Saturday , September 22 2018
Home / شہر کی خبریں / خلوت میں 32 کروڑ روپئے لاگتی ملٹی لیول پارکنگ کا وعدہ وفا نہ ہوسکا

خلوت میں 32 کروڑ روپئے لاگتی ملٹی لیول پارکنگ کا وعدہ وفا نہ ہوسکا

حیدرآباد ۔ 2 ۔ اپریل : خزانہ عامرہ موتی گلی خلوت میں ملٹی لیول پارکنگ کامپلکس کی تعمیر کے سلسلہ میں حکومت اور عوامی نمائندوں نے بلند بانگ دعوے کئے ۔ سابق چیف منسٹر مسٹر این کرن کمار ریڈی نے 5 جون 2011 کو اس ملٹی لیول پارکنگ کامپلکس کا سنگ بنیاد بھی رکھا لیکن اب تک اس ملٹی لیول پارکنگ کامپلکس کی تعمیر ہی عمل میں نہیں آئی جب کہ جی ایچ ایم س

حیدرآباد ۔ 2 ۔ اپریل : خزانہ عامرہ موتی گلی خلوت میں ملٹی لیول پارکنگ کامپلکس کی تعمیر کے سلسلہ میں حکومت اور عوامی نمائندوں نے بلند بانگ دعوے کئے ۔ سابق چیف منسٹر مسٹر این کرن کمار ریڈی نے 5 جون 2011 کو اس ملٹی لیول پارکنگ کامپلکس کا سنگ بنیاد بھی رکھا لیکن اب تک اس ملٹی لیول پارکنگ کامپلکس کی تعمیر ہی عمل میں نہیں آئی جب کہ جی ایچ ایم سی نے سنگ بنیاد کی تختی کو بھی نکال دیا ہے ۔ اب یہ تختی ایک اسٹور روم میں رکھدی گئی ہے ۔ اس بارے میں مقامی افراد کی رائے جاننے کی کوشش کی جس پر اس بات کا انکشاف ہوا کہ عوام اور مقامی دکاندار و تاجرین اس پراجکٹ کی عدم تکمیل پر برہم ہیں کیوں کہ اس ملٹی لیول کراسنگ کی تعمیر سے اس بات کی امید تھی کہ چارمینار ، لاڈ بازار ، خلوت اور دیگر مقامات پر آنے والے افراد کو راحت ہوگی کیوں کہ اس پارکنگ کامپلکس میں 400 موٹر گاڑیاں اور 200 موٹر سائیکلیں پارک کرنے کی گنجائش رکھنے کا اعلان کیا گیا تھا ۔

اس ضمن میں صرف سنگ بنیاد کی تختی کی تنصیب عمل میں آئی تھی ۔ اب مقامی تاجرین سے لے کر عوام یہ سوال کرنے لگے ہیں کہ آخر پرانا شہر کے تاریخی چارمینار اور اطراف و اکناف میں ٹریفک کے سنگین مسائل کو حل کرنے کے لیے تعمیر کئے جانے والے پارکنگ کامپلکس کی تعمیر شروع کیوں نہیں کی گئی ۔ معصوم عوام کو اس بات کا پتہ نہیں کہ سیاسی قائدین اشتہار بازی کی بجائے عملی و ٹھوس اقدامات کرتے تو آندھرا پردیش اربن فینانس اینڈ انڈسٹریل انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن سے لے کر حکومت کسی کو بھی اس غیر معمولی پراجکٹ کا پروگرام ملتوی کرنے کی ہمت نہیں ہوتی ۔ ہماری بدبختی یہ ہے کہ پرانا شہر کے لیے صرف وعدے کئے جاتے ہیں ان پر عمل آوری نہیں کی جاتی اور اس طرح کے حالات کئی دہوں سے جاری ہیں ۔ صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ 2006 میں اس وقت کے چیف منسٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی نے اس پراجکٹ کو منظوری دی تھی تاکہ چارمینار اور دیگر تاریخی مقامات کا مشاہدہ کرنے کے لیے آنے والے سیاحوں کو ٹریفک کے مسئلہ سے نجات دلائی جاسکے ۔

جون 2011 میں کرن کمار ریڈی نے اس کا سنگ بنیاد رکھا اور اعلان کیا کہ 5 منزلہ پارکنگ کامپلکس میں چار اور دوپہیوں والی 600 گاڑیوں کی گنجائش ہوگی اور فیوچر ایج انفراسٹرکچر پرائیوٹ لمٹیڈ یہ کام پائے تکمیل کو پہنچائے گی ۔ اس کے عوض فیوچر ایج انفراسٹرکچر پرائیوٹ لمٹیڈ کو 30 برسوں تک اس میں تعمیر کئے جانے والے شاپس کے کرایے حاصل کرنے کا حق دیا گیا ۔ لیکن فینانس ڈپارٹمنٹ اور اے پی اربن فینانس اینڈ انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن نے بھی یہ کہتے ہوئے پراجکٹ کو منظوری نہیں دی کہ اس کی لاگت بہت زیادہ ہے اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پراجکٹ کو معرض التواء میں رکھنے سے کس کا نقصان ہوا ۔۔

TOPPOPULARRECENT