Sunday , September 23 2018
Home / عرب دنیا / خلافت اسلامیہ کی جارحانہ فوجی کارروائی

خلافت اسلامیہ کی جارحانہ فوجی کارروائی

کرکک 7 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) جہادیوں نے عراق کے سب سے بڑے عیسائی قصبہ پر قبضہ کرلیا ہے۔ مضافاتی علاقے بھی اُس کے زیرقبضہ آچکے ہیں، جس کی وجہ سے لاکھوں مقامی شہری خوف و دہشت کے عالم میں خود اختیار علاقہ کردستان فرار ہورہے ہیں۔ عینی شاہدین کے بموجب خلافت اسلامیہ کے عسکریت پسند قراقوش اور دیگر کئی قصبوں پر راتوں رات قبضہ کرچکے ہیں جبکہ

کرکک 7 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) جہادیوں نے عراق کے سب سے بڑے عیسائی قصبہ پر قبضہ کرلیا ہے۔ مضافاتی علاقے بھی اُس کے زیرقبضہ آچکے ہیں، جس کی وجہ سے لاکھوں مقامی شہری خوف و دہشت کے عالم میں خود اختیار علاقہ کردستان فرار ہورہے ہیں۔ عینی شاہدین کے بموجب خلافت اسلامیہ کے عسکریت پسند قراقوش اور دیگر کئی قصبوں پر راتوں رات قبضہ کرچکے ہیں جبکہ کرد پیش مرگہ فوجی اِس علاقہ سے پسپا ہوگئے۔ یہ فوجی اب عراق میں کئی محاذوں پر مختصر سی تعداد میں موجود ہیں۔ کلدانی آرچ بشپ کرکک و سلیمانیہ جوزف تھامس نے اخباری نمائندوں سے کہاکہ اب وہ جانتے ہیں کہ قراقوش، تل کیف، برتیلا اور کرملیش کے قصبے اِس کی آبادی سے خالی ہوچکی ہیں اور عسکریت پسندوں کے زیرقبضہ ہیں۔ قراقوش ایک مکمل طور پر عیسائی طبقہ تھا

جو موصل اور اربیل کے درمیان واقع ہے۔ جہادیوں کا بنیادی مرکز عراق ہے۔ اربیل کرد علاقہ کا دارالحکومت ہے۔ عام طور پر اِس کی آبادی 50 ہزار ہے۔ یہ ایک آفت ہے کہ اِس المناک صورتحال میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے فوری مداخلت کی خواہش کی جاتی ہے۔ لاکھوں دہشت زدہ عوام بے گھر ہوچکے ہیں۔ خروج کے منظر کو الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ عیسائی خطہ کی نمایاں آبادی تل کیف میں بھی تھی۔ اِس کے علاوہ شبک شیعہ اقلیت کے ارکان بھی یہاں آباد تھے لیکن اُنھوں نے راتوں رات یہ علاقے خالی کردیئے ہیں۔ تل کیف پر اب خلافت اسلامیہ کا قبضہ ہے۔ اِس کے جنگجوؤں کو آدھی رات کے بعد تل کیف میں داخل ہوتے وقت کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ مقامی شہری بتروس سرغون نے جو قصبہ سے فرار ہوکر اربیل پہونچ چکا ہے، ٹیلیفون پر اخباری نمائندوں سے کہاکہ اُس نے کل رات فائرنگ کی آواز سنی۔ جب اُس نے باہر جھانک کر دیکھا تو اُسے خلافت اسلامیہ کے فوجی قافلے نظر آئے۔ وہ اللہ اکبر کے نعرے لگارہے تھے۔ جو لوگ اپنے گھروں کا تخلیہ کرنے پر مجبور ہوگئے وہ لوگ جہادیوں کی پیشرفت کے سامنے بونے نظر آرہے تھے۔

گزشتہ ماہ سے ہی خلافت اسلامیہ کے موصل کے عیسائیوں کو الٹی میٹم کے بعد خروج کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ 2003 ء سے عراق کے عیسائی بڑے سانحوں میں سے ایک کا سامنا کررہے ہیں۔ ایک شہری فراز بینویت کمورات نے جو پیرس میں عراقی عیسائیوں کی حامی اور دیگر اقلیتوں کی حامی ایک اسوسی ایشن کا صدر ہے، کہاکہ 2003ء کے بعد یہ ایک بڑا سانحہ ہے۔ پیش مرگہ کے ترجمان نے کہاکہ کرد فوج خلافت اسلامیہ کے جنگجوؤں سے قراقوش اور القوش میں تصادم میں مصروف ہے لیکن کوئی بھی عینی شاہد اِس دعوے کی توثیق کے لئے دستیاب نہیں ہوا۔ خلافت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی پیشرفت کا یہ مطلب ہے کہ وہ کرد علاقائی حکومت کی سرکاری سرحد کے قریب 20 کیلو میٹر کے فاصلہ پر اور اربیل سے 40 کیلو میٹر کے فاصلہ پر موجود ہیں۔

TOPPOPULARRECENT