Wednesday , September 19 2018
Home / اداریہ / خلائی مشن اور سائینسی تحقیق

خلائی مشن اور سائینسی تحقیق

تم اپنی فکر کو لوگو نئی جہت دینا
یہ قافلہ بھی گذرتا ہوا لگے ہے مجھے
خلائی مشن اور سائینسی تحقیق
ہندوستان نے سائینسی ترقی میں اب تک ایک کے بعد ایک کامیابی حاصل کی ہے ، سابق صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام کے دور میں ہندوستانی سائینس کو جو بلندی عطاء ہوئی تھی اس کا تسلسل برقرار رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے مگر اس میں خاص پیشرفت نہیں ہوئی۔ اگرچیکہ ہندوستانی سائینسدانوں نے سٹیلائیٹ کے شعبہ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔تاہم حال ہی میں یعنی 12جنوری کو پی ایس ایل وی کو داغے جانے کے بعد ملک کے خلائی ریسرچ میں پائی جانے والی خامیوں کی جانب توجہ دلائی گئی ہے۔ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن ( اِسرو ) سے وابستہ سائینسدانوں نے اس ادارہ کی جانب سے انجام دیئے گئے کارنامہ کے بارے میں جہاں مسرت کا اظہار کیا ہے وہیں اس میں ہونے والی بعض کمیوں کی جانب بھی توجہ دلائی ہے۔ خامیوں کی جانب نشاندہی کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ مرکزی حکومت کو سائینسی ترقی اور تحقیق کے لئے مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ خلائی شعبہ میں تحقیق کے عمل کو تیز اور وسیع بنایا جائے تو بلاشبہ ہندوستان کو دیگر ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑے رہنے میں دیر نہیں لگے گی۔ ریسرچ کیلئے زیادہ سے زیادہ وسائل کو متحرک کرتے ہوئے ملک کے سائینسدانوں کو ایک عصری پلیٹ فارم اور سہولتوں کا ذریعہ فراہم کیا جائے تو خلائی مشن کو پہلے سے زیادہ کامیاب اور موثر بنانے میں مدد ملے گی۔ ’’ اِسرو‘‘ کی جانب سے جب کبھی سٹیلائیٹ داغے جانے کا عمل پورا کیا جاتا ہے تو اس سے زائد کام انجام دینے کا بھی احساس ظہار کیا جاتا ہے۔ وسائل کی کمی کی شکایت بھی سامنے آئی ہے۔ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے شعبہ سائینس پر توجہ دے کر ریسرچ کے معاملہ میں فراخدلانہ اقدامات کئے جائیں تو دنیا بھر میں دستیاب ٹکنالوجی کے تعاون سے مزید ترقی کی جانب پیشرفت کی جاسکتی ہے۔ حکومت کی سطح پر یہی خیال کیا جارہا ہے کہ ہم نے خلائی شعبہ میں ترقی کے لئے بہت کچھ کیا ہے لیکن ایسا خیال کرنا ہی ترقی کی راہوں کو تنگ بنادیتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے کہ ریسرچ کے شعبہ میں زیادہ سے زیادہ توجہ دے کر سائینسدانوں کو مطلوب ضروریات کی تکمیل کیلئے حکومت کو پہل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ دستیاب وسائل کے ساتھ عصری ٹکنالوجی کی مدد سے موثر کام انجام دیئے جاسکیں۔ ان دنوںدنیا بھر میں سائینسی ترقی کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ ہر روز نئی تحقیق سے سائینس کے میدان کو وسعت دی جارہی ہے ۔ ہندوستان میں خلائی ایجنسی کو پہلے سے زیادہ عصری بنانے اور محققین کیلئے زیادہ سے زیادہ فنڈز و بجٹ مختص کرنے پر توجہ دینی ہوگی۔ آنے والے عام بجٹ میں وزیر فینانس ارون جیٹلی کو خلائی شعبہ میں کام کرنے والوں اور اس ایجنسی کو مطلوب سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔ ’’ اِسرو ‘‘ نے 1975 ء میں اپنے آغاز سے اب تک بلا شبہ اچھی پیشرفت کی ہے۔ بنگلور میں واقع ’’ اِسرو ‘‘ ہیڈکوارس میں خلائی مشن کے لئے جاری کاموں کی ستائش کی جاتی رہی ہے۔ یہاں نئے پراجکٹس کے لئے بھی کام ہورہے ہیں۔ سائینس کے سفر کو مضبوط اور کامیاب بنانے کیلئے نئی صلاحیتوں کو فروع دینے پر توجہ دینی ہوگی۔ انفراسٹرکچر کی فراہمی کے ذریعہ اس شعبہ کے تمام مسائل کو دور کرنے کیلئے سائینسدانوں نے زور دیا ہے۔ سائینس کا شعبہ ہمیشہ ایک نئے چیلنج سے نمٹنے کیلئے تیار رہتا ہے مگر وسائل کی کمی اور مطلوب ٹکنالوجی کی عدم دستیابی سے سائینسی تحقیق کے کاموں میں تاخیر ہورہی ہے یا پھر یہ کام سُست روی کا شکار ہورہے ہیں۔ ہندوستانی خلائی پروگرام کے روح رواں وکرم سارا بائی نے دراصل اس شعبہ کے لئے جو خواب دیکھا تھا اس کی تعبیر کیلئے ابھی بہت کچھ کیا جانا باقی ہے۔ خلائی ٹکنالوجی میں بلا شبہ ’’اِسرو‘‘ نے اپنے ویژن پر مسلسل کام کرنا شروع کیا ہے، ملک کی ترقی، بہتر حکمرانی اور عام آدمیوں کو فوائد پہنچانے کیلئے ’ اِسرو ‘ کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔ بہرحال سائینس کے شعبہ میں اگر ایک پراجکٹ پر کام ہوتا ہے تو دوسرا پراجکٹ شروع کرنے کیلئے موثر ٹکنالوجی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ’ اِسرو ‘ ایک مسئلہ سے نمٹنے میں کامیاب ہوتا ہے تو اس کے سامنے دوسرا مسئلہ پیدا ہوتا ہے اور اس نے ہر اُبھرنے والے چیلنج کا بخوبی مقابلہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT