Tuesday , August 21 2018
Home / شہر کی خبریں / خبردار … آپ کی آن لائن سرگرمیوں پر کسی کی نظر ہے

خبردار … آپ کی آن لائن سرگرمیوں پر کسی کی نظر ہے

صارفین کی معلومات فراہم کرنے فیس بک سے ہندوستانی امریکی اور دوسری حکومتوں کی درخواستیں
حیدرآباد ۔ 20 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : دنیا بھر میں انٹرنیٹ کا استعمال اس قدر عام ہوگیا ہے کہ لوگوں نے اسے اپنی زندگی کی ضروری چیزوں میں شامل کرلیا ہے ۔ بچے ، جوان ، بوڑھے ، لڑکے ، لڑکیاں غرص بلا لحاظ عمر ہر کوئی انٹرنیٹ کے دیوانہ بن گئے ہیں ۔ فیس بک ، ٹوئیٹر ، انسٹاگرام ، لنکڈن اور واٹس اپ جیسی آن لائن سوشیل میڈیا اور سوشیل نٹ ورکنگ سروسیس سے استفادہ کرتے جارہے ہیں ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ فیس بک وغیرہ پر سرگرم رہ کر فخر کا اظہار بھی کررہے ہیں تاہم ایسے لوگوں کو اندازہ نہیں کہ کوئی ان کی آن لائن سرگرمیوں پر قریبی نظر رکھا ہوا ہے ۔ اسے بآسانی پتہ چل رہا ہے کہ آپ آن لائن پر کس قسم کی گفتگو یا چیاٹنگ کررہے ہیں ۔ کس قسم کے بیانات مواد ، مضامین تبصرے اور تصاویر پوسٹ کررہے ہیں ۔ خاص طور پر فیس بک استعمال کرنے والوں پر دنیاکی بیشتر حکومتوں خفیہ اداروں و تنظیموں کی نظریں لگی ہوئی ہیں ۔ فروری 2004 میں جب فیس بک کی بنیاد ڈالی گئی ۔ اس وقف مارک زکربرگ ، ڈسٹی ماسکووٹنر ، ایڈورڈو یسورین اینڈریو میک کالم اور کریسی ہیوز ( فیس بک کے بانیان ) کے ذہنوں کے کسی گوشے میں بھی یہ خیال نہیں آیا ہوگا کہ ان کی اس سوشیل نیٹ ورکنگ سرویس کو عوام کی آن لائن سرگرمیوں کا پتہ چلانے کا ذریعہ بنادیا جائے گا ۔ حال ہی میں فیس بک کی ایک رپورٹ منظر عام پر آئی جس میں انکشاف کیا گیا کہ دنیا بھر میں حکومتیں اپنے شہریوں کی آن لائن سرگرمیوں سے متعلق تفصیلات کے حصول کے لیے فیس بک سے رجوع ہورہی ہیں ۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ سال 2017 کے ابتدائی 6 ماہ میں مختلف حکومتوں کی جانب سے ڈاٹا فراہم کرنے کی جو درخواستیں موصول ہوئی ہیں ان میں 21 فیصد کا اضافہ ہوا ۔ اس معاملہ میں سرفہرست ممالک میں ہندوستان بھی شامل ہے ۔ فیس بک کا دعویٰ ہے کہ جاریہ سال یعنی 2017 کے پہلے ششماہی میں ہندوستانی حکام کی جانب سے فیس بک استعمال کرنے والوں سے متعلق ڈاٹا طلب کرنے سے متعلق درخواستوں میں گذشتہ سال کے ابتدائی 6 ماہ کی بہ نسبت 55 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ پیر کو فیس بک نے حکومتوں کی طرف سے کی گئیں تازہ درخواستوں کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی جس میں جنوری 2017 تا جون 2017 حکومتوں سے موصول ہوئیں ۔ درخواستوں کے بارے میں اعداد و شمار پیش کئے گئے ۔ اس مدت کے دوران ہندوستانی حکومت نے فیس بک کو ہندوستانی صارفین کی آن لائن سرگرمیوں سے متعلق ڈاٹا فراہم کرنے 9853 درخواستیں پیش کی جو سال 2016 کے دوسرے 6 ماہ کے دوران پیش کردہ 7853 درخواستوں سے کافی زیادہ ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ ہندوستان میں فیس بک کے 11 فیصد صارفین ہیں ۔ جب کہ عالمی سطح پر فیس بک سے ڈاٹا کے حصول کے لیے پیش کردہ درخواستوں میں 12 فیصد ( پہلے ششماہی میں ) ہندوستانی حکومت نے پیش کی جس پر فیس بک نے 54 فیصد درخواستوں پر مثبت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ڈاٹا فراہم کیا ۔ رپورٹ میں فیس بک کا دعویٰ ہے کہ جاریہ سال اس کے صارفین کی آن لائن سرگرمیوں سے متعلق ڈاٹا کے لیے پیش کردہ درخواستوں میں 21 فیصد اضافہ ہوا ۔ اس معاملہ میں امریکہ سرفہرست ہے ۔ امریکی حکومت نے 32716 درخواستیں پیش کی دوسرے نمبر پر ہندوستان ہے جس کی پیش کردہ درخواستوں کی تعداد 9853 رہی ۔ برطانیہ 6845 درخواستوں کے ساتھ تیسرے ، جرمنی 5211 درخواستوں کے ساتھ چوتھے اور فرانس 4700 درخواستوں کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہا ۔۔ ( سلسلہ جاری ہے )

TOPPOPULARRECENT