Saturday , June 23 2018
Home / دنیا / خانگی ہائر کالجوں میں کروڑوں پونڈ کے گھپلے، تحقیقات شروع

خانگی ہائر کالجوں میں کروڑوں پونڈ کے گھپلے، تحقیقات شروع

لندن 24 مئی (سیاست ڈاٹ کام) برطانیہ میں خانگی کالجوں میں کروڑوں پونڈ کے گھپلوں کا انکشاف ہوا ہے اور عوام کے پیسے کو غلط طور پر استعمال کئے جانے کے خلاف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی سربراہ مارگریٹ ہاج نے تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔ برطانوی اخبار ’’دی گارڈین‘‘ کے مطابق خانگی اداروں میں مالی بے ضابطگیوں کا دور 2011 ء کے بعد اُس وقت شروع ہوا جب ہائیر ایجوکیشن کے موجودہ وزیر ڈیوڈ ویلٹس نے قواعد میں اصلاحات کرتے ہوئے پرائیوٹ کالج کو اسٹوڈنٹ لون فینانسنگ استعمال کرنے کی اجازت دی تھی، جس کے بعد ان کالجوں سے 900 ملین پونڈ کا فائدہ اُٹھایا۔ مارگریٹ ہاج نے اس سلسلہ میں کالجوں کی ناقص کارکردگی پر تشویش کا اظہار اُس وقت کیا جب ایک کالج کا سائز تو تین گنا بڑھ گیا مگر اس کی کارکردگی ناقص رہی اور اس کی کلاسوں میں طلباء کی حاضری بھی ناکافی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ نارتھ لندن میں قائم اس کالج میں طلبہ کی حاضری کم ہے

اور اس کو مقامی طور پر ’’کیش پوائنٹ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے کیوں کہ یہ اسٹوڈنٹ فینانس تک آسان اور فوری رسائی کی ضمانت دیتا ہے۔ اس کالج کی خفیہ طور پر فلم بندی کی گئی اور ایک کلاس روم ایسا بھی دکھائی دیا جس میں صرف لیکچرار بیٹھا ہوا ہے جبکہ کوئی طالب علم کلاس میں موجود نہیں تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ قواعد میں نرمی کے بعد بعض غیر مقبول تعلیمی اداروں کو بھی ہائر ایجوکیشن میں بڑی تعداد میں طلبہ داخل کرانے کی اجازت مل گئی تھی جن کو اسٹوڈنٹس فینانس کی طرف سے پیسے دیئے جاتے ہیں۔
اس طرح ٹیکس ادا کرنے والوں کی رقم کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چلا کہ وہ کہاں پر خرچ ہورہی ہے۔ ہاؤس آف کامنس کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیرمین مارگریٹ ہاج ایم پی نے بعض کالجوں میں اسٹوڈنٹس فینانس حاصل کرنے کے بعد کلاسوں میں شرکت نہ کرنے کے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ حکومت اعلیٰ تعلیم کے حصول کی خاطر کروڑوں پونڈ کا بجٹ اس لئے الگ رکھتی ہے تاکہ برطانوی طلبہ آسانی سے قرض لے کر تعلیم حاصل کرسکیں۔ لیکن عوام کے اس پیسے کا غلط استعمال تشویش کی بات ہے اور وہ اس سلسلے میں تحقیقات کرائیں گی۔

TOPPOPULARRECENT