Thursday , December 14 2017
Home / شہر کی خبریں / خصوصی موقف کے مطالبہ پر آندھرا پردیش بند کا ملا جلا رد عمل

خصوصی موقف کے مطالبہ پر آندھرا پردیش بند کا ملا جلا رد عمل

کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا ۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے کئی قائدین و کارکن گرفتار ‘ بس خدمات متاثر
وجئے واڑہ 29 اگسٹ ( پی ٹی آئی ) آندھرا پردیش کیلئے خصوصی زمرہ کا موقف دینے کے مطالبہ پر وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی جانب سے معلنہ ریاست گیر بند کا آج ملا جلا رد عمل رہا اور بند کسی ناخوشگوار واقعہ کے بغیر پرامن رہا ۔ بند کے دوران سڑکوں پر نکل آنے والے پارٹی کے سینکڑوں کارکنوں اور قائدین کو پولیس نے یا تو احتیاطی حراست میں لے لیا یا پھر انہیں گرفتار کرلیا گیا ۔ آندھرا پردیش کے ڈائرکٹر جنرل پولیس جے وی راموڈو نے کہا کہ بند کے دوران ریاست بھر میں کہیں سے بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آنے کی اطلاع نہیں ملی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاست زائد از 1,500 افراد کو جن میں وائی ایس آر سی پی کے کچھ قائدین بھی شامل ہیں یا تو احتیاطی حراست میں لیا گیا ہے یا پھر انہیں احتیاطی طور پر گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ وائی ایس آر کانگریس کے سربراہ جگن موہن ریڈی نے الزام عائد کیا کہ چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو نے اپنا دورہ دہلی منسوخ کردیا ہے اور انہوں نے آج دن بھر کے بند کو ناکام بنانے کیلئے کابینہ کا اجلاس منعقد کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آندھرا پردیش ریاست کو خصوصی موقف دینے کے مطالبہ پر ریاستی اور مرکزی حکومتوں کے رویہ کے خلاف معلنہ ریاست گیر بند بہت کامیاب رہا ہے اور سماج کے تمام طبقات نے رضاکارانہ طور پر نبد میں حصہ لیا ہے ۔ وائی ایس آر کانگریس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پارٹی تلگودیشم حکومت پر سخت تنقید کرتی ہے جس نے بند کو ناکام بنانے کیلئے طاقت کا استعمال کیا ہے اور پارٹی کے قائدین اور کیڈر کو گرفاتر کرلیا گیا ہے ۔ پارٹی نے الزام عائد کیا کہ تلگودیشم حکومت اب عوام کی نظروں میں آشکار ہوگئی ہے ۔ جگن موہن ریڈی نے بھی برسر اقتدار تلگودیشم سے ‘ جو این ڈی اے کی حلیف ہے ‘ کہا کہ وہ اپنے وزرا کو مرکزی کابینہ سے علیحدہ کرلے کیونکہ مرکزی حکومت ریاست کو خصوصی موقف دینے میں ناکام رہی ہے ۔ وجئے واڑہ میں پولیس نے وائی ایس آر کانگریس کے قائدین کو قبل از وقت ہی حراست میں لے لیا اور کچھ کو گھطروں میں روک دیا ۔ تاہم وائی ایس آر کانگریس کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ پارٹی کے بیشتر اہم قائدین کو یا تو حراست میں لے لیا گیا یا پھر انہیں گھروں میں نظربند کردیا گیا ۔ کرشنا ضلع میں سابق وزیر کے پارتا سارتھی اور سابق رکن اسمبلی وی رادھا کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ وہ آر ٹی سی ڈپو پر احتجاج کر رہے تھے ۔ نیلور ضلع میں رکن پارلیمنٹ ایم راج موہن ریڈی کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ وشاکھاپٹنم ضلع میں پارٹی کے جنرل سکریٹری وجئے سائی ریڈی کو کچھ دوسرے قائدین کے ساتھ اس وقت گرفتار کیا گیا جبکہ وہ جگدمنا سنٹر پر دھرنا منعقد کر رہے تھے ۔ سی پی آئی اور سی پی ایم کے قائدین نے بھی بند میں حصہ لیا تھا اور جب وہ احتجاجی مارچ کی قیادت کر رہے تھے انہیں حراست میں لے لیا گیا ۔ سی پی ایم کے ریاستی جنرل سکریٹری پی مدھو کو وجئے واڑہ میں احتجاج کے دوران گرفتار کرلیا گیا ۔ کئی مقامات پر آر ٹی سی بسوں کو ڈپوز سے نکلنے کا موقع نہیں دیا گیا جبکہ ان کی خدمات شام میں بحال ہوگئی تھیں۔ بند کی وجہ سے آر ٹی سی مسافرین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ بند کا ریلوے ٹریفک پر کوئی اثر نہیں ہوا ۔ تعلیمی اداروں نے رکھشا بندھن تہوار کی وجہ سے پہلے ہی تعطیل کا اعلان کردیا تھا ۔ وشاکھاپٹنم میں بند کا جزوی اثر رہا اور یہاں بس خدمات متاثر نہیں ہوئیں۔ وائی ایس آر کانگریس نے مطالبہ کیا کہ چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو ریاست کو خصوصی موقف دینے کے مسئلہ پر اپنے موقف کی وضاحت کریں۔

TOPPOPULARRECENT