Friday , November 24 2017
Home / Top Stories / خواتین تحفظ بل کی پارلیمانی منظوری کیلئے خاتون ارکان کی یک آواز

خواتین تحفظ بل کی پارلیمانی منظوری کیلئے خاتون ارکان کی یک آواز

ایک ایم پی کی پارلیمنٹ ہاؤس تک موٹر سائیکل سواری ۔ صرف 33 فیصد ریزرویشن حل نہیں ۔ اقتصادی و تعلیمی شعبے میں بھی شمولیت کا مطالبہ
نئی دہلی ۔ 8مارچ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) پارلیمنٹ میں آج عالمی یوم خواتین کے موقع پر راجیہ سبھا میں ارکان نے پارلیمان اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کیلئے 33 فیصد ریزرویشن کی فراہمی کیلئے قانون سازی کو لوک سبھا میں عاجلانہ طورپر منظور کرانے کی پرزور اپیل کی جبکہ لوک سبھا میں خاتون ارکان نے پارلیمنٹ ہاؤس تک موٹر بائیک کی سواری کرنے سے لے کر عبادت کیلئے مندروں میں خواتین کے داخلے کی اجازت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اقتصادی شعبے میں تمام طبقات کی شمولیت اور تعلیم خواتین کو بااختیار بنانے کی کلیدی چیزیں ہیں، لیکن ساتھ ہی لوک سبھا میں بعض ایم پیز نے کہاکہ خواتین کے بل کی منظوری ہی واحد حل نہیں ، بلکہ ملک میں خواتین کے مرتبے کو بہتر بنانے کیلئے زیادہ بڑے اقدامات درکار ہیں۔ اعداد و شمار کے ذریعہ اپنی بات پیش کرتے ہوئے بعض ارکان نے کہاکہ پارلیمانی قائمہ کمیٹی میں ان کی عددی طاقت بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ شتابدی رائے ( ٹی ایم سی ) نے کہا کہ یوں تو آج بین الاقوامی یوم خواتین ہے ، لیکن اس خاتون کیلئے کچھ نہیں بدلا جو خادمہ کے طورپر کام کرتی ہے یا وہ جو ٹریفک سگنلس پر اپنی گود میں اپنے بچہ کو لئے بھیک مانگتی ہے ، انھوں نے کہاکہ تعلیم ہی کلید ہے کہ خواتین یقینی طورپر مردوں کے مساوی کمائی کرسکتی ہیں اور سماج میں اپنا مقام پاسکتی ہیں ۔ ’’ہمیں بس میں علحدہ نشست نہیں چاہئے بلکہ ہم تو وہ بس چلانا چاہتے ہیں ۔ ہمیں علحدہ قطاریں نہیں چاہئے ۔ کوئی ٹیکس استثنیٰ نہیں ہونا چاہئے ۔ میں چاہتی ہوں کہ 5 کروڑ روپئے کماؤں اور مرا مکمل ٹیکس ادا کروں ‘‘ ۔

پرتوشیاسنگھ ( بی جے ڈی ) نے خواتین کی زبوں حالی اور لڑکیوں کی غیرقانونی منتقلی کو اُجاگر کیا ۔ ہیمامالینی ( بی جے پی ) نے کہاکہ خواتین کئی کام انجام دینے میں کامیاب ہوئیں اور وہ گھر اور کام کے درمیان توازن قائم رکھنے کا فن جانتی ہیں۔ بھاؤناگاڑلی ( شیوسینا ) نے مہاراشٹرا کی شان مندر میں متعلقہ حکام کی جانب سے پوجا کے مقام پر خواتین کو داخلے کی اجازت سے انکار کا حوالہ دیا اور کہا کہ یوں تو ہم مساوات کی بات کرتے ہیں لیکن ہم مندوں کو نہیں جاسکتے ۔ پی کے سریمتی ٹیچر ( سی پی آئی ۔ایم) نے کہاکہ لوک سبھا میں 12 فیصد خواتین کی عددی طاقت ہے جسے بڑھانا چاہئے ۔ انھوں نے کہا کہ طالبان خطرہ کے باوجود افغانستان میں خواتین کیلئے 28 فیصد ریزرویشن ہے ۔ سپریا سولے ( این سی پی ) نے بی جے پی رکن رما دیوی اور پی کے سریمتی ٹیچر کا حوالہ دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ کس طرح وہ ترقی کرتے ہوئے ایم پیز بن گئیں حالانکہ انھیں مشکلات کا سامنا رہا نیز ان ارکان کا کوئی سیاسی پس منظر نہ رہا ۔ میناکشی لیکھی ( بی جے پی ) نے نائب صدر حامد انصاری کی ایک حالیہ تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے نشاندہی کی کہ خواتین کا دونوں ایوان کے محکمہ سے متعلق قائمہ کمیٹیوں اور دیگر پیانلوں میں بہت کم وجود ہے ، جو ایوان زیریں میں ان کی عددی طاقت 124 سے متناسب نہیں ہے ، رنجیت رنجن (کانگریس ) جنھوں نے آج پارلیمنٹ ہاؤس تک موٹر سائیکل چلائی اور کے گیتا (وائی ایس آر کانگریس ) نے کہاکہ لوک سبھا میں ریزرویشن کوئی حل نہیں بلکہ خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے زیادہ بڑی مساعی درکار ہے ۔

راجیہ سبھا میں پارٹی خطوط سے بالاتر ہوکر ارکان تمام مقننہ جات میں خواتین کیلئے 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرنے کی قانون سازی کی عاجلانہ منظوری کیلئے جذباتی اپیل کی ۔ جہاں راجیہ سبھا نے ٹھیک چھ سال قبل خواتین تحفظ بل کو منظوری دیدی تھی ، لیکن تب سے یہ قانون سازی لوک سبھا ، میں زیرالتواء ہے ۔ یوم خواتین کے موقع پر ایوان بالا نے فیصلہ کیا کہ ایسی تمام خاتون ارکان کو جنھوں نے وقفہ صفر میں مسائل اُٹھانے کیلئے نوٹسیں دیئے تھے ، انھیں پہلا موقع دیا جائے۔ کانگریس ارکان نے یوپی اے حکمرانی کے دوران 9 مارچ 2010 ء کو راجیہ سبھا میں یہ بل منظور کرانے کا سہرا اپنے سر باندھ لیا اور جاننا چاہا کہ موجودہ حکومت کیا کررہی ہے جبکہ اسے لوک سبھا میں قطعی اکثریت حاصل ہے ۔ ڈپٹی چیئرمین پی جے کورین نے خواتین ریزرویشن مسئلے پر مباحث کی تجویز پیش کی ۔ ’’ہم بالواسطہ دباؤ ڈال سکتے ہیں تاکہ یہ بل ( لوک سبھا میں بھی ) منظور ہوجائے ‘‘۔ مملکتی وزیر پارلیمانی اُمور مختار عباس نقوی نے کہاکہ حکومت اس مسئلہ پر مباحث کیلئے تیار ہے۔ وزیر اقلیتی اُمور نجمہ ہبتہ اﷲ نے کہا کہ وہ بحیثیت وزیر وقفہ صفر کی نوٹس نہیں دے سکتیں لیکن اس مسئلہ پر اظہارخیالی کرنا چاہیں گی ۔ انھوں نے افسوس ظاہر کیا کہ دستوری ترمیمی بل راجیہ سبھا کی جانب سے منظور کیا گیا ، لیکن لوک سبھا میں ہنوز معرض التواء ہے جبکہ اس معاملے پر سب سے پہلے 1995 ء میں مباحث ہوئے تھے ۔

TOPPOPULARRECENT