Monday , June 18 2018
Home / خواتین کا صفحہ / خریداری یا وقت کی بربادی ؟

خریداری یا وقت کی بربادی ؟

خواتین تو شاپنگ کی دلدادہ ہوتی ہیں لیکن مہنگائی کے دور میں شاپنگ کا جنون خود اپنے آپ پر ظلم کے مترادف ہے۔آج کل کے دور میں جہاں فیشن کا رجحان بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے اسی قدر خواتین میں خریداری کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے ۔ کچھ خواتین کیلئے تو خریداری روز کا معمول ہے ۔ مردوں کی نسبت خواتین میں خریداری کا شوق زیادہ پایا جاتا ہے کیونکہ خواتین زیادہ تر اپنا وقت گھروں میں گزارتی ہیں اور گھروں کے کاموں سے اکتا جاتی ہیں اس طرح وہ کچھ لمحے پرسکون محسوس کرتی ہیں۔
خریداری ایک طرح کی ورزش بھی ہوتی ہے اور اس سے انسان حرکت میں بھی رہتا ہے۔ خواتین خواہ ایک شہر سے دوسرے شہر میں جا ئیں وہ خریداری ضرور کرتی ہے ، خریداری انسانی زندگی کی ضرورت تو ہے مگر بہت زیادہ فضول چیزیں خریدنا پیسے کا ضیاع بھی ہے اور وقت کا ضیاع بھی۔ خواتین تو خریداری کی اس قدر شوقین ہوتی ہیں کہ ا پنے اسی شوق کی بدولت ان کو ذہنی سکون ملتا ہے ۔ شاپنگ کی رسیا خواتین کا کہنا ہے کہ شاپنگ کر کے وہ روز مرہ کی پریشانیوں سے چھٹکارا پالیتی ہیں۔ اب یہ شوق پالنا بھی ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ امیر طبقہ خواتین تو شاپنگ کو شوق کے طور پر اختیار کرسکتی ہیں لیکن متوسط طبقہ کی خواتین کیلئے یہ ممکن نہیں ہوتا ۔ حیرت کی بات تو یہی ہے کہ بازاروں میں متوسط طبقے کی خواتین شاپنگ کرتی نظر آتی ہیں۔ کیونکہ اس طبقے نے شاپنگ کو شوق سے زیادہ فیشن بنالیا ہے ۔ یہ طرز عمل انہیں نفسیاتی تسکین تو فراہم کرسکتا ہے لیکن ذہنی پریشانیوں میں اضافے کا باعث بھی بنتا ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ متوسط گھرانوں میں آمدنی کم ہوتی ہے اور اخراجات زیادہ ہوتے ہیں۔ اگر ایسے میں شوقیہ خریداری کی جائے تو مسائل بڑھتے ہی ہیں لیکن اس طبقے کی خواتین محض نقل اور دکھاوے کیلئے نقل میں خریداری کر کے سکون کی بجائے پریشانی مول لیتی ہیں ۔ گزشتہ دور میں خواتین خریداری کو اتنی اہمیت نہیں دیتی تھیں مگر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا ہر طرف فیشن کی فضا چھا گئی۔ فیشن کے جنون نے خواتین کو اس بات سے بھی غافل کردیا ہے کہ مہنگائی کے دور میں گزارا کس قدر مشکل ہورہا ہے ۔ یہ بات سچ ہے کہ کچھ لوگ خریداری کر کے خود کو پرسکون محسوس کرتی ہیں ۔ یہ ایک خاص طبقہ ہوتا ہے کیونکہ ان کے پاس اپنی ضروریات سے زیادہ پیسہ ہوتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT