Saturday , December 15 2018

خانہ کعبہ کے دروازے کھول دئے گئے۔ وزیراعظم پاکستان نے فریضہ عمرہ کی تکمیل کی۔ ویڈیو

انسٹاگرام پر پوسٹ کردہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خان‘ مقدس خانہ کعبہ سے باہر آرہے ہیں۔
مدینہ۔وزیراعظم پاکستان کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پہلے بیرونی دورے کی شروعات سعودی عرب سے کرنے والے عمران خان مکہ مکرمہ پہنچ کر چہارشنبہ کے روز فریضہ عمرہ ادا کیا۔مسجد حرام میں عوام کے بڑے ہجوم نے پاکستان کے وزیر اعظم کا استقبال کیا۔

جیو ٹی وی کے مطابق مسجد حرام آمد کے ساتھ خانہ کعبہ کے دروازے عمران خان کے لئے کھول دئے گئے تھے جہاں پر خان اور اس کے ساتھ موجودوفد نے نماز ادا کی۔

انسٹاگرام پر پوسٹ کردہ ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خان‘ مقدس خانہ کعبہ سے باہر آرہے ہیں۔

وزیر اعظم پاکستان اور ان کے وفد کے لئے روضہ اقدسؐ کے دروازے بھی کھول دئے گئے تھے۔

مسجد نبویؐ کے ریاض الجناح میں بھی مذکورہ وفد نے خصوصی نماز ادا کی۔پیر کے روز پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس بات کی جانکاری دی ہے کہ مسٹر خان اور ان کا وفد متحدہ عرب امارات کی قیادت کے دعوت نامہ پر یواے ای بھی جائیں گے۔

منسٹری کے مطابق خا ن کے ساتھ خارجی وزیر ‘ وزیر خزانے اور ان کے معاشی مشیر بھی وفد میں شامل ہیں۔قبل ازیں منگل کے روز پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے مسجد نبویؐ میں نماز بھی ادا کی تھی۔

ان کی آمد پر محمد بن عبدالعزیز انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر خان کا استقبال صوبہ کے گورنر پرنس فیصل بن سلمان بن عبدالعزیز نے کیاتھا۔

اپنے دوروزہ دورے کے موقع پر سابق کرکٹر عمران خان نے مملکت کے ولیعہد پرنس سلمان بن محمد اور وزیر توانائی خالد الفلاح سے بھی ملاقات کی ‘ ان کا دورے کا مقصد سمجھا جارہا ہے کہ تیل کی دولت سے مالامال مملکت سے پاکستان کے لئے معاشی امداد کا حصول ہے۔

View this post on Instagram

وزیر اعظم پاکستان عمران خان سعودی عرب کے دو روزہ سرکاری دورہ کے پہلے مرحلے میں مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ ائرپورٹ پر مدینہ کے گورنرشہزادہ فیصل بن سلمان اور سعودی عرب میں پاکستان کے سفیر خان ھشام بن صدیق، سعودی حکام اور قونصلیٹ کے افسران نے انکا استقبال کیا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر خزانہ اسد عمر، وزیر اطلاعات چودھری فواد حسین اورمشیرتجارت عبد رزاق داؤد بھی وزیر اعظم کے ھمراہ ہیں۔عمران خان اپنے وفد کے ہمراہ روضئہ رسول ؐ پر حاضری دیں گئیں ، نوافل اور مغرب کی نماز ادا کریں گے۔

A post shared by Imran Khan (@imrankhan.pti) on

TOPPOPULARRECENT