Thursday , November 23 2017
Home / آپ کے سوال / خدمت خلق وجذبۂ ہمدردی

خدمت خلق وجذبۂ ہمدردی

سوال :   آپ کے اس کالم میں شرعی مسائل اور اس کے احکام بیان کئے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلم سماج میں پھیلی ہوئی برائیوں کی نشاندہی کی جاکر اسلامی نقطہ نظر سے رہبری کی جاتی ہے۔ آج مسلمان میں بداخلاقی، مفاد پرستی ، خود غرصی ، کوٹ کوٹ کے بھر چکی ہے ۔ دوسروں کے کام آنا ، ہمدردی کرنا ، خیر خواہانہ جذبہ رکھنا ناپید ہے ۔ ایک دوسرے کی شکایت کرنا ، احترام کے  خلاف گفتگو کرنا، توہین کرنا عام ہوتے جارہا ہے ۔ ان حالات میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی روشنی میں مذکورہ احوال پر رہبری فرمائی جائے تو بہت بہتر ہے ؟
سید محمد عدیل حسینی، ملک پیٹ

جواب :   اسلام میں اکرام مومن کی کافی اہمیت ہے۔ دوسروں سے متعلق حسن ظن رکھنا اور اچھا سلوک کرنا اخلاقی فریضہ ہے ۔ دوسروں کیلئے آپؐ کے دل میں ہمیشہ ہمدردی اور مہربانی کے جذبات موجزن رہے ۔اس مسئلہ میں آپؐ کے نزدیک اپنے بیگانے ، آزاد اور غلام کی کوئی تمیز  نہ تھی ۔ آپؐ اکثر فرمایا کرتے تھے : ’’ میرے سامنے دوسروں کی ایسی باتیں نہ کیا کرو جنہیں سن کر میرے دل میں ان کے متعلق کوئی کدورت پیدا ہوجائے کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ میں سب سے صاف دل (سلیم الصدر) کے ساتھ ملوں ‘‘ (ابو داؤد : السنن ، 183:5 ، حدیث 4860 : الترمذی 71:5 ، حدیث 3896 ، مطبوعہ قاہرہ 1965 ء) ۔ ایک مرتبہ حضرت عبداللہؓ بن مسعود نے دو افراد کے متعلق آپؐ کو کوئی شکایت پہنچائی ۔ جسے سن کر آپؐ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور آپؐ نے حضرت عبداللہؓ بن مسعود کو کنایۃً فرمایا کہ ’’ اس طرح کی باتیں مجھے نہ پہنچایا کرو ‘‘ (الترمذی ، محل مذکور ، البخاری ، 127:4 ) ۔ اس کے برعکس آپؐ اپنے پاس بیٹھنے والوں کو ترغیب دیا کرتے تھے کہ وہ دوسروںکے حق میں اچھی باتیں کیا کریں۔ ایک موقع پر فرمایا : ’’ لوگوں کی میرے سامنے سفارش کرو تاکہ تم اجر پاؤ اور اللہ ا پنے نبیؐ کی زبان پر جو چاہے فیصلہ جاری کردے (البخاری ، الادب ، مسلم (البر) ، 1026:4 ، حدیث 2627 ) ۔ یہی ہمدردی اور خیر خواہی کا جذبہ تھا کہ آپؐ فرمایا کرتے تھے کہ ’’ میں نے اللہ سے پختہ عہد لے رکھا ہے کہ اگر (ولو بالفرض) میری زبان سے کسی کے حق میں کوئی غیر مفید دعا یا جملہ نکل بھی جائے تو اللہ تعالیٰ متعلقہ فرد کو اس کے بدلے میں رحمت ، دل کی پاکیزگی اور روز قیامت میں قربت عطا فرمادے (مسلم ، 2000:4 ، حدیث 2600 تا 2604 ) ، آپؐ فرمایا کرتے تھے کہ ’’ اخلاق کی بلندی یہ نہیں کہ تم اس کے ساتھ نیکی کرو جو تمہارے ساتھ نیکی کرے اور اس کے ساتھ برائی کرو جو تمہارے ساتھ برائی کرے ، بلکہ صحیح اخلاق تو یہ ہے کہ ہر شخص سے نیک سلوک کرو خواہ وہ تم سے برے طریقہ ہی سے پیش آئے یا تم سے زیادتی کرے‘‘۔ اسی بناء پر آپؐ کے نزدیک نیکی کا مفہوم حسنِ خلق ، یعنی دوسروں سے اچھا برتاؤ تھا ۔ آپؐ کا ارشاد ہے ’’ البر حسن الخلق ‘‘ (مسلم ، 1980:4 ، حدیث 2552 ) ۔ آپ نے فرمایا:’’ ا کمل المؤمنین ایماناً احسنھم خلقا ‘‘ (الترمذی : السنن : 3 ، 469 ، حدیث 1162 ، ابو داؤد 6:5 ، حدیث 4682 )۔ ایمان کی تکمیل اخلاق اور طر ز معاشرت کی تکمیل کے بغیر نہیں ہوسکتی ، فرمایا ’’ ان خیارکم احسنکم اخلاقاً ‘‘ (البخاری ، 121:4 ، کتاب 78 ، باب 39 ) ، یعنی تم میں وہی بہتر ہے جس کا اخلاق دوسروں سے اچھا ہو ۔ ایک بار آپؐ نے فرمایا کہ ’’ اچھے اخلاق والے کو اچھے اخلاق کی وجہ سے روزے دار اور قائم اللیل کا درجہ مل جاتا ہے (ابو داؤد : السنن ، 141:5 ، حدیث 4798 ) آپؐ کے نزدیک حسن خلق سے مراد چہرے کی بشاشت ، بھلائی کا پھیلانا اور لوگوں سے تکلیف دہ امور کا دور کرنا ہے (الترمذی ، 363:4 ، حدیث 20005 ) ۔
صرف یہی نہیں بلکہ آپؐ اس جذبے کو پورے انسانی معاشرے میں رواں دواں دیکھنا چاہتے تھے، ارشاد ہے : تم اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتے جب تک دوسروں کیلئے بھی وہی پسند نہ کرنے لگو جو خود اپنے لئے پسند کرتے ہو ‘‘ (مسلم ، 67:1 ، حدیث 45 ، احمد بن حنبل : مسند ، 272:3 ) ۔ ایک موقع پر فرمایا : ایک دوسرے سے نہ تو رو گردانی اختیار کرو اور نہ ایک دوسرے کے اندرونی معاملات کی خواہ مخواہ ٹوہ لگاؤ اور اے اللہ کے بندو ! سب بھائی بھائی ہوجاؤ ‘‘ (مسلم 1985:4 ، حدیث 2563 ، البخاری 128:4 ، کتاب الادب) ۔ یہی وجہ تھی کہ نہ صرف مسلمان بلکہ غیر مسلم بھی آپؐ کے درِ دولت سے پوری طرح مستفید ہوتے رہے۔

بعد وفات آنکھ، گردہ سے متعلق وصیت کرنا
سوال :  آپ سے معلوم کرنا ہے کہ کیا کوئی مسلمان اپنی زندگی میں اپنے لواحقین کو وصیت کرسکتا ہے کہ بعد انتقال اس کی آنکھیں ، گردے وغیرہ دوسروں کے استعمال کے لئے یعنی لگانے کیلئے دیئے جائیں۔ Donate) کرنے کیلئے) اس بارے میں شرعی احکام کیا ہیں۔ کیا ایسا عمل ثواب کا کام ہوگا یا گناہ ؟ برائے مہربانی معلوم کریں۔ غیر مسلمین میں یہ رواج ہے کہ دواخانوں کو پہلے سے کہہ دیا جاتاہے اور وہ ڈاکٹرز بعد مرنے کے اسے لے جاتے ہیں اور ضرورت مند لوگوں کو آپریشن کے ذریعہ لگاتے ہیں۔
محمد ساجد احمد، نامپلی
جواب :  جس چیز کی وصیت کی جارہی ہے، وصیت کنندہ کا اس کا مالک ہونا ضروری ہے ۔ اگر کوئی شخص غیر مملوکہ چیز کی وصیت کرے تو وہ شرعاً باطل ہے ۔ وصیت کا مفہوم یہ ہے کہ وصیت کنندہ تاحیات جس چیز کا مالک و متصرف ہے بعد وفات وہ چیز موصی لہ ، (جس کے حق میں وصیت کی جارہی ہے) کی ملک ہوگی۔ ازروئے شرع انسان کو اپنی حین حیات اپنے اعضاء فروخت کرنے کا حق نہیں۔ حتی کہ بوقت ’’ اضطرار ‘‘ مردار بھی حلال ہوجاتا ہے لیکن ایسے وقت میں کوئی پیشکش کرے کہ میرا ہاتھ کاٹ لو اور کھاکر اپنی جان بچاو، ایسے وقت بھی انسان کا عضو کاٹ کر استعمال کرنا مباح نہیں۔ حاشیہ ابن عابدین جلد 5 ص : 215 میں ہے : وان قال لہ : اقطع یدی وکلھا لایحل لان لحم الانسان لایباح فی الاضطرار و لکرامتہ ۔ فتاوی خانیہ جلد 3 ص : 404 میں ہے: مضطری یجد المیتۃ وضاف الھلاک فقال لہ اجل : اقطع یدی وکلھا لا یسعہ الامر ۔ اعضاء انسانی سے نفع حاصل کرنا جائز نہیں۔ فتاوی عالمگیری جلد پنجم ص : 354 میں ہے : الانتفاع باجزاء الآدمی لم یجز قیل للنجاسۃ وقیل لکرامتہ وھو الصحیح ۔ نیز انسان کے انتقال کے ساتھ ہی اس کی مملوکہ ہر چیز میں اس کے ورثہ کا حق متعلق ہوجاتا ہے لیکن مرحوم کے جسم اور اس کے اعضا پر اس کے ورثہ کا کوئی حق ثابت نہیں ہوتا کیونکہ وہ اللہ کی امانت ہے ۔ بعد انتقال آدمی جس کا مالک و متصرف نہ رہے ، اس کے متعلق وصیت کرنا شرعاً باطل ہے۔ لہذا اگر کوئی اپنی آنکھ ، گردہ و دیگر اعضاء بعد وفات دوسرے ضرورتمندوں کو دینے کی وصیت کرے تو ایسی وصیت ناقابل نفاذ ہے ۔ بظاہر اس میں انسانی ہمدردی معلوم ہورہی ہے لیکن در حقیقت یہ انسانی عظمت و احترام کے قطعاً منافی ہے۔
سابقہ امتیں اور طلاق کے احکام
سوال :  روز بروز دشمنانِ اسلام ، اسلامی احکامات کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں، چھوٹی سی بات کو میڈیا ایک پہاڑ بناکر پیش کرتا ہے، اکثر و بیشتر طلاق کے مسئلہ کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے ۔ آپ سے التماس یہ ہے کہ آپ براہ کرم یہود و نصاری اور دیگر امتوں کے پاس طلاق کے احکام اور قوانین کیا ہیں بیان فرمائیں تو مہربانی ہوگی ؟
عبدالودود فلاحی

جواب :  سابقہ آسمانی شریعتوں میں طلاق کے احکام سب سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں ملتے ہیں، اگرچہ اس دور کے احکام کی کوئی مستند دستاویز ہمارے پاس نہیں ہے، تاہم موجودہ تو رات میں مرد کو طلاق کا کلی اختیار دیا گیا ہے، البتہ طلاق کے لئے صرف ایک طریقہ مذکور ہے کہ طلاق نامہ لکھ کر دیا جائے۔ موجودہ تو رات کے الفاظ یہ ہیں : ’’ اگر کوئی مرد کسی عورت سے  بیاہ کرے اور پیچھے اس میں کوئی ایسی بیہودہ بات پائے جس سے اس عورت کی طرف اس کا التفات نہ رہے تو وہ اس کا طلاق نامہ لکھ کر اس کے حوالے کرے اور اسے اپنے گھر سے نکالدے اور جب وہ اس کے گھر سے نکل جائے تو وہ دوسرے مرد کی ہوسکتی ہے ۔ اگر دوسرا شوہر بھی اس سے ناخوش رہے اور اس کا طلاق نامہ لکھ کر اس کے حوالے کرے اور اسے اپنے گھر سے نکال دے، یا وہ دوسرا شوہر جس نے اس سے بیاہ کیا ہو مرجائے تو اس کا پہلا شوہر جس نے اسے نکال دیا تھا، اس عورت کے ناپاک ہوجانے کے بعد پھر اس سے بیاہ نہ کرنے پائے کیونکہ ایسا کام خدا وند کے نزدیک مکروہ ہے ، (استثناء 24 : 1 تا 4 ) ۔ یہی حکم حضرت ارمیاء علیہ السلام کے صحیفے میں بھی موجود ہے (یرمیاہ ، 3 : 1 ) اور اسی بناء پر اصل یہودی مذہب میں مرد کو طلاق کا غیر محدود اختیار تھا، اگرچہ بعد میں خاص طور سے گیارھویں صدی عیسوی میں ، علمائے یہود کی طرف سے اس اختیار پر سخت پا بندیاں عائد کردی گئی تھیں (انسائیکلو پیڈیا بری ٹانیکا، مطبوعہ 1950 ء ، 453/7 ، بہ ذیل مادہ (Divorce) ، لیکن موجودہ بائیبل میں مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے طلاق کی اجازت کو نہایت محدود کردیا اور اس صورت کے سوا کہ عورت زنا کی مرتکب ہو ، اسے طلاق دینا ناجائز قرار دے دیا۔ بائیبل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف یہ اقوال منسوب ہیں : جو کوئی اپنی بیوی کو حرام کاری کے سوا کسی اور سبب سے چھوڑ دے وہ اس سے زنا کراتا ہے اور جو کوئی اس چھوڑی ہوئی سے بیاہ کرے وہ زنا کرتا ہے ‘‘ (متی ، 5 : 32 ) اور ’’ وہ اور اس کی بیوی دونوں ایک جسم ہوں گے ، پس وہ دو نہیں بلکہ ایک جسم ہیں، اس لئے جسے خدا نے جوڑا ہے اسے آدمی جدا نہ کرے … جو کوئی اپنی بیوی کو چھوڑ دے اور دوسری سے بیاہ کرے وہ اس پہلی کے برخلاف زنا کرتا ہے۔ (مرقس ، 10 : 9 تا 11 ) ۔ اسی قسم کے احکام متی (9:19) اور لوقا ( 18:16) میںبھی مذکورہ ہیں۔ اسی بناء پر اصل عیسائی مذہب میں مرد کو طلاق دینے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔

صرف بیوی کی زنا کاری کی بنیاد پر وہ کلیسائی عدالتوںمیں طلاق کا دعویٰ کرسکتا تھا لیکن رفتہ رفتہ زناکاری کے علاوہ طلاق کے دعوؤں کے لئے مزید بنیادیں بھی مختلف ادوار میں تسلیم کرلی گئیں، لیکن 1857 ء تک طلاق دینے کا اختیار صرف کلیسا کی عدالتوں  کے پاس رہا ۔ 1857 ء میں انگلستان کے ’’ قانون ازدواجی مقدمات‘‘ (Matrimonial causes Act) نے یہ اختیار کلیسا کی عدالتوں کے بجائے ایک عام عدالت کے حوالے کردیا جو خاص اسی غرض کے لئے قائم کی گئی تھی، بعد میں مختلف قوانین کے ذریعے طلاق کی وجوہ میں اور اضافہ کیا گیا ، یہاں تک کہ اب طلاق حاصل کرنے کے لئے مرد اور عورت دونوں کو مساوی طور پر بہت وسیع بنیادیں میسر ہیں ۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے انسائیکلو پیڈیا بری ٹانیکا، بذیل مادہ (Divorce ۔
اسلام نے نظام طلاق کی اصلاح کے لئے وسیع اخلاقی اور قانونی ہدایات دی ہیں اور اس کے کئی مدارج رکھے ہیں۔ اسلام کا اصل منشاء یہ ہے کہ رشتہ نکاح دائمی ہو اور اس کے ٹوٹنے کی نوبت کم سے کم آئے، چنانچہ مردوں کو یہ تاکید کی گئی ہے کہ وہ عورتوں کی صرف برائی پر نظر رکھیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ ان میں بہت سی بھلائیاں بھی ہوں (4 (النساء) : 19) ، پھر اگر کوئی وا قعی نا قابل بر داشت خرابی محسوس ہو تو حکم دیا گیا ہے کہ وہ فوراً طلاق دینے کے بجائے پہلے بیویوں کو فہمائش کریں اور اگر وہ ناکافی ہو تو اظہار ناراضی کے طور پر اپنا بستر ان سے الگ کرلیں ، یہ بھی ناکافی ہو تو تادیب کی بھی اجازت ہے (دیکھئے 4 (النساء : 34 )  اگر پھر بھی موافقت نہ ہو تو ہدایت کی گئی ہے کہ ایک ثالث مرد کی  طرف سے اور ایک ثالث عورت کی طرف سے بھیجا جائے، اور وہ دونوں مل کر تنازعہ ختم کرنے کی کوشش کریں۔ اگر وہ چاہیں گے تو اس طرح اللہ موافقت پیدا کردے گا (دیکھئے 4 (النساء) : 35 ) ۔ اگر یہ تمام کوششیں ناکام ہوجائیں تو طلاق کی اجازت یہ کہہ کر دی گئی ہے کہ مباحات میں اللہ کو سب سے زیادہ مبغوض طلاق ہے (الترمذی : الجامع ،1 : 142 )

TOPPOPULARRECENT