Wednesday , November 21 2018
Home / Top Stories / خشوگی کی دوران پوچھ گچھ موت سے سعودی عرب کا اعتراف متوقع

خشوگی کی دوران پوچھ گچھ موت سے سعودی عرب کا اعتراف متوقع

شاہ سلمان سے پامپیو کی ملاقات ، ٹرمپ نے چند بدمعاش عناصر کے ہاتھوں موت کا شبہ ظاہر کیا، امریکی سنیٹرس کی تنقید
ریاض ۔ 16 اکتوبر ۔(سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پامپیو نے آج یہاں سعودی عر ب کے شاہ سلمان سے ملاقات کی اور جرنلسٹ جمال خشوگی کی گمشدگی کے بارے میں جواب طلب کیاجبکہ امریکی میڈیا میں یہ اطلاعات گشت کررہی ہیں کہ مملکت سعودی عرب بالآخر اب اس اعتراف کی تیاری کررہا ہے کہ جمال خشوگی ایک غیرمنظم تفتیش کے دوران فوت ہوگئے ۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز شاہ سلمان سے ٹیلی فون پر بات چیت کے بعد کہا تھا کہ ’’خشوگی کی گمشدگی کیلئے ’’چند بدمعاش ہلاک کنندگان‘‘ کو مورد الزام ٹھہرایا جاسکتا ہے‘‘ ۔ خشوگی اپنی شادی سے متعلق دستاویزات کے ضمن میں 2اکتوبر کو استنبول میں واقع سفارتخانہ میں داخل ہوئے تھے ۔ جس کے بعد دوبارہ نظر نہیں آسکے۔ اس مسئلہ پر تنازعہ شدت اختیار کئے جانے کے بعد ٹرمپ نے پامپیو کو سعودی عرب روانہ کیا تھا اور وزارت خارجہ ، ان کے دورہ کو سعودی قیادت سے دوبدو ملاقات قرار دیا تھا ۔ شاہ سلمان سے بات چیت کے بعد پامپیو آج رات طاقتور ولیعہد محمد بن سلمان سے ڈنر پر بات چیت کی ۔ قبل ازیں موصولہ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب ایک رپورٹ تیار کررہا ہے ، باور کیا جاتا ہے کہ اس رپورٹ میں یہ اعتراف کرلیا جائے گا کہ ناراض جرنلسٹ جمال خشوگی استنبول میں واقع اس (سعودی عرب ) کے سفارتخانہ میں پوچھ گچھ کے دوران فوت ہوگئے ۔ خشوگی کے پراسرار حالات میں لاپتہ ہونے کے بعد سے مسلسل یہ اندیشے ظاہر کئے جارہے ہیں کہ ترکی میں وہ استنبول کے سفارتخانہ میں فوت ہوگئے۔ اس واقعہ پر دنیا بھر میں افسوس و برہمی کااظہار کیا جارہا ہے۔ مزید برآں امریکہ میں وہ مستقل شہری کی حیثیت سے جائز قانونی طورپر مقیم تھے اور روزنامہ واشنگٹن پوسٹ کے لئے کام کررہے تھے ۔ اس واقعہ کے بعد امریکہ کے متعدد قانون سازوں نے سعودیوں کے ساتھ طئے شدہ 110 ڈالرس مالیتی بڑے دفاعی سمجھوتوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ دوسری طرف امریکہ کی کئی سرکردہ کمپنیوں کے سربراہان ، سی ای اوز اور اخباری نمائندوں نے سعودی عرب میں عنقریب منعقد شدنی فینانس کانگریس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دوشنبہ کو سعودی عرب کے شاہ سلمان سے بات چیت کی تھی اس دوران انھوں ( شاہ سلمان ) نے جرنلسٹ کے لاپتہ ہونے کے کسی واقعہ سے مکمل لاعلمی کا اظہار کیا تھا ۔

سرکاری طورپر سعودی عرب مسلسل یہ اصرار کررہا ہے مذکورہ جرنلسٹ اگرچہ اس کے قونصل خانہ سے واپس جاچکے تھے لیکن تاحال اس کا کوئی ثبوت نہیں دے سکا ہے۔ صدر ٹرمپ جو اس ضمن میں سعودی عرب کو سنگین عواقب کی دھمکی دے چکے ہیں اپنے وزیر خارجہ مائیک پامپیو کو سعودی رہنما سے بات چیت کے لئے روانہ کرچکے ہیں ۔ جمال خشوگی کے پراسرارانجام کے بارے میں عالمی سطح پر رنج و غم اور مذمت کے درمیان سی این این نے خبر دی ہے کہ سعودی ذمہ داران ایک رپورٹ تیار کررہے ہیں جس میں یہ اعتراف کرلیا جائے گا کہ پوچھ گچھ کے دوران ہونے والی غلطی کے نتیجہ میں خشوگی کی موت ہوگئی۔ اس نیوز چینل نے دو نامعلوم ذرائع کے حوالے سے کہا کہ پوچھ گچھ کامقصد ترکی سے ان (خشوگی) کا اغواء کرنا تھا ۔ ’’ایک ذریعہ نے کہا کہ سعودی رپورٹ میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ فضائی منظوری اور شفافیت کے بغیر پوچھ گچھ کی گئی تھی اور اس میں ملوث تمام افسران کو ذمہ دار قرار دیا جائے گا ‘‘ ۔ ٹرمپ نے آج دن میں کہاکہ (سعودی) حکومت میں شامل بعض بدمعاش و شرپسند عناصر نے یہ غیرانسانی حرکت کی ہے لیکن امریکہ کے بعض سرکردہ قانون سازوں نے ٹرمپ کے ظاہر کردہ اس خیال پر سخت مذمت و برہمی کا اظہار کیا ہے کہ سعودی عرب کے سفارتخانہ میں انتہائی وسیع تر و منصوبہ انداز میں خشوگی کا قتل محض چند بدمعاش و شرپسند عناصر نے کیا ہے ۔ سنیٹر کروان بولن نے کہاکہ ٹرمپ کی اس دلیل سے حقیقت کی خلاف ورزی ہوئی ہے ۔ بولن نے مزید کہا کہ ’’(جمال خشوگی کو ہلاک کرنے کے ) احکام اوپر سے آئے تھے ۔ اس گھناؤنے اور وحشیانہ جرم کی پردہ پوشی کی کوشش میں امریکہ کو ملوث نہیں ہونا چاہئے ‘‘ ۔ سنیٹر مارک وارنر نے کہا کہ ’’یہ قیادت نہیں ہوتی ۔ جمال خشوگی کی گمشدگی کے بارے میں ہمیں سعودیوں سے جواب کی ضرورت ہے۔ صدر (ٹرمپ) کو اس کوشش میں قیادت کرنا چاہئے اور انسانی حقوق کیلئے کھڑا ہونا چاہئے ‘‘ ۔ سنیٹر مارکے نے کہاکہ ’’ٹرمپ کسی ٹھوس آزادانہ تحقیقات کے بغیر ہی جمال خشوگی کے بارے میں سعودی عرب کی کہانی کو قبول کررہے ہیں جس سے صرف اُن کے آمرانہ رویہ کو مزید تقویت ہوگی ‘‘۔ سنیٹر ڈک ڈربن نے امریکہ کی طرف سے سخت ترین ردعمل کی ضرورت پر زور دیا۔

TOPPOPULARRECENT