Saturday , November 25 2017
Home / اداریہ / خفیہ ایجنسیوں کا تنازعہ

خفیہ ایجنسیوں کا تنازعہ

ملک کے داخلی حال پر رکھ نظر
سرحدوں پر اخوت کا جنگل نہ ڈھونڈ
خفیہ ایجنسیوں کا تنازعہ
پاکستان میں ہندوستانی انٹلیجنس ایجنسی ریسرچ اینڈ انالائسس ونگ ’’را‘‘ سے وابستہ ایک عہدیدار کی گرفتاری اور انڈین ہائی کمشنر کی وزارت خارجہ پاکستان کے دفتر پر طلبی کے بعد آنے والے دنوں میں امریکہ میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیراعظم پاکستان نواز شریف کے درمیان ملاقات کو موہوم بنادیا گیا ہے۔ پاکستان کے صوبہ بلوچستان سے گرفتار شخص کی ہندوستانی آفیسر کھل بھوشن یادو کی حیثیت سے شناخت کی گئی۔ ممبئی سے تعلق رکھنے والے اس شخص کے پاس حسین مبارک پٹیل کے نام سے ہندوستان پاسپورٹ ہونے کا بھی پاکستانی عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے، جس پر ایرانی ویزا بھی اسٹامپ کیا ہوا ہے۔ ہندوستانی جاسوس کا نام دے کر اس شخص کے تعلق سے یہ بھی کہا گیا کہ اس نے 2013ء میں ’’را‘‘ میں شمولیت اختیارکی تھی۔ ماضی میں اس نے ہندوستانی بحری جاسوس کی حیثیت سے خدمت انجام دی یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہیکہ اس جاسوس سے پوچھ گچھ کے دوران کئی انکشافات ہوئے ہیں کہ اس کو ذمہ داری دی گئی ہے۔ وہ بلوچستان اور کراچی میں مقامی علحدگی پسند گروپس سے رابطہ بڑھا کر انتہاء پسندانہ سرگرمیاں انجام دیئے۔ حکومت پاکستان یا وہاں کی انٹلیجنس کی یہ کارروائی سچائی پر مبنی ہے تو اس کا ٹھوس ثبوت فراہم کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ سندھ کراچی اور صوبہ بلوچستان میں ہونے والے تشدد اور جب کبھی گڑبڑ کے واقعات رونما ہوتے ہیں تو پڑوسی ملک کو ہی ذمہ دار ٹھہرانے کی اولین کوشش کی جاتی ہے جبکہ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا لیکن انتہائی پسماندہ صوبہ ہے۔ گذشتہ چار سال سے دہشت گرد واقعات کا مقابلہ کرلیا ہے۔ بلوچستان میں ہونے والے واقعات کیلئے ہندوستان کو مورد الزام ٹھہرانے کی کوشش بھی پاکستان کی ایک پالیسی کا حصہ ہے تو یہ تعلقات کو خراب کرنے کا بہانہ بنے گی۔ کراچی میں رونما ہونے والے تشدد کے واقعات صاف طور پر وہاں کے مذہبی تنازعہ، سیاسی اور نسلی تشدد کا حصہ ہوتے ہیں لیکن ان واقعات کے حوالے سے پڑوسی ملک ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو کشیدہ بنانے کی کوشش افسوسناک ہے۔ گذشتہ سال بھی پاکستان نے اقوام متحدہ میں نمائندگی کرتے ہوئے بلوچستان میں ہندوستان کی مداخلت کے ثبوت پیش کئے تھے۔ ان ثبوتوں میں سچائی کیا تھی یہ واضح نہیں ہے۔ بلوچستان یا کراچی دونوں علاقوں میں بدامنی کیلئے مقامی نظم و نسق کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے حالات پر توجہ دینے کے بجائے تشدد کے واقعات کیلئے پڑوسی ملک کو موردالزام ٹھہرانا افسوسناک ہے۔ 20 ملین نفوس پر مشتمل کراچی شہر پاکستان کا معاشی مرکز بھی جانا جاتا ہے۔ تاہم یہاں آئے دن مذہبی تشدد کے واقعات اور سیاسی و نسلی ہنگامے بھی ہوتے آرہے ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان را کے ایجنٹ کی گرفتاری کو لے کر جو کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے بہرحال ایسی کوشش کو ناکام بنانے کی ضرورت ہے۔ امریکہ میں منعقد ہونے والی چوتھی نیوکلیئر چوٹی کانفرنس کے موقع پر دونوں ملکوں ہندوستان اور پاکستان کے وزرائے اعظم کی ملاقات مقرر ہے۔ اس ملاقات کو ناکام بنانے کیلئے کشیدہ ماحول پیدا کیا جارہا ہے۔ را کے ایجنٹ کے نام پر پیدا ہونے والی تبدیلیوں سے ہند ۔ پاک تعلقات میں طویل مدتی طور پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ پاکستان کی سیاست میں اکثر یہ الزام لگایا جاتا رہا ہیکہ ایم کیو ایم ہندوستان کی را سے فنڈس ملتا ہے۔ عمران خاں اور پرویز مشرف کو بھی را کے ایجنٹس قرار دیا جاتا رہا لیکن دو ملکوں کے تعلقات کو صرف شکوک و شبہات اور الزامات کی بنیاد پر کشیدہ طور پر برقرار رکھا نہیں جاسکتا۔ یہ بھی نوٹ کیا جانا چاہئے کہ انتظامی خامیاں بلوچستان میں حالات کی خرابی کا ذمہ دار تھیں لیکن قوم پرست طاقتوں کو ٹھہرایا جاتا ہے جبکہ مقامی بلوچ عوام اور قائدین حالات کی خرابی کا ذمہ دار وفاقی حکومت اور بلوچستان کے وسائل کو وہاں کے عوام کی مرضی کے خلاف استعمال کی پالیسی کو قرار دیتے ہیں۔ علاقائی مسائل کو کسی ملک کی پالیسی بنا کر پڑوسی ملکوں کے ساتھ تعلقات کو کشیدہ کرنے کی کوشش کی ہر گوشے سے مخالفت کی جانی چاہئے۔ ہند ۔ پاک کو را یا آئی ایس آئی کے تنازعہ کے درمیان تعلقات کو کشیدہ بنانے والے اقدامات سے گریز کرنے کی ضرورت ہے۔ شبہ کو تقویت دینے والے عوامل سے بھی بچ کر امن اور امان کے مسئلہ پر ہر دو ملکوں کو سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ سفارتی مصلحتیں ملحوظ رکھتے ہوئے صورتحال کو بہتر بنانے کی جانب توجہ دی جانی چاہئے۔
عالمی معیشت اور بچت کے رجحان میں کمی
عالمی معیشت کو ان دنوں شدید افراط زر کے خطرات کا سامنا ہے۔ قیمتوں میں طویل مدتی کمی کیلئے غور کرنے والے ماہرین نے بتایا کہ عوام میں بچت کا رجحان یا سرمایہ کاری میں دلچسپی گھٹ رہی ہے جس سے افراط زر اور معیشت کے استحکام میں فرق پڑھتا جارہا ہے۔ عالمی سطح سے لیکر قومی سطح کی بنکوں کی جانب سے بچت کی ترغیبات دینے کے باوجود عوام کے پاس کفایت شعاری کا مزاج فروغ نہیں پارہا ہے۔ سابق وزیرفینانس چدمبرم نے ہندوستانیوں میں بچت کی عادت ختم ہونے پر افسوس ظاہر کرتیہ وئے عوام سے پرزور اپیل کی تھی کہ وہ اپنی زندگی میں بچت کی عادت کو فروغ دیں تاکہ ملک کی معاشی ترقی کو یقینی بنانے کے ساتھ عوامی زندگی کو خوشحالی عطا کرنے میں مدد مل سکے۔ غور طلب امر یہ ہیکہ آج کے دور میں عوام کی اکثریت جتنی آمدنی اس سے دوگنا خرچ کی عادت کا شکار ہورہی ہے۔ اس لئے بنکوں میں یا نجی طور پر بچت کا رجحان ختم ہونے لگا ہے۔ حال ہی میں وزیراعظم نریندر مودی نے معاشی اصلاحات کیلئے چند اقدامات کئے تھے جن میں ناکامی کا پڑوسی ملک چین کی میڈیا میں کافی چرچا رہا ہے۔ حقیقت تو یہ ہیکہ ہندوستان میں معاشی اصلاحات کو نیک نیتی اور مکمل عزم کے ساتھ روبہ عمل نہیں لایا جارہا ہے۔ مہنگائی اور عوام کی ضروریات زندگی کی تکمیل کے درمیان بڑھتے فرق نے بچت کی گنجائش کو بھی ختم کردیا ہے۔ اگر مہنگائی پر قابو پایا جائے تو عوام میں بچت کی عادت بحال ہوسکتی ہے۔ عام انسانوں خاص کر تنخواہ یاب طبقہ کی ماہانہ آمدنی میں اضافہ بھی ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ سے مربوطہونا ہے تو بچت کا عزم مفقود ہوجاتا ہے۔ بنکوں میں عوامی سرمایہ کی کمی کی اصل وجہ آمدنی میں کمی اور مہنگائی میں اضافہ ہے۔ عالمی سطح پر ہندوستان کی معیشت کو خوشگوار بنانے کی کوشش کرنے والی حکومت اور ماہرین معاشیات قومی بنکوں کے ذمہ داروں کو چاہئے کہ وہ عوام میں بچت کی عادت بحال کرنے کیلئے اختراعی اقدامات کریں۔

TOPPOPULARRECENT