) نے کیا ہے۔ انہوں نے اس کے لئے دہلی اور این سی آر کے چار بڑے پرائیویٹ ہاسپٹلس کے بلوں کی جانچ کی تھی۔ واضح رہے کہ ہاسپٹل میں داخل کئے گئے کسی مریض کو جو مجموعی بل بنایا جاتا ہے، اس میں سے 46% خرچ دوائی اور لیاب ٹسٹنگ کے نام پر ہوتا ہے۔ آج جاری کئے گئے اس رپورٹ میں کہا گیا کہ زیادہ فائدہ دوائی بنانے والوں کو نہیں بلکہ ہاسپٹلس کو ہی ہوتا ہے۔ این پی اے اے کے مطابق ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ کیونکہ پرائیویٹ ہاسپٹلس خود ہی دوا ساز کمپنیوں کو دوائیوں پر زیادہ سے زیادہ قیمت (ریٹ) پرنٹ کرواتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہاسپٹلس زیادہ تر ایسی دوائیاں تجویز کرتے ہیں جو کہ ان کے خود کی یا جان پہچان والی فارمیسی کے ذریعہ بنائی جاتی ہے۔ ایسے میں مریض اور اس کے رشتہ دار وہ دوائیاں کہیں اور سے حاصل ہی نہیں کرپاتے۔ یہ ہاسپٹلس دوا ساز کمپنیوں پر یہ دباؤ بھی بناتے ہیں کہ وہ اپنی دواؤں پر اصل قیمت سے زیادہ ایم آر پی پرنٹ کروائیں تب ہی وہ ساری دواؤں کا اسٹاک خریدتے ہیں۔ واضح رہے کہ این پی اے اے نے یہ سروے اس لئے کیا چونکہ پچھلے دنوں پرائیویٹ ہاسپٹلس پر کئی مرتبہ زیادہ بلس وصول کرنے کے الزامات عائد کئے گئے تھے۔ رپورٹ میں بطور مثال بتایا گیا کہ کوئی بھی انجیکشن اگر ہاسپٹل کو 5.77 روپئے کی پڑ رہی ہوتی ہے تو اسے ہاسپٹلس متعلقہ مریض کو 106 روپئے میں دیتا ہے۔ اس سے اس کا منافع 1,737% منافع ہوجاتا ہے۔ واضح رہے کہ اگرچہ دواخانوں کے حوالے سے یہ تحقیق صرف دہلی اور این سی آر تک ہی محدود رکھا گیا ہے تاہم تجزیہ کاروں کا دعویٰ ہے کہ اس طرح کی منافع خوری پورے ملک میں دھڑلے سے جاری ہے ، مگر حکومت کوئی موثر کارروائی کرنے میں ناکام ہے۔۰

TOPPOPULARRECENT