Thursday , November 15 2018
Home / Top Stories / خشوگی قتل جیسا واقعہ دوبارہ رونما نہیں ہونا چاہئے : عادل الجبیر

خشوگی قتل جیسا واقعہ دوبارہ رونما نہیں ہونا چاہئے : عادل الجبیر

خاطیوں کو کیفرکردار تک پہنچانے اور سچائی کو منظرعام پر لانے کا تیقن ، وزیرخارجہ سعودی عرب کا بیان

جکارتہ ۔ 23 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) ’’جمال خشوگی جیسے ناقد کا قتل ایک ایسا واقعہ ہے جسے دوبارہ کبھی رونما نہیں ہونا چاہئے‘‘۔ سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر نے یہ بات کہی اور یہ بھی کہا کہ ’’مقتول صحافی کے قتل ؍ موت کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائے گی‘‘۔ جکارتہ میں اپنے انڈونیشیائی ہم منصب سے ملاقات کے بعد اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’سعودی عرب کی قیادت اس بات کا پورا پورا خیال رکھے گی کہ خشوگی کی موت ؍ قتل معاملہ میں کسی بھی نوعیت کے سراغ کو چھپایا نہ جائے اور سچائی کو منظرعام پر لاتے ہوئے خاطیوں کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات کچھ اس انداز اور میکانزم سے انجام دی جانی چاہئے کہ آئندہ اس نوعیت کا کوئی واقعہ سر نہ اٹھا سکے۔ جکارتہ کے فاکس نیوز پر عادل الجبیر نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس وقت انہوں نے انڈونیشیا کے وزیرخارجہ ریتنومرسودی سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اس واقعہ میں کچھ لوگوں نے اپنے اختیارات کا بیجا استعمال کرتے ہوئے اپنے حدود سے متجاوز ہونے کی کوشش کی اور ایک ایسا کام کرڈالا جو نہیں ہونا چاہئے تھا اور اس کے بعد اس گھناؤنے کام (قتل) پر پردہ ڈالنے کی بھی کوشش کی۔ اس موقع پر مسٹر مرسودی نے کہا کہ انڈونیشیا کو بھی اس بات کی بیحد تشویش ہیکہ کس طرح استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں خشوگی کو قتل کیا گیا۔ ترکی نے اس قتل کو منصوبہ بند قرار دیا تھا۔ صدر ترکی رجب طیب اردغان بھی اس معاملہ میں مزید لب کشائی کرنے والے ہیں جیسا کہ انہوں نے قبل ازیں کہا تھا کہ خشوگی قتل کی ننگی سچائی سب کے سامنے آجائے گی۔ دریں اثناء اردغان کی حکمراں جماعت کے ترجمان عمر سیلیق نے بھی یہی بات کہی کہ قتل کو انتہائی وحشیانہ انداز میں انجام دیا گیا اور اس پر پردہ ڈالنے کی بھی کوشش کی گئی ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہیکہ 59 سالہ مقتول خشوگی سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کے زبردست ناقد تھے۔ 2 اکٹوبر کو استنبول میں واقع سعودی سفارتخانہ کی عمارت میں داخل ہونے کے بعد وہ باہر ہی نہیں آئے جبکہ ان کی بیوی سفارتخانہ کی عمارت کے باہر انتظار ہی کرتی رہی۔ کچھ دنوں بعد ترک حکومت کے ایک دریعہ نے بتایا کہ خشوگی گمشدگی معاملہ میں پولیس کا یہ خیال ہیکہ سعودی کی ایک ’’مخصوص ٹیم‘‘ کو استنبول بھیج کر خشوگی کا قتل کروایا گیا۔ 17 اکٹوبر کو ترکی کے ایک اخبار نے یہ خبر بھی شائع کی کہ خشوگی کو عمارت کے اندر اذیتیں دی گئیں۔ بہرحال اس واقعہ کے رونما ہونے کے تقریباً دو ہفتہ بعد سعودی نے اپنی خاموشی توڑتے ہوئے یہ اعتراف کیا کہ سفارتخانہ میں کسی بات پر پیدا ہوئے تنازعہ کے بعد خشوگی کا قتل کردیا گیا۔ سعودی کی اس وضاحت کو نہ صرف سعودی کے دوستوں بلکہ دشمنوں نے بھی مسترد کردیا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی پیر کے روز وائیٹ ہاؤس میں اخباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی وضاحت سے وہ (ٹرمپ) مطمئن نہیں ہیں اور انہیں توقع ہیکہ انہیں اس بارے میں بہت جلد مزید معلومات حاصل ہوگی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT