Sunday , September 23 2018
Home / دنیا / خلیجی بحران کی یکسوئی دیگر مسلم مسائل کو بھی حل کردیگی :وائیٹ ہاؤس

خلیجی بحران کی یکسوئی دیگر مسلم مسائل کو بھی حل کردیگی :وائیٹ ہاؤس

چھ ممالک کی خلیج تعاون کونسل امریکہ کے ساتھ تال میل بڑھائے
امریکہ ، یو اے ای خلیج میں امن و امان قائم کرنے پر متفق

واشنگٹن۔ 7 اپریل ۔(سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ولیعہد شیخ محمد بن زائد نے خلیجی ممالک کے درمیان امن قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔وائٹ ہاؤس نے آج ایک بیان میں یہ اطلاع دی۔قابل غور ہے کہ خلیجی علاقے میں قطر اور دیگر امریکی اتحادی ممالک کے درمیان تلخ تعطل قائم ہے۔بیان کے مطابق ٹرمپ اور محمد بن زائد نے ٹیلی فون پر بات چیت میں اس معاملہ پر اتفاق کیا۔ بات چیت میں طے ہوا کہ چھ ممالک کی خلیج تعاون کونسل کے رکن ایک دوسرے کے ساتھ اور امریکہ کے ساتھ تال میل بڑھانے کیلئے زیادہ کام کر سکتے ہیں۔یو اے ای نے سعودی عرب، بحرین اور مصر کے ساتھ مل کر گزشتہ جون میں قطر کے ساتھ سفر اور تجارتی تعلقات منقطع کر لئے تھے ۔ ان ممالک نے قطر پر دہشت گردی اور ان کے کٹر مخالف ایران کی حمایت کا الزام لگایا تھا۔ قطر نے ان الزامات سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ممالک اس کی خودمختاری کو کم کرنا چاہتے ہیں۔ امریکی سربراہ شراکت داروں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف اس تنازعہ سے ایران کے خلاف مشترکہ مورچہ برقرار رکھنے کی کوششیں بھی پیچیدہ ہوئی ہیں۔ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ امریکہ کے دورے پر آئے سعودی ولیعہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی تھی۔ ٹرمپ کے آئندہ 10 اپریل کو امریکہ کے دورے پر آنے والے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی سے ملاقات کا بھی امکان ہے۔یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ جہاں ٹرمپ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے پر مُصر ہیں وہیں وہ اپنی اُن کوششوں کو بھی بروئے کار لانے میں مصروف ہیں کہ خلیجی بحران کو کسی نہ کسی طرح ختم کیا جائے ۔ قطر کے ساتھ تعلقات کو اہمیت کا حامل تصور کرتے ہوئے موصوف 10 اپریل کو اُن کی میزبانی کی پوری تیاریاں کرچکے ہیں جہاں یہ سمجھا جارہا ہے کہ اگر تمیم ٹرمپ سے تفصیلی بات کو دو یا تین مراحل میں کریں تو اس سے خلیجی بحران فوری طورپر بھی ختم ہوسکتا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ عالمی قائدین بات چیت کا مختصر دور مکمل کرکے اِسے دوبارہ لیت و لعل میں ڈال دیتے ہیں یعنی اگلا دورہ اور اگلی بات چیت ۔ ٹرمپ کیلئے ضروری ہوگا کہ وہ قطر کے علاوہ دیگر امریکی اتحادی ممالک کو بھی یہ باور کروانے کی کوشش کریں کہ قطر کے بائیکاٹ سے عالمی منظرنامہ متاثر ہورہا ہے ۔ عرب ممالک میں اُتھل پتھل سے پورا عالم اسلام متاثر ہے ۔ دوسری طرف فلسطینیوں نے غزہ میں گزشتہ کئی دنوں سے اپنے احتجاج کا جو سلسلہ جاری رکھا ہے اُس نے بھی عالمی سطح پر اپنی توجہ مبذول کرلی ہے ۔ ایسی صورتحال میں مالدیپ کا ذکر نہ کیا جائے تو ناانصافی ہوگی ۔ وہاں کے داخلی حالات بھی اطمینان بخش نہیں ہیں۔ روہنگیا مسلمانوں کے تعلق سے بنگلہ دیش نے بھی اپنی مجبوری کئی بار ظاہر کی ہے جبکہ سری لنکا میں بھی بدھسٹوں نے مسلمانوں کے مکانات ، املاک اور مساجد کو نشانہ بنایا ہے ۔ ان تمام واقعات کااعادہ اس لئے کیا جارہا ہے کہ اگر خلیجی بحران کی یکسوئی کامیابی سے ہوجائے تو دیگر مسلم ممالک اور ایسے ممالک جہاں مسلمانوں کا عرصۂ حیات تنگ کیا جارہا ہے ، حالات خودبخود معمول پر آجائیں گے ۔
امریکہ۔ چین تنازعہ کا اندرون تین ماہ حل
واشنگٹن۔ 7 اپریل ۔(سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اہم اقتصادی مشیر لیری کڈلو نے چین کے ساتھ بڑھ رہے تجارتی تنازعہ کاحل اندرون تین ماہ کر لیے جانے کی امید ظاہر کی ہے ۔کڈلو نے وائٹ ہاؤس میں کہا کہ اگرچہ چین پر درآمد اتی فیس بڑھانے کی ٹرمپ کی دھمکی محض دکھاوا نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ چین کے ساتھ بڑھتے تجارتی تنازعہ کا حل تین ماہ کے اندر کرلیا جائے ۔انہوں نے چین کے ساتھ تجارتی جنگ کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اتنے خراب نہیں ہیںجتنا کہ باور کیا جارہاہے ۔

TOPPOPULARRECENT