Saturday , December 16 2017
Home / آپ کے سوال / خطبہ کے دوران بیٹھنے کا طریقہ

خطبہ کے دوران بیٹھنے کا طریقہ

سوال :  جمعہ کے دن خطیب صاحب جب خطبہ شروع کریں تو مصلیوں کو کس طرح بیٹھنا چاہئے ۔ بعض دو زانوں بیٹھتے اور کوئی چار زانوں ، صحیح اسلامی طریقہ کیا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ چونکہ خطبہ نماز جمعہ کا حصہ ہے اس لئے دو زانوں بیٹھنا ضروری ہے ۔ میں حتی المقدور کوشش کرتا ہوں کہ اسی کے مطابق بیٹھوں  لیکن عادت نہ ہونے کی وجہ سے نہیں بیٹھ سکتا اور ہئیت تبدیل کردیتا ہوں۔ شرعی احکام سے آگاہ کریں۔
محمد یعقوب ، بلہاری
جواب :  جمعہ کے خطبہ کے دوران قعدہ میں بیٹھنے کے مانند بیٹھنا مستحب ہے۔ حسب سہولت بیٹھنے کی گنجائش ہے کیونکہ خطبہ عملی طور پر اور حقیقی طور پر نماز نہیں ہے۔ نماز کے حکم میں ہے ۔ عالمگیری جلد اول ص : 178 میں ہے : اذا شھد الرجل عند الخطبۃ ان شاء جلس محتبئاً أو متربعا أو کما تیسرلائہ لیس بصلاۃ عملا و حقیقۃ کذا فی المضمرات و یستحب ان یقعد کما یعقد فی الصلاۃ کذا فی معراج الدرایۃ۔

امام کی تابعداری میں مقتدی کا سجدہ کرنا
سوال :  ظہر کی پہلی رکعت میں امام صاحب نے بھول کر بلند آواز سے سورہ فاتحہ کی تلاوت کی ۔ سورہ فاتحہ کے اختتام پر ان کو احساس ہوا ، پھر انہوں نے سری نماز پڑھائی اور آخر میں سجدہ سہو کیا ۔ ایک صاحب تیسری رکعت میں شامل ہوئے ۔ انہوں نے بھی امام کے ساتھ سجدہ سہو کیا ۔ آخر میں سلام پھیرنے کے بعد انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ امام صاحب نے سجدہ سہو کیوں کیا تھا ۔ میرے بتانے پر انہوں نے ایک سوال کیا کہ جب وہ امام کی غلطی میں پہلی رکعت میں شریک ہی نہیں تھے تو کیا ان کو سجدہ سہو کرنا لا زمی تھا یا نہیں۔ اس کا میرے پاس کوئی جواب نہ تھا ۔ آپ سے جواب کی درخواست ہے ؟
محمد فیروز ، کمار واڑی
جواب :  شرعاً نماز میں امام کے سہو کی بناء امام اور مقتدی سب پر سجدہ سہو لازم ہوتا ہے ۔ سجدہ سہو کیلئے مقتدی کا بوقت سہو امام کی اقتداء میں ہونا شرط نہیں۔ اگر وہ سہو کے بعد اقتداء کرے تو بھی امام کی تابعداری میں اس کو سجدۂ سہو کرنا لازم ہوگا ۔ عالمگیری جلداول ص : 128 میں ہے : سہو الامام یوجب علیہ و علی من خلفہ السجود کذا فی المحیط ولا یشترط ان یکون مقتدیا بہ وقت السھوحتی لو ادرک الامام بعد ماسھا یلزمہ ان یسجد مع الامام تبعالہ۔

بیوی کاکھانا نہیں پکانا
سوال :  میرا لڑکا بیرون ملک اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ مقیم ہے ۔ جب تک بہو ہمارے گھر میں تھی وہ پکوان اچھا کیا کرتی تھی ، کوئی شکایت نہیں تھی ، جب سے وہ شوہر کے پاس سعودیہ گئی ہے ۔موقع، بے موقع ہوٹل سے لانے کا مطالبہ کرتی ہے ۔ جب شوہر سمجھانے کی کوشش کرتا ہے تو کہتی ہے کہ اسلام میں بیوی پر پکوان کرنا نہیں ہے ۔ جب لڑکا مثالیں دیتا ہے کہ تمہاری والدہ ، بہنیں تو سب پکوان کرتی ہیں۔ میری ماں اور بہنیں سب کرتی ہیں تو وہ قبول نہیں کرتی ۔ شرعی لحاظ سے کیا بیوی پر پکوان کرنا لازم ہے یا نہیں ؟
نام مخفی، ای میل
جواب :  فقہاء نے صراحت کی ہے کہ پکوان کرنا بیوی پر دیانۃ واجب ہیں اور اگر اس کی والدہ اور بہنیں اپنے گھروں میں پکوان کرتی ہیں تو اس کو شرعاً کوئی حق نہیں کہ وہ شوہر سے تیار کھانا فراہم کرنے کا مطالبہ کرے ۔ البتہ اگر وہ اس گھرانے سے ہے جس کے گھر کی خواتین کام و کاج نہیں کرتی ہیں، بیمار ہے ، پکوان کرنا دشوار ہے تو ایسی صورت میں شوہر کے لئے تیار شدہ کھانا فراہم کرنا ضروری ہوگا ۔ عالمگیری جلد اول ص : 578 میں ہے : قال الفقیہ ابواللیث رحمہ اللہ تعالیٰ ان امتنعت المرأۃ عن الطبخ والخبز انما یجب علی الزوج ان یاتیھا بطعام مھیأ اذا کانت من بنات الاشراف لا تخدم نفسھا فی اھلھا او لم تکن من بنات الاشراف لکن بھا علۃ تمنعھا من الطبخ والخبر واما اذا لم تکن کذلک فلا یجب علی الزوج ان یا تیھا بطعام مھیا کذا فی الظھیرۃ قالوا ان ھذہ الأعمال واجبۃ علیھا دیانۃ وان کان لا یجبرھا القاضی کذا فی ال بحر الرائق۔

خلع میں رقم کا مطالبہ
سوال :  شادی ہوکر چار ماہ نہیں گزرے کہ میاں بیوی میں اختلافات پیدا ہوگئے اور لڑکی غلط رویہ کی بناء شوہر کے ساتھ رہنے کیلئے قطعاً تیار نہ تھی۔ طلاق کا مطالبہ ہوا تو شوہر نے پچاس ہزار روپئے دینے پر طلاق دیدینے کا اظہار کیا ۔ لڑکی والوں نے قبول کرلیا ۔ شوہر نے طلاق دیدی۔
محمد ادریس ، فلک نما
جواب :  شرعاً کسی معاوضہ کے بدل رشتہ نکاح کو زائل کرنے کا نام خلعہ ہے ۔ ہر وہ چیز جو مہر کے طور پر دی جاتی ہے ۔ خلع میں معاوضہ ہوسکتی ہے ۔ پس شوہر کے پچاس ہزار روپئے  کے مطالبہ کو بیوی نے قبول کرلیا، جس پر شوہر نے طلاق دیدی تو طلاق واقع ہوگئی ، بیوی پر معاوضہ کو ادا کرنا لازم ہوگیا اور طلاق بائن ہوگی جس میں رشتۂ نکاح ختم ہوجائے گا ۔ عالمگیری جلد اول ص :797  میں ہے : ماجاز ان یکون مھر جاز ان یکون بدلافی الخلع کذا فی الھدایۃ۔ اور ص : 495 میں ہے : ان طلقھا علی مال فقبلت وقع الطلاق ولزمھا المال وکان الطلاق بائنا کذا فی الھدایۃ۔
مقتدی کا امام سے قبل سجدہ سے اٹھنا
سوال :  میں جامع مسجد میں ظہر کی نماز ادا کر رہا تھا ، امام صاحب سجدہ میں تھے ، میںنے اچانک کوئی آواز سنی تو یہ سمجھا کہ امام صاحب نے تکبیر کہی ہے ، میں سجدہ سے اپنا سر اٹھالیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ امام اور سارے مقتدی سجدہ میں ہیں۔پھر امام صاحب نے تکبیر کی تو سب سجدہ سے اٹھے۔
آپ سے دریافت کرنا یہ ہے کہ کسی وجہ سے غلط فہمی میں مقتدی امام سے قبل سجدہ سے سر ا ٹھائے تو کیا حکم ہے ؟
محمد عبدالمنان، امان نگر
جواب :  اگر مقتدی امام سے قبل رکوع یا سجدہ سے اٹھ جائے تو اس کو چاہئے کہ وہ رکوع یا سجدہ میں واپس ہوجائے۔ اس کی وجہ سے وہ دو رکوع یا دو سجدے شمار نہیں ہوں گے۔ ایک ہی رکوع اور ایک ہی سجدہ متصور ہوگا۔ عالمگیری جلد اول ص : 90 میں ہے ۔ اذا رفع المقتدی رأ سہ من ا لرکوع اور السجوع قبل الامام ینبغی ان یعود ولا یصیر رکو عین و سجود ین کذا فی الخلاصۃ۔
خطبہ کے دوران پانی پینا
سوال :  جمعہ کے دن امام کے خطبۂ جمعہ کے دوران اگر کوئی شخص پانی پیئے تو شرعاً کیا حکم ہے ؟
نام …
جواب :  خطبہ کے دوران وہ چیزیں حرام ہیں جو نماز میں حرام ہیں ۔ بناء بریں امام کے خطبہ جمعہ کے دوران کھانا یا پینا مناسب نہیں۔ عالمگیری جلد اول ص : 178 میں ہے : و یحرم فی الخطبۃ ما یحرم فی الصلاۃ حتی لاینبغی ان یاکل او یشرب فی الخطبۃ ھکذا فی الخلاصۃ ۔

تشھد سے قبل امام کا سلام پھیرنا
سوال :  میں مغرب کی تیسری رکعت میں شامل ہوا جبکہ امام قعدہ میں تھے ۔ میں تشھد شروع ہی کی تھی کہ امام صاحب نے سلام پھیردیا۔ ایسی صورت میں کیا مجھے تشھد مکمل کرنا چاہئے تھا یا نماز کے تکمیل کیلئے کھڑا ہوجانا چاہئے تھا۔
نام …
جواب :  اگر کوئی شخص جماعت میں قعدۂ اولیٰ یا قعدہ اخیرہ میں شریک ہو اور تشھد پڑھنے سے قبل امام تیسرے رکعت کیلئے کھڑے ہوجائے یا قعدہ اخیرہ میں سلام پھیردے تو ایسی صورت میں مقتدی کو تشھد مکمل کر کے کھڑا ہونا چاہئے اور یہی قول مختار ہے، تاہم وہ تشھد مکمل کئے بغیر کھڑا ہوجائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ عالمگیری جلد اول ص : 90 میں ہے : اذا ادرک الامام فی التشھد قام الامام قبل ان یتم المقتدی او سلم الامام فی آخر الصلاۃ قبل ان یتم المقتدی التشھد فی المختار أن یتم التشھد کذا فی الغیاثیۃ وان لم یتم اجزأہ۔

طلاق کی عدت
سوال :  شوہر نے بیوی کو ناپاکی کے ایام میں طلاق دی تو عدت کا اعتبار کب سے ہوگا ؟
نام مخفی
جواب :  شرعاً طلاق پاکی کی حالت میں دی جانی چا ہئے اور اگر کوئی ناپاکی کے ایام میں دے تو طلاق واقع ہوجائے گی اور ناپاکی کے ایام عدت میں شمارنہ ہوں گے ۔ کامل تین ناپاکی کے ایام گزرنا غیر حاملہ مطلقہ کی عدت کیلئے لازم ہیں۔ عالمگیری جلد اول ص : 527 میں ہے : اذا طلق امرأتہ فی حالۃ الحیض کان علیھا الاعتداء بثلاث حیض کوامل ولا تحسب ھذہ الحیضۃ من العدۃ کذا فی الظھیریۃ۔

نکاح کے فوری بعد ولیمہ
سوال :  شریعت میں بعد از نکاح جو تقریب / طعام وغیرہ کا انتظام کیا جاتا ہے آیا وہ تعریف ولیمہ میں داخل ہے اور ولیمہ کس دن کرنا سنت ہے ؟ کیا ولیمہ کیلئے صحبت شرط ہے ؟ کیا نکاح کے دن ولیمہ کیا جاسکتا ہے ؟ بلا لحاظ استطاعت کتنے لوگ کا ولیمہ کی تقریب کرنا چاہئے ؟ ولیمہ کی تقریب کا سنت طریقہ کیا ہے ؟
محمد جاوید، مراد نگر
جواب :  ایجاب و قبول کے بعد جب میاں بیوی کے درمیان ملاپ (صحبت یا خلوت صحیحہ) کی خوشی میں جو تقریب منعقد ہوتی ہے اس کو ولیمہ کہتے ہیں۔ ولیمہ مسنون ہے۔ نکاح کے بعد قبل از بناء (ملاپ) جو دعوت ہوتی ہے اس پر مسنون ولیمہ کا اطلاق نہیں ہوتا۔ ولیمہ کے لئے صحبت شرط نہیں۔ میاں بیوی کا تنہائی میں ملنا کافی ہے۔ دلہا حسب استطاعت ولیمہ کا اہتمام کرسکتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ولیمہ کرو اگرچہ ایک بکری سے کیوں نہ ہو۔

تہجد کا وقت
سوال :  نماز تہجد کا ابتدائی اور انتہائی وقت کیا ہے ؟ کیا نماز فجر کے ابتدائی وقت سے دس (10) منٹ پہلے نماز تہجد ادا کی جاسکتی ہے اور کیا نماز تہجد کو سوکر اٹھنا ضروری ہے ؟
عبدالکبیر، پھسل بنڈہ
جواب :  تہجد کا وقت عشاء کی نماز کے بعد فجر سے پہلے تک ہے، بہتر یہ ہے کہ عشاء کی نماز پڑھ کر سوجائے پھر آدھی رات کے بعد اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھے اور اس کے بعد وتر پڑھے ۔ بشرطیکہ جاگنے کا اطمینان ہو ورنہ وتر کی نماز عشاء کے ساتھ پڑھ لے۔ پس فجر کے ابتدائی وقت سے دس منٹ قبل نماز تہجد ادا کی جاسکتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT