Monday , December 18 2017
Home / مضامین / خواب بچوں کے پورے ماں کرتی ہے

خواب بچوں کے پورے ماں کرتی ہے

 

محمد مصطفی علی سروری
روینہ ٹھاکر کی عمر 20 برس ہے وہ منالی کی رہنے والی ہے ۔ تین برس قبل اس کے والد اس دنیا سے گزر گئے ، تب سے اس کے گھر والوں کے لئے گزر بسر کا سامان کرنا مشکل ہوگیا تھا مگر روینہ کی ماں شانتا دیوی نے چائے کی دکان شروع کی تاکہ گھر کے اخراجات کیلئے پیسہ جمع ہوں۔ روینہ نے اپنے والد کی زندگی میں ہی خواب دیکھ رکھا تھا کہ وہ پہلے تو گریجویشن پاس کرے گی اس کے بعد انڈین آرمی میں بھرتی ہونے کا ارادہ تھا مگر باپ کے گزر جانے کے بعد اس کیلئے مشکلات بڑھ گئی ، حالانکہ ماں نے چائے کی دکان کھول لی تھی مگر روینہ اپنی ماں کو پریشانی میںچھوڑ کر اپنے خوابوں کی تکمیل کرنا نہیں چاہتی تھی اس لئے اس نے اپنی پڑھائی چھوڑدی اور ٹیکسی چلانا سیکھا اور بالآخر لائسنس حاصل کرلیا اور اب ٹیکسی چلانے لگی۔ اخبار ہندوستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے اس نے بتایا کہ ’’میرے خاندان کو (جس میں میری ماں کے علاوہ دو بھائی بہن اور ہیں) میری ضرورت تھی ، مجھے خوشی ہے کہ میں ٹیکسی چلاکر اپنے گھر والوں کے کام آرہی ہوں (بحوالہ اخبار ہندوستان ٹائمز 12 اکتوبر 2017 ء)
روینہ ٹھاکر ہی نہیں اس کی ماں شانتا دیوی بدلتے ہوئے حا لات میں اپنے مسائل کو دیکھ کر اپنے خواب بھی بدل ڈالے اور حالات کا سامنا کرنے کیلئے راستے بھی ڈھونڈ نکالے۔ ہمارے سماج میں جب ہم دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے ہم خوابوں کی دنیا سجاتے تو ضرور ہیں مگر عملی حقیقتوں سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہوتا۔

اخبار ٹائمز آف انڈیا نے 15 اکتوبر 2017 ء کو مظفر نگر سے ایک تفصیلی خبر شائع کی جس کے مطابق 25 برس قبل سال 1992 ء میں انجم سیفی کے والد کو غنڈوں نے گولی مارکر ہلاک کردیا تھا ۔ انجم کے والد رشید احمد کی ا یک ہارڈویر کی دکان تھی لیکن وہ اپنی بچی کو ایک جج بنانا چاہتے تھے ، ان کے ناگہانی انتقال کے بعد گھر کے حالات اچانک بدل گئے لیکن انجم کی ماں نے انجم کو جج بنانے کا خواب نہیں چھوڑا انجم اپنے والد کے انتقال کے وقت صرف چار برس تھی ۔ انجم کی ماں بھائی نے دن رات محنت کی ۔ انجم کی تعلیم میں کسی طرح کی کوئی کسر نہ چھوڑی اور رشید احمد کے اس دنیا سے گزر جانے کے 25 برس بعد اترپردیش پبلک سرویس کمیشن نے جب 13 اکتوبر 2017 ء کو سیول جج جونیئر ڈیویژن کے امتحانات کے نتائج جاری کئے تو انجم سیفی کا نام بھی کامیاب امیدواروں کی فہرست میں شامل تھا ۔ انجم سیفی کے پانچ بھائی اور وہ اکلوتی بہن تھی اس کامیابی پرانجم کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب تھمنے کانام نہیں لے رہا تھا ۔ انجم کی ماں کا بھی یہی حال تھا ، وہ بار بار کہتی جارہی تھی اگر آج انجم کے والد زندہ ہوتے تو بہت خوش ہوتے کہ ان کی بیٹی جج بن گئی ہے۔
انجم کی ماں حمیدہ بیگم نے ٹائمز آف انڈیا اخبار کو بتلایا کہ ہمارے معاشی حالات بہت خراب تھے ۔ یہاں تک کہ پیسے نہ ہونے سے ہم نے عدالت میں ان کیسوں سے دستبرداری اختیار کرلی جو انجم کے والد کے قاتلوںکے خلاف درج تھے۔ حمیدہ بیگم کے مطابق میری پہلی ترجیح ہمارے بچوں کی تعلیم تھی، مجھے آج فخر ہے کہ میری لڑکی نے اپنے والد کے خواب کو سچ کر دکھایا (بحوالہ اخبار ٹائمز آف انڈیا 15 اکتوبر 2017 )
ماں اگر چاہے تو بچوں کیلئے کیا کچھ نہیں کرسکتی ہے ۔ حمیدہ بیگم کی کہانی یہی تو بیان کرتی ہے ۔ شوہر کا انتقال ہوگیا ۔ آمدنی کے ذرائع ختم ہوگئے۔ بچوں کی کفالت کیلئے وسائل اکھٹا کرنا ہی بڑی بات بن گئی تھی ، ایسے میں اپنی چھوٹی بچی کو وہ تعلیم دلوانا جس کا شوہر نے مرنے سے پہلے خواب دیکھا تھا اور اس خواب کی تکمیل کیلئے 25 برسوں کی طویل محنت ثابت کرتی ہے کہ عزم مصمم ہو تو کوئی بھی چیز ناممکن نہیں۔

کویتا لکشمی ایک ملیالم فلم آرٹسٹ ہیں۔ استری دھانم نام کے سیرئیل میں ان کا رول بہت مشہور ہے ۔ 43 برس کی اس خاتون کی 13 سال قبل اپنے شوہر سے علحدگی ہوگئی تھی ، اب کویتا اپنی ایکٹنگ کے ذریعہ سے اپنے بچوں کی تعلیم اور گزر بسر کا سامان پیدا کر رہی ہے ۔ کویتا کے بڑے لڑ کے نے اپنے ماں سے خواہش کی کہ وہ لندن جاکر ایک ماہر شیف بننے کا کورس کرنا چاہتا ہے ۔ کویتا کو پتہ تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو انڈیا میں ہی رہ کر MBA کرواسکتی ہے ۔ مگر باہر اور وہ بھی لندن بھجواکر “Chef” بنوانا بس سے باہر کی بات تھی، کویتا اپنے بیٹے کے شیف بننے کے ارادے کو بدلوانے کے لئے اسے کیرالا کے ہی ایک ہوٹل میں بطور شیف کام کرنے بھجواتی ہے اور ہو ٹل کے مینجر سے کہتی ہے کہ اس کے لڑکے کو کچن میں خوب سے کام پر لگواؤ تاکہ شیف بننے کا بھوت اس کے دماغ سے اتر جائے اور صرف MBA کرنے پر آمادہ ہوجائے۔
کچھ ہی مدت کے بعد ہوٹل کا مینجر کویتا کو فون کر کے اطلاع دیتا ہے کہ تمہارا بیٹا تو واقعی محنتی ہے اور وہ تو کچن میں کمال کا کام کر رہا ہے اور اگر تم اس کو لندن بھیج کر (Chef) بناسکتی ہو تو بہت بہتر ہوگا ۔ کویتا سیرئیل میں ایکٹنگ کر کے اتنے پیسے تو کمالے رہی تھی کہ گھر کا خرچ اور بچوں کی تعلیمی ضروریات پوری ہوسکے مگر بچے کو باہر بھیج کر پڑھانا مشکل تھا۔ خیر سے ایک ایجنٹ سے بات کر کے کویتا نے اپنے بچے کو اسٹوڈنٹ ویزا پر (Chef) بننے کیلئے بھیج دیا ۔ لڑکا لندن جانے کے بعد کویتا کو پتہ چلا کہ اب کویتا کو اپنے لڑکے کیلئے ہر مہینے دیڑھ لاکھ کا خرچ بھیجنا ہے ، صرف سیرئیلوں میں ایکٹنگ کر کے اتنے پیسے جمع کرنا کویتا کے لئے مشکل تھا لیکن کویتا نے اپنے بیٹے سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس کو لندن میں رہ کر پڑھنے کیلئے اسپانسر کرے گی۔
کویتا کا لڑکا آکاش بھی لندن جانے کے بعد پار ٹائم میں جاب بھی کر رہا ہے مگر اتنے پیسے نہیں جمع ہورہے ہیں کہ سارے خرچے پورے ہوں ، ایسے میں کویتا نے ایکٹنگ کے علاوہ کیرالا ، ٹاملناڈو کے درمیان واقع شاہراہ پر ایک کھانا پکانے کی موبائیل وہاں شروع کردی ۔ اب کویتا صبح میں سیرئیل کی شوٹنگ کے لئے جاتی ہے اور وہاں سے شام میں واپس آکر ہائی وے پر دوسے آملیٹ اور دوسرے ملیالی کھانے پکاکر فروخت کرتی ہے ۔ Asia Net ملیالی ٹی وی چیانل سے بات کرتے ہوئے کویتا نے بتلایا کہ میں نے بہت زیادہ آرام دہ زندگی گزارنے کے خواب نہیں دیکھے ہیں، ہاں میں اپنے بچوں کو بہترین تعلیم کے زیور سے آراستہ ضرور کرنا چاہتی ہوں۔ کویتا کی دوسری لڑکی 10 ویں جماعت میں پڑھ رہی ہے اور چھٹی کے دن وہ بھی اپنی ماں کی پکوان میں مدد کرتی ہے ۔ سیرئیل کے علاوہ کویتا نے بعض فلموں میں بھی کام کیا ہے ۔ کیا سڑک کے کنارے اس طرح ہوٹل لگاکر کھانا پکاکر بیچنا خراب نہیں لگتا ، اس سوال کے جواب میں کویتا نے بتلایا کہ ’’کوئی نوکری خراب یا کمتر نہیں ہوتی ۔ محنت چاہے کوئی بھی ہو قابل احترام ہوتی ہے ‘‘۔ (بحوالہ نیوز منٹ 13 اکتوبر 2012 ء) ماں جب اپنے بچوں کیلئے خواب دیکھتی ہوں تو ان کو پورا کرنے کیلئے ہر مشکل جھیل جاتی ہے اور ماں کا حوصلہ جیت جاتا ہے۔
راجستھان کا شمار ایک ایسی ریاست کے طور پر ہوتا ہے ، جہاں ریت اور صحرا ہے لیکن اسی ریاست سے تعلق رکھنے والی لینا شرما نے طئے کیا کہ وہ ا پنی بچی کوایک ماہر تیراک (Swimmer) بنائیں گی تو سوچئے ریت کے ماحول میں رہنے والی خاتون اپنی بچی کو پانی میں تیرتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہے تو اس کی چاہت اور محنت کو دنیا بھکتی شرما کے نام سے جاننے لگی ہے ۔ 27 سال کی بھکتی شرما کا شمار کھلے پانی میں ہوتا ہے۔ انتارتیکا کے ٹھنڈے پانی میں تیرتے ہوئے اس خاتون تیراک نے ورلڈ ریکارڈ قائم کیا ہے۔
ماں جب اپنے بچوں کو آگے بڑھاناچاہتی ہے ، ان کو پڑھانا چاہتی ہے ۔ ترقی کے منازل طئے کرانا چاہتی تو ماں کیلئے بیوہ ہونا مسئلہ نہیں رہتا سڑک کے کنارے چائے بیچنا مسئلہ نہیں بنتا اور نہ ہی ریت کے ماحول میں سمندر کے خواب دیکھنا رکاوٹ بنتا ہے۔ یہ تو دور کے ڈھول سہانے والی بات تھی ۔ دوسروں کی یا دور کی بات نہیں خود ہمارے پڑوس اور اطراف و اکناف کے حالات کیسے ہیں۔ جاننا دلچسپی سے خالی نہیں۔

ایک خبر اکتوبر 2017 ء کی ہے کہ بیوی کی فرمائش پر شوہر ماں باپ سے الگ ہوکر رہنے لگتا ہے ، شوہر کی تنخواہ 15 ہزار ہے اور بیوی کی فرمائش ایک لاکھ کا مہنگا ٹی وی خریدنے کی ہے، شوہر فینانس پر ٹی وی بھی خرید لیتا ہے مگر آگے چلکر 10 ہزار میں گھر کا گزارا مشکل ہونے لگتا اور ٹی وی کے فینانس والے پیسے مانگنے لگتے ہیںتو یہی حیدرآبادی نوجوان پھانسی لیکر خودکشی کرلیتا ہے اور دو سال کی ایک بچی اور بیوی کو روتا ہوا چھوڑ کر چلاجاتا ہے ۔
15 اکتوبر 2015 ء کو اخبار انڈین اکسپریس نے دھوکہ دہی کے الزام میں ایک فرضی دھوکہ باز بابا کو گرفتار کرنے کی خبر شائع کی تفصیلات کے مطابق آصف نگر پولیس اسٹیشن کے حدود میں ایک مسلم خاندان نے پولیس میں شکایت درج کروائی کہ ایک بابانے ان کے بچوں کو اچھی نوکری دلانے کا وعدہ کر کے 70 لاکھ وصول کرلیئے اور جادو کر کے نوکری دلانے کا بھروسہ دلایا لیکن بچوں کو نوکری نہیں ملی تو ان بچوں کے ماں باپ نے پولیس میں بابا کے خلاف شکایت درج کروائی ۔ یہ کیسے ماں باپ ہیں جو بچوں کو نوکری دلانے کیلئے بابا کی جادوگری پر بھروسہ کرنے لگے اور وہ بھی ایسا بابا جو خود کو پولیس گرفتاری سے نہیں بچاسکا ، وہ کیا خاک کسی دوسرے کو فائدہ پہونچا سکے گا۔ یہی 70 لاکھ کی رقم سے محنتی آدمی تو ہزاروں کا فائدہ حاصل کرلیتے ہیں۔ مگر محنت کون کرے گا جب ماں باپ ہی جادوگر کے توسط سے نوکری ملنے کا یقین کر بیٹھے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ماں باپ اپنی ذمہ داریاں کو سمجھیں اور اپنی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کیلئے باباؤں کے در پر نہیں بلکہ خدائے پاک ذوالجلال واکرام کے دربار میں اپنے معاملات کو درست کرے پھر دیکھیں کوئی چیز مسئلہ نہیں رہتی ہے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT