Wednesday , January 17 2018
Home / شہر کی خبریں / خانگی و آر ٹی سی بسوں پر اشتہارات چسپاں کرنے پر ٹیکس

خانگی و آر ٹی سی بسوں پر اشتہارات چسپاں کرنے پر ٹیکس

مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کا منصوبہ ، 25 تا 30 کروڑ روپئے کی آمدنی متوقع

مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کا منصوبہ ، 25 تا 30 کروڑ روپئے کی آمدنی متوقع
حیدرآباد ۔ 16 ستمبر (سیاست نیوز) دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں خانگی و آر ٹی سی بسوں پر ہونے والی اشتہاری سرگرمیوں کے علاوہ دیگر گاڑیوں پر اشتہارات چسپاں کئے جانے پر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے محصولات عائد کرنے کے منصوبہ پر موثر عمل آوری کیلئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ شہر میں زائد از 3 لاکھ ایسی گاڑیاں ہیں جن پر اشتہارات چسپاں کئے جارہے ہیں لیکن تاحال ان پر کسی قسم کی محصولات عائد کئے جارہے ہیں جس کے سبب مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے عہدیداروں کا ماننا ہے کہ اشتہارات کے ذریعہ ہونے والی آمدنی متاثر ہوتی جارہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جی ایچ ایم سی کے منصوبہ کے مطابق اس اشتہاری سرگرمی سے محصولات کی وصولی کی صورت میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد 25 تا 30 کروڑ روپئے کی آمدنی ہوسکتی ہے۔ تفصیلات کے بموجب مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں 25 ہزار کیابس کے علاوہ تقریباً 2 لاکھ آٹو رکشا اور 3,800 آر ٹی سی بسیں موجود ہیں۔ ان کے علاوہ 3 ہزار خانگی بسیس اور 15 ہزار تعلیمی اداروں کی بسیں موجود ہیں جن کے ذریعہ مشتہرین تشہیر کررہے ہیں۔ بلدی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ مشتہرین سے ٹیکس وصول کرنے کے بجائے گاڑی کے مالکین سے ٹیکس وصول کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے تاکہ گاڑی کے مالک مشتہرین سے اشتہارات کی قیمت کے ساتھ ساتھ ٹیکس بھی وصول کرتے ہوئے بلدیہ میں جمع کروادیں۔ حیدرآباد و سکندرآباد میں غیرمجاز ہورڈنگس کے متعلق بھی مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز کئے جانے کا امکان ہے چونکہ دونوں شہروں میں تیزی سے غیرمجاز ہورڈنگس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ تجارتی اداروں کی جانب سے جہاں کہیں جگہ نظر آئی، تشہیری ہورڈنگس نصب کئے جانے کی شکایات عام ہوتی جارہی ہیں۔ ان شکایات کو دُور کرنے کیلئے مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کئے جانے کا امکان ہے۔ بلدی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ گاڑیوں اور بسوں پر جاری تشہیری مہم پر محصولات عائد کئے جانے کی صورت میں بلدیہ کو جو آمدنی ہوگی، اس سے سڑکوں کی درستگی کے علاوہ شہر کی سڑکوں کو خوبصورت بنانے کے لئے ان محصولات کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے آٹوز، خانگی بسیں، آر ٹی سی بسیس کے علاوہ کیابس پر تشہیری مواد کے اعتبار سے محصولات کے تعین کے متعلق ماہرین سے مشاورت کی جارہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے سٹی پلانر و محکمہ فینانس کی جانب سے ان تمام اُمور کا آئندہ چند ماہ کے دوران جائزہ لئے جانے کا امکان ہے۔جی ایچ ایم سی کے بجٹ 2014-15ء کے دوران اشتہارات پر محصولات کے حصول کا جو نشانہ مقرر کیا گیا تھا ، اسے پورا کرنے کی ممکنہ کوششوں کا عملاً آغاز کئے جانے کی توقع ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلے میں عہدیداروں کو خصوصی ہدایات جاری کی جارہی ہیں تاکہ نشانہ کی تکمیل کے ساتھ ساتھ سہ ماہی اساس پر محصولات کی وصولی کی رپورٹ حاصل کی جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT