Monday , December 11 2017
Home / آپ کے سوال / خلع کے بعد تجدید نکاح کئے بغیر ازدواجی زندگی گزارنا

خلع کے بعد تجدید نکاح کئے بغیر ازدواجی زندگی گزارنا

سوال :  ہمارے عزیز و اقارب میں ایک لڑکا ہے جس کی شادی ہوئی ۔ ایک لڑکا بھی ہے۔ کچھ نااتفاقی کی وجہ سے لڑکی نے خلع لے لیا ، بعد ازاں لڑکے نے دوسری شادی کی اور بعض اختلافات کی بناء دوسری لڑکی نے بھی خلع لے لیا ۔ اب لڑکے نے کسی عالم دین کے مشورہ پر پہلی بیوی سے رجوع ہوکر نکاح کے بغیر ایک ساتھ ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں۔ کیا یہ صحیح عمل ہے ؟ اس سلسلہ میں شرعی احکام سے آگاہ فرمائیں تو عین نوازش ۔
نام ندارد
جواب :  خلع میں رشتہ نکاح منقطع ہوجاتا ہے ۔ درمختار باب الخلع میں ہے۔ ھوازالۃ ملک النکاح المتوقفۃ علی قبولھا بلفظ الخلع أوفی معناہ۔
پس بشرط صحت سوال اگر واقعی خلع کے بعد تجدید نکاح کئے بغیر وہ دونوں ازدواجی زندگی گزار رہے ہیں تو شرعاً ناجائز و حرام ہے ۔ ان دونوں کو فی الفور علحدہ ہونا لازم ہے ۔ ان کو چاہئے کہ وہ کسی مستند دارالافتاء سے رجوع ہوں اور خلع نامہ پیش کریں تو حسبہ، شرعی احکام بین کئے جائیں گے۔

قربانی کا نظم کرنے والے افراد کا کوتاہی کرنا
سوال :  ایام قربانی سے قبل اخبارات میں بعض دینی اداروں اور مدارس دینی کے ذمہ داروں کی جانب سے یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ان کے ہاں علماء کی نگرانی میں بڑے جانوروں کی قربانی کا نظم ہے۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ یہ ادارے ایسے جانوروں کی قربانی کا نظم کرتے ہیں جو قربانی کے اصول اور معیار پر پورے نہیں اترتے۔ مثلاً عمر سے کم ، لاغر و بیمار یا کسی عیب میں مبتلا وغیرہ وغیرہ۔
قربانی دینے والا اپنے حصص کی رقم ادا کر کے مطمئن ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوگیا ۔ بعض دیہاتوں میں سرسے قربانی ہی نہیں ہوتی جبکہ جانور کی یا حصص کی رقم وصول کرلی جاتی ہے ۔ الاما شاء اللہ
ان حالات میں دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ایسی قربانی دوسروں کی ذمہ داری پر کرائی جاسکتی ہے؟ جانور قربانی کے لائق نہ ہوں تو کوئی ذمہ دار رہیں گے۔ دینی ادارے یا جس پر قربانی واجب ہے؟
محمد اقبال ، سکندرآباد
جواب :  قربانی میں کسی دوسرے شخص کو نائب بنانا کہ وہ اس کی طرف سے قربانی کردے شرعاً جائز ہے ۔ بدائع صنائع ، کتاب التصحیۃ جلد خامس میں ہے ۔ (ومنھا) انہ تجزیٔ فیھا النیابۃ فیجوز للانسان أن یضحی بنفسہ و بغیرہ باذنہ۔ لانہ قربۃ تتعلق بالمال فتجزیٔ فیھا النیابۃ کاداء الزکوۃ و صدقۃ الفطر ولان کل واحد لا یقدر علی مباشرۃ الذبح بنفسہ خصوصا النساء ، فلو کم تجز الاستنابۃ لادی الی الحرج ، وسواء کان الماذون مسلمااو کتابیا۔
قربانی دراصل تقرب کا ذریعہ ہے وہ محض کوئی  ذمہ داری نہیں کہ کسی کو ذمہ دار بناکر اپنے عہدہ ذمہ سے سبکدوش ہوجایا جائے اس لئے جس کو نائب بنایا جارہا ہے اس کی امانت و دیانت سے مطمئن اور جانور کے شروط قربانی کے قابل ہونے سے متعلق اطمینان حاصل کرنا ضروری ہے اور جس نے مشروط قربانی کے مطابق جانور قربان کرنے کی ضمانت دی ہے وہی ماخوذ ذمہ دار رہے گا۔

قرآن مجید کی قسم کھاکر توڑنا
سوال :  اگر کوئی شخص قرآن مجید کی قسم کھاکر پورا نہ کرے اور قسم توڑدے تو اس کا کفارہ کیا ہے ؟ اگر اس قسم کو بار بار توڑنے کا مرتکب ہو تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟ کیا ایک دفعہ کفارہ ادا کرنا کافی ہوگا ہے۔
جواد صدیقی، قدیم ملک پیٹ
جواب :  قرآن مجید کی قسم عام طور پر لوگوں میں مروج ہے، اس لئے شرعی قسم ہے جس کے توڑنے سے کفارہ لازم آتا ہے ۔ قسم کا کفارہ ایک غلام آزاد کرنا ہے ۔ اگر یہ نہ ہوسکے تو دس مسکینوں کو ایک دن کی متوسط درجہ کی خوراک دینا یا بدن ڈھانکنے کے موافق کپڑا دینا ہے ، اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو تین دن مسلسل روزے رکھنا ہے ۔ در مختار کی کتاب الایمان میں ہے : والایمان مبنیۃ علی المعروف ما یتعارف الناس الحلف بہ یکون یمیناً وما لا فلہ۔ اسی جگہ ردالمحتار میں ہے : ولا یخفی ان الحلف بالقرآن الان متعارف فیکون یمینا۔ دوسری جگہ رد المحتار میں ہے : و کفارتہ تحریر رقبۃ او اطعام عشرۃ مساکین او کسوتھم لیستر عامۃ البدن۔
قسم پہلی بار توڑنے پر قسم کے کفارہ کا لزوم ہوگا ۔ قسم توڑنے کے بعد وہی کام متعدد مرتبہ کرے تو مزید کوئی کفارہ لازم نہیں ہوگا۔
کرسی پر نماز پڑھنا
سوال :  ایسے لوگوں کیلئے شرعی احکام کیا ہیں جو تھوڑا سا جسمانی عذر بتاتے ہوئے مساجد میں بے ترتیب کرسی نشین ہوکر نماز پڑھتے ہیں بلکہ پہلی اور دوسری صف کے وسطی حصہ میں بھی کرسیوں پر براجمان ہوتے ہیں اور بیٹھ کر ہی تکبیر تحریمہ ، رکوع و سجود کرتے ہیں اور صفوں کے وسطی حصے میں کرسیاں رکھ کر بیٹھنے کی وجہ سے دیگر مقتدیوں کی صف بندیوں پر بھی اثر پڑتا ہے ؟ اور یہ لوگ مسجد کے باب الداخلہ میں داخل ہونے والوں کو دیکھ کر بھی اپنی کرسیاں بازو ہٹانا گوارہ نہیں کرتے؟
خواجہ حسن الزماں ، ورنگل
جواب :  جو شخص قیام پر قادر نہ ہو یا قیام سے سجدہ میں جانے پر یا سجدہ سے اٹھ کر قیام کرنے پر قادر نہ ہو تو ایسا شخص حسب سہولت بیٹھ کر نماز ادا کرسکتا ہے ۔
مساجد میں روز بہ روز کرسیوں کی کثرت ہورہی ہے اور اگر کوئی شخص قدرت کے باوجود بیٹھ کر نماز پڑھتا ہے تو اس شخص کی نماز ہی ادا نہیں ہوتی ۔ واقعی قدرت نہ ہو تو شریعت میں گنجائش موجود ہے ۔تاہم کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرنے والوں کو یقین ہو کہ صف مکمل ہوگی تو ان کو چاہئے کہ وہ صف کے کنارے اپنی کرسی رکھ لے، اگرچہ اس وقت صف مکمل نہ ہوئی ہو کوئی مضائقہ نہیں۔ شریعت مطھرہ میں صفوں کی ترتیب کی سخت تاکید ہے ۔ کرسی پر بیٹھ کر نماز پڑھنے والوں کو یہ امر ملحوظ رکھنا ضروری ہے کہ صف کی ترتیب متاثر نہ ہو۔ ان کی بے ترتیبی کی وجہ سے صف کی ترتیب متاثر ہوتی ہے تو یہ عمل قابل اصلاح ہے ۔ واضح رہے کہ صف کی ترتیب کے مطابق درمیان صف کرسی رکھی جائے تو اس کی وجہ سے ترتیب صف متاثر نہیں ہوتی۔

کیا گوشت کی تقسیم پر قدرت نہ ہو تو قربانی واجب ہوگی؟
سوال :  احکام شریعت کی رو سے ہر آزاد و مقیم اور صاحب نصاب  مسلمان (مرد و عورت) پر قربانی کرنا واجب ہے، لیکن صاحب نصاب ہونے کے باوجود کسی گھر کے حالات ایسے ہوں کہ قربانی کے دنوں میں قربانی دینے کے بعد اس کا گوشتہ تین حصوں میں تقسیم کرنے اور مستحق لوگوں کو گوشت فراہم کرنے کی کوئی سہولت یا ذریعہ نہیں ہے تو ایسی صورت میں کیا قربانی دینا واجب ہوگا ؟
(2  متذکرہ حالات میں کسی وجہ قربانی کے ایام میں اگر قربانی نہ دی جائے یا کسی خاص وجہ سے قربانی نہ کی جائے تو قربانی کے جانور کی قیمت خرید کر مکمل خیرات کرسکتے ہیں یا نہیں۔ اگر کرسکتے ہیں تو جانور کی جملہ قیمت خریدی و بازاری قیمت کسی فلاحی ادارہ جیسے جامعہ نظامیہ ، طور بیت المال یا ایسا اسکول جہاں طالب علموں کا ہاسٹل ہو ان کو خیرات کرسکتے ہیں یا نہیں؟
محمد یوسف الدین ، یاقوت پورہ
جواب :  قربانی کرنا ہر آزدا و مقیم ، صاحب نصاب مسلمان پر واجب ہے ۔ کوئی شخص صاحب نصاب ہو لیکن اس کے گھر میں قربانی کے ایام میں گوشت کی تقسیم کی سہولت نہ ہو تو اس کی وجہ سے قربانی اس کے ذمہ سے ساقط نہیں ہوتی۔ اس کو قربانی کرنا لازم رہے گا۔
(2 اگر قربانی کے ایام (10 ، 11 ، 12 ذی الحجہ) میں کسی وجہ سے قربانی نہ کی جاسکے اور قربانی کا جانور موجود ہو تو جانور خیرات کردیں۔ اگر جانور خریدا نہ ہو تو اس کی قیمت کسی غریب کو یا ایسے ادارہ کو جہاں  غریب طلباء کے قیام وطعام کا انتظام ہو خیرات کرنا درست ہے۔

انتقال کے بعد قرض کی ادائیگی
سوال :  کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بہنوئی نے سالی کی شادی میں سونے کا زیور تحفے میں دیا اور کچھ عرصہ بعد کاروباری ضرورت کیلئے وہ زیور واپس لیکر تجارت میں لگادیا ، بعد ازاں تجارت میں نقصان ہوگیا اور وہ کچھ عرصہ بعد انتقال کر گیا۔
اب سوال یہ ہیکہ کیا ان کی اولاد پر یہ زیور لوٹانا واجب ہے ۔ مرحوم کی کافی جائیداد ہے جو تمام ورثہ میں تقسیم ہوچکی ہے؟
نام…
جواب :  بشرط  صحت سوال مرحوم نے اپنی حین حیات سالی سے مذکور السوال زیور بطور قرض لیا تھا اور ادا نہ کیا ، انتقال کر گئے تو ان کی جائیداد کی تقسیم سے قبل اس قرض کو ادا کرنا لازم تھا ۔ اب چونکہ جائیداد تقسیم ہوچکی ہے تو ہر وارث اپنے حصہ کے بقدر مذکورہ قرص ادا کرنے کا پابند رہے گا۔

تین طلاق کے بعد ساتھ رہنا
سوال :  شوہر اور بیوی میں شادی کے بعد سے ہی ہمیشہ جھگڑا رہتا تھا ۔ آخر کار ایک دن شوہر نے بیوی کو اپنے ماں باپ کے سامنے غصہ میں بہ آواز بلند تین بار طلاق کہہ دیا ۔ بیوی اپنے میکے کو فوری چلی گئی ۔ دوسرے دن یہی لڑکی کے ماں باپ لڑکی کو لیکر ماں باپ کے پاس آئے ، دونوں کے ماں باپ آپسی صلاح مشورہ کے بعد طلاق کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے دونوں میں صلاح کرادیئے ۔ اب وہ دونوں میاں بیوی پھر سے زندگی گزار رہے ہیں۔ شرعاً کیا حکم ہے ؟
حیدر قادری
جواب :  بشرط صحت سوال شوہر نے جس وقت اپنی بیوی کو ماں باپ کے روبرو تین مرتبہ طلاق دیا اسی وقت تینوں طلاقیں واقع ہوکر دونوں  میں رشتہ نکاح بالکلیہ منقطع ہوگیا ۔ اب وہ دونوں بغیر حلالہ آپس میں دوبارہ نکاح بھی نہیں کرسکتے۔ تین طلاق کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں۔ دونوں کو فی الفور علحدہ ہونا لازم ہے۔

TOPPOPULARRECENT