Sunday , September 23 2018
Home / شہر کی خبریں / خانگی کارپوریٹ تعلیمی اداروں کیخلاف سخت کارروائی کے اعلانات کا اداروں سے بے خاطر

خانگی کارپوریٹ تعلیمی اداروں کیخلاف سخت کارروائی کے اعلانات کا اداروں سے بے خاطر

طلبہ اور اولیائے طلبہ کو مایوسی، حکومت کے احکامات نظرانداز، مبہم احکامات سے عمل سے قاصر
حیدرآباد ۔13نومبر(سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے خانگی کارپوریٹ تعلیمی اداروں پر شکنجہ کسنے کے اعلانات کئے جارہے ہیں لیکن اس کا کوئی اثر خانگی تعلیمی اداروں پر نہیں ہو رہا ہے جس کی وجہ سے طلبہ اور اولیائے طلبہ میں مایوسی پیدا ہونے لگی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ خانگی کارپوریٹ اسکول حکومت کے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے من مانی کر رہا ہے لیکن حکومت کے محکمہ تعلیم کی جانب سے اس طرح کی من مانی کو روکنے کے کوئی اقدامات نہیں کئے جا رہے ہیں ۔حکومت نے اسکولی اوقات کو کم کرتے ہوئے انہیں اعتدال کی راہ اختیار کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے اسکولی اوقات معین کئے تھے لیکن اس کے باوجود بیشتر کارپوریٹ اسکولو ں میں ان اوقات پر کوئی عمل آوری نہیں کی جا رہی ہے اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے ان کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی جاسکتی خواہ کوئی اعلان کیا جائے۔اس کے علاوہ حکومت نے جاریہ سال خانگی اسکولوں میں جو نومبرتاڈسمبر کے دوران داخلہ حاصل کرلیتے ہیں ان داخلوں پر امتناع عائد کرنے کی ہدایت جاری کی تھی لیکن اس کے باوجود بیشتر اسکولو ںمیں داخلوں کا عمل جاری ہے اور داخلہ فارمس فروخت کئے جا رہے ہیں۔اولیائے طلبہ کے استفسار پر یہ کہا جار ہا ہے کہ ان داخلہ فارمس کی اجرائی کے بعد اہلیتی امتحان منعقد کیا جائے گا لیکن جو اولیائے طلبہ سرکاری احکام کا تذکرہ کر رہے ہیں انہیں واضح کہا جا رہا ہے کہ ایسے احکام آتے رہتے ہیں لیکن ان کے امور میں حکومت کو مداخلت کا کوئی اختیار نہیں ہے۔وزیر تعلیم کے علاوہ ریاستی حکومت کے بیشتر وزراء اور منتخبہ عوامی نمائندوں کو اس بات سے واقف کروائے جانے کے باوجود کسی قسم کی کوئی کاروائی نہ کئے جانے کے سبب محکمہ تعلیم کی کارکردگی سے عوام میں مایوسی پائی جاتی ہے اور کہا جارہا ہے کہ ریاستی حکومت احکامات کے بجائے اقدامات کا آغاز کرے تو ممکن ہے کہ حالات میں کوئی تبدیلی رونما ہوگی اور اس تبدیلی کے نمایاں اثرات نظر آئیں گے لیکن محکمہ تعلیم کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مبہم احکامات کے سبب وہ بھی ان خانگی تعلیمی اداروں کے خلاف کسی قسم کی کاروائی سے قاصر ہیں ۔ریاستی حکومت نے فیس کے تعین کے سلسلہ میں داخلوں پر روک لگاتے ہوئے تعلیمی پالیسی کے اعلان کا منصوبہ تیار کیا ہے لیکن خانگی کارپوریٹ اداروں کا کہنا ہے کہ حکومت اپنی کاروائی کرتی رہے گی اور ضرورت پڑنے پر اسکول انتظامیہ عدالت سے رجوع ہوتے ہوئے احکام حاصل کرلیں گے اسی لئے انہوں نے اپنے داخلو ںکا عمل جاری رکھا ہے۔

TOPPOPULARRECENT