Thursday , June 21 2018
Home / شہر کی خبریں / خلیج بنگال میں سطح سمندر کے درجہ حرارت میںاضافہ

خلیج بنگال میں سطح سمندر کے درجہ حرارت میںاضافہ

مچھلیوں اور دیگر آبی جانوروں کے وجود کو خطرہ لاحق

مچھلیوں اور دیگر آبی جانوروں کے وجود کو خطرہ لاحق
حیدرآباد۔ 10 فروری (ایجنسیز) خلیج بنگال میں سطح سمندر کے درجہ حرارت (SST) میں ہورہے اضافہ سے مچھلیوں اور دیگر آبی جانوروں وغیرہ کیلئے خطرہ پیدا ہورہا ہے۔ ایس ایس ٹی میں یہ اضافہ سمندر میں حد سے زیادہ آلودگی کے علاوہ ساحل پر انسانی سرگرمیوں کے باعث بھی ہورہا ہے۔ ماہی گیر خلیج بنگال میں 30 تا 40 اقسام کی مچھلیاں پکڑتے ہیں اور وہ سمندر کے درجہ حرارت میں ہورہی کمی بیشی کی وجہ متاثر ہورہے ہیں۔ سائنس دانوں کے مطابق 1977ء تا 2005ء کے درمیان درجہ حرارت میں اضافہ 1961ء تا 1976ء کے درمیان سے زیادہ تھا۔ انہوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ سطح سمندر کے اوسط درجہ حرارت میں 1957ء سے 0.5 ڈگری سیلسیس کا اضافہ ہوا۔ سطح سمندر کا درجہ حرارت 1961-76 کے دوران 27.7 اور 28 ڈگری سیلسیس کے درمیان تھا اور 1977-2005ء کے دوران اس میں 28.7 تا 29 ڈگری سیلسیس کا اضافہ ہوا۔ موسمی تبدیلی پر انٹر گورنمنٹل پیانل کی پیش قیاسی میں کہا گیا ہے کہ بحرہند کے اوسط سمندر سطح میں اس صدی کے اختتام تک امکان ہے کہ 2 ڈگری سیلسیس تا 3.5 ڈگری سیلسیس کا اضافہ ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر ایم ایم پرساد سائنٹسٹ انچارج سنٹرل انسٹیٹیوٹ آف فشریز ٹیکنالوجی نے کہا کہ گاڑیوں سے ہونے والی آلودگی میں اضافہ سے خلیج بنگال میں فائیٹو پلانکٹس کی آباد میں تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔ اس طرح پانی کی سطح متاثر ہوئی اور بعد میں یہ چھوٹی پلاجک مچھلی کے ہاٹ زونس سے کولر زونس کو منتقل ہونے کا باعث ہورہا ہے۔ سرڈئین مچھلی جو کبھی ٹاملناڈو کے ساحل پر کافی مقدار میں دستیاب ہوئی تھی، اب ویزاگ کے ساحل پر پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس عمل کے باعث متاثر ہونے والی مچھلیوں کی اقسام پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے اسٹیڈیز کی جارہی ہے۔ سمندر کی سطح میں گاڑیوں اور انڈسٹریز سے نکلنے والے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا بھی انجذاب ہوتا ہے اور اس سے سمندر کی سطح میں تبدیلی واقع ہوتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT