Wednesday , December 19 2018

خشوگی قتل کے ترکی کے پاس متعدد ثبوت موجود : رپورٹ

ولیعہد محمد بن سلمان کو کلین چٹ دینا حیرت انگیز، پانچ افراد کو سزائے موت کا سامنا
15 رکنی قاتلوں کے ٹولے نے منصوبہ بند طریقہ سے قتل کیا اور بعدازاں بین الاقوامی کالس کئے

استنبول ۔ 16 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) صحافی جمال خشوگی کے قتل کے کئی ایسے ثبوت جو ترکی کے پاس ہیں، ان کا سعودی عرب کی جانب سے دیئے جانے والے بیانات سے کوئی تال میل نہیں ہے جن میں ایک دوسری آڈیو ریکارڈنگ بھی شامل ہے۔ ترکی کے ایک اخبار نے جمعہ کو یہ رپورٹ دی جس کا واضح مطلب یہ ہیکہ ترکی اور سعودی عرب کے نظریات میں کوئی یکسانیت نہیں ہے۔ دوسری آڈیو ریکارڈنگ جو 15 منٹ طویل ہے، میں یہ انکشاف کیا گیا ہیکہ خشوگی کا قتل منصوبہ بند تھا۔ اخبار حریت نے یہ بات بتائی۔ اب بات کرتے ہیں سعودی پراسیکیوٹر کی جس نے جمعرات کے روز ایک بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ خشوگی قتل میں پانچ سعودی شہریوں کو سزائے موت کا سامنا ہے جبکہ مملکت کے ولیعہد محمد بن سلمان کو قتل میں ملوث نہ بتا کر کلین چٹ دی گئی ہے۔ 59 سالہ خشوگی ولیعہد محمد بن سلمان کے زبردست نقاد تھے جنہیں 2 اکٹوبر کو استنبول میں واقع سعودی سفارتخانہ میں قتل کرنے کے بعد ان کی نعش ضائع کردی گئی تھی۔ ترکی کا یہ استدلال ہیکہ خشوگی کو قتل کرنے کے مقصد سے ہی سعودی کی ایک ٹیم کو استنبول روانہ کیا گیا تھا جنہوں نے اپنا ’’مشن‘‘ بخیروخوبی پورا کیا۔ دوسری طرف صدر ترکی رجب طیب اردغان نے بھی کہا تھا کہ خشوگی کے قتل کے احکامات انتہائی اعلیٰ سطحی عہدیداروں میں سے کسی نے جاری کئے ہیں تاہم اردغان نے بھی محمد بن سلمان کی جانب اشارہ کرنے سے گریز کیا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ روزنامہ حریت کے حکومت نواز کالم نگار عبدالقدیر سالوی نے دعویٰ کیا کہ پہلی وائس ریکارڈنگ جو صرف سات منٹ پر مشتمل تھی، کی سماعت کے بعد یہ پتہ چلتا ہیکہ خشوگی کا قتل گلا گھونٹ کر کیا گیا تاہم دوسرا ٹیپ جو خشوگی کے سعودی سفارخانہ میں داخلہ سے صرف چند منٹ قبل ریکارڈ کیا گیا تھا، سے صاف ظاہر ہوتا ہیکہ خشوگی کا قتل منصوبہ بند طریقہ سے کیا گیا تھا۔ دوسرے ٹیپ سے یہ ثابت ہوجاتا ہیکہ ’’15 رکنی قاتلوں کا ٹولہ‘‘ ہوٹل کے اندر بڑے ہی پُرسکون انداز میں بیٹھا ہوا ہے اور خشوگی کو قتل کرنے کے طریقہ پر تبادلہ خیال کررہا ہے۔ اس وقت تک خشوگی سفارتخانہ کی عمارت میںداخل نہیںہوا تھا۔ ترکی کے پاس اس بات کے ثبوت بھی ہیں کہ قتل کے بعد قاتلوں کے ٹولے نے بین الاقوامی فون کالس بھی کئے تھے۔ سعودی پراسیکیوٹر نے جمعرات کو کہا کہ خشوگی قتل معاملہ میں 11 افراد ملوث ہیں جبکہ 21 افراد اس وقت پولیس تحویل میں ہیں جن میں سے پانچ کو سزائے موت دی جائے گی جنہوں نے خشوگی کے قتل کا حکم جاری کیا تھا اور اس پر عمل آوری کی تھی۔

TOPPOPULARRECENT