Sunday , September 23 2018
Home / Top Stories / خطرناک کشمیری علحدگی پسند لیڈر مسرت عالم کی جیل سے رہائی

خطرناک کشمیری علحدگی پسند لیڈر مسرت عالم کی جیل سے رہائی

سرینگر ؍ جموں، 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) حکومت جموں و کشمیر نے آج خطرناک کشمیری علحدگی پسند لیڈر مسرت عالم کو رہا کردیا، جس کے خلاف درجنوں کیس بشمول جنگ چھیڑنا درج رجسٹر ہیں اور اُس کی گرفتاری کا موجب بننے والی اطلاع پر 10 لاکھ روپئے کا نقد انعام بھی رہا ہے۔ 44 سالہ عالم جس نے 2008ء اور 2010ء کے درمیان یہاں سنگباری والے ایجی ٹیشنس کی قیادت کی ت

سرینگر ؍ جموں، 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) حکومت جموں و کشمیر نے آج خطرناک کشمیری علحدگی پسند لیڈر مسرت عالم کو رہا کردیا، جس کے خلاف درجنوں کیس بشمول جنگ چھیڑنا درج رجسٹر ہیں اور اُس کی گرفتاری کا موجب بننے والی اطلاع پر 10 لاکھ روپئے کا نقد انعام بھی رہا ہے۔ 44 سالہ عالم جس نے 2008ء اور 2010ء کے درمیان یہاں سنگباری والے ایجی ٹیشنس کی قیادت کی تھی، اسے بارہمولا ڈسٹرکٹ جیل سے باہر نکالا گیا اور شہید گنج پولیس اسٹیشن لیجایا گیا جہاں اسے اُس کے ارکان خاندان کے حوالے کردیا گیا، یہاں سرکاری ذرائع نے یہ بات بتائی۔ عالم جو کبھی کٹرپسند سید علی شاہ گیلانی کا بااعتماد آدمی سمجھا جاتا تھا، 2010ء میں اس کی گرفتاری بڑی کارروائی ہوئی، جب وہ ہڑتالوں اور پتھراؤ کے پروگرام جاری کررہا تھا۔ جب پولیس نے اُس کی مخالف قوم سرگرمیوں پر اُس کا پیچھا اُٹھایا تو وہ روپوش ہوگیا تھا۔ اسے آخرکار اکٹوبر 2010ء میں شہر کے مضافاتی علاقہ ہروان میں پکڑا گیا

جبکہ اس آپریشن میں پولیس اور سنٹرل ایجنسیوں نے شہر میں اُس کی نقل و حرکت کی ہر چھوٹی بڑی بات پر نظر رکھی ہوئی تھی۔ اُس کی رہائی چیف منسٹر مفتی محمد سعید کے احکام پر ہوئی ہے، جنھوں نے یکم مارچ کو حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد ہدایت دی تھی کہ تمام سیاسی قیدیوں کو جیل سے رہاکردیا جائے۔ جب یہ نشاندہی کی گئی کہ صرف چند قیدی بشمول مسرت عالم ہیں، جسے قبل ازیں سیاسی قیدی کے طور پر حراست میں لیا گیا تھا لیکن بعد میں دیگر معاملوں میں اُس کا مبینہ رول پایا گیا جو سیکشن 121 (مملکت کے خلاف جنگ چھیڑنا) لاگو کئے جانے کا موجب بنا، لیکن چیف منسٹر نے اُس کی رہائی کا حکم دے دیا۔ عالم جس کی مسلم لیگ گیلانی زیرقیادت کٹرپسند حریت کانفرنس میں شریک ہے، اُسے مخالف قومی احتجاجوں کو بھڑکانے میں اُس کے مبینہ رول پر گرفتار کیا گیا جبکہ ان احتجاجوں کے دوران زائد از 120 اشخاص ہلاک اور ہزاروں دیگر زخمی ہوگئے۔ 2010ء میں اپنی روپوشی دوران عالم اپنے ’’سرحد پار کے آقاؤں‘‘ سے قریبی ربط میں رہا اور وہ گیلانی کو عملاً بے دخل کرکے کٹر علحدگی پسند سیاست میں چھا گیا تھا۔ دریں اثناء بی جے پی کے جموں و کشمیر یونٹ کے یوتھ ونگ نے مسرت عالم کی رہائی کے خلاف آج جموں میں احتجاج منعقد کیا جبکہ کانگریس نے وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اور آر ایس ایس سے عالم کی رہائی پر اپنے موقف کی وضاحت کا مطالبہ کیا۔

سینئر بی جے پی لیڈر یودھویر سیٹھی نے کہا، ’’احتجاج کی قیادت بی جے پی یوتھ ونگ کے اسٹیٹ جنرل سکریٹری نے کی اور میں بھی اس کا حصہ رہا‘‘۔ عالم کو مخالف قوم قرار دیتے ہوئے جو جموں و کشمیر میں عسکریت پسند کو مزید ہوا دے گا، احتجاجیوں نے اُس کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ اسٹیٹ بی جے پی کی یوتھ ونگ کے سربراہ اور پارٹی ایم ایل اے رویندر رائنا نے کہا کہ یہ رہائی اور عسکریت پسندوں کی بازآبادکاری مشترک اقل ترین پروگرام کا حصہ نہیں ہے۔ اس دوران بی جے پی۔ پی ڈی پی ریاستی حکومت کے فیصلے کے جواز کو چیلنج کرتے ہوئے کانگریس نے وزیراعظم، مرکزی وزیر داخلہ اور آر ایس ایس سے اپنے موقف کی وضاحت کا مطالبہ کیا۔جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے ترجمان اعلیٰ اور ایم ایل سی رویندر شرما نے جموں میں میڈیا والوں کو بتایا کہ وزیراعظم و دیگر کے علاوہ پی ایم او کے مملکتی وزیر ڈاکٹر جتندر سنگھ اور ڈپٹی چیف منسٹر نرمل سنگھ جو جموں خطہ سے تعلق رکھتے ہیں، انھیں مسئلہ ٔعالم پر اپنے موقف کی وضاحت کرنا چاہئے۔

TOPPOPULARRECENT