Sunday , November 19 2017
Home / ہندوستان / خشک سالی سے 6 لاکھ 50 ہزار کروڑ کا نقصان

خشک سالی سے 6 لاکھ 50 ہزار کروڑ کا نقصان

متاثرہ علاقوں میں صورتحال کی بہتری کیلئے مزید 6 ماہ درکار
نئی دہلی ۔ 11 ۔ مئی : ( سیاست ڈاٹ کام) : ملک کی 10 ریاستوں میں خشک سالی سے معیشت کو 6,50,000 کروڑ کے نقصانات کا تخمینہ لگایا گیا ہے ۔ جب کہ 256 اضلاع میں 33 کروڑ لوگ سنگین صورتحال سے دو چار ہیں ۔ ایک مطالعاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ 2 سال سے امساک باران ، آبی ذخائر میں پانی کی قلت اور زیرزمین پانی کی سطح میں گراوٹ سے مہاراشٹرا اور کرناٹک جیسی 10 ریاستوں میں خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں صورتحال ابتر ہوگئی ہے ۔ سرسری جائزہ رپورٹ میں کہا گیا کہ خشک سالی سے قومی معیشت کو 6,50,000 کروڑ یا 100 بلین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ۔ اگرچیکہ جاریہ سال بہترین مانسون کی پیش قیاسی کی گئی ہے لیکن خشک سالی کا اثر مزید 6 ماہ تک رہے گا کیوں کہ آبی ذخائر بھرنے اور کاشتکاری کی سرگرمیوں کا احیاء کرنے میں مزید وقت لگے گا ۔ مطالعاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ حکومت ، ایک یا 2 ماہ کے لیے پانی ، غذا اور صحت پر فی کس 3 ہزار روپئے خرچ کرسکتی ہے جب کہ 33 کروڑ لوگ خشک سالی کی مصیبتوں سے دوچار ہیں اور ہر ماہ حکومت کے خزانہ پر 1,00,000 کروڑ بوجھ عائد ہورہا ہے ۔ علاوہ ازیں برقی اور زرعی کھاد پر سبسیڈی کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے ۔ معاشی محاذ پر خشک سالی کے اثرات کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ معاشی وسائل ، ترقی سے امداد میں تبدیل ہوگئے ہیں اور دیہاتوں سے نقل مقام کے باعث شہری علاقوں کی سہولیات ( انفراسٹرکچر ) پر دباؤ بڑھ گیا ہے ۔ خشک سالی سے متاثرہ اضلاع میں زرعی معیشت اور مویشیوں سے محرومی کے باعث نہ صرف قرضوں میں اضافہ ہوگا بلکہ بچوں اور خواتین کی صحت متاثر ہوسکتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT