Thursday , June 21 2018
Home / ہندوستان / خواتین رات کے وقت باہر کیوں گھومتی ہیں ؟

خواتین رات کے وقت باہر کیوں گھومتی ہیں ؟

لندن ۔ 2 مارچ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام) نربھئے اجتماعی عصمت ریزی مقدمہ کے ایک کلیدی ملزم نے ایک صدمہ انگیز انٹرویو دیتے ہوئے مہلک جنسی حملے کیلئے متاثرہ خاتون پر الزام عائد کیا ہے ۔ مکیش سنگھ نے جو اُس بس کا ڈرائیور تھا جس میں عصمت ریزی کاواقعہ ہوا کہا کہ جو عورتیں رات کے وقت باہر گھومتی ہیں وہی ملزم قرار پاتی ہیں کیونکہ وہ مردوں کو بدسلوکی کی ترغیب دیتی ہیں۔ اُس نے جیل سے بی بی سی کو حال ہی میں ایک انٹرویو دیتے ہوئے جو 8 مارچ کو نشر کیا جائے گا کہا کہ نربھئے پر جنسی حملہ کرکے اُسے ہلاک کردیا گیا تھا جب اُس کی عصمت ریزی کی جارہی تھی تو اُسے مزاحمت نہیں کرنی چاہئے تھی ، اُسے صرف خاموش رہنا اور عصمت ریزی کی اجازت دینا چاہئے تھا ۔ اپنے انٹرویو میں اُس نے کہاکہ اچھی لڑکیاں رات 9 بجے اِدھر اُدھر نہیں گھومتیں ۔ عصمت ریزی کیلئے لڑکے سے زیادہ لڑکی ذمہ دار ہوتی ہے ۔ لڑکیاں اور لڑکے مساوی نہیں ہیں۔ گھریلو کام لڑکیوں کے ہیں ۔ ڈسکو اور بارس میں غلط لباس میں رات کے وقت گھومنے والی لڑکیاں اچھی نہیں ہوتیں ۔ اُس نے کہا کہ صرف 20 فیصد لڑکیاں اچھی ہوتی ہیں ۔ سزائے موت کے بارے میں اُس نے کہاکہ سزائے موت سے لڑکیوں کیلئے خطرے میں اضافہ ہوجائے گا ۔ جو مرد عصمت ریزی کریں گے وہ لڑکی کو زندہ نہیں چھوڑیں گے بلکہ اُس کا قتل کردیں گے ۔ دہشت انگیز حملے کے بعد جس کو سنگھ ایک حادثہ قرار دیتا ہے کہا کہ عصمت ریزی اور زدوکوب نوجوان عورت اور اُس کے دوست کو سبق سکھانے کیلئے تھی کہ اُنھیں رات میں باہر نہیں گھومنا چاہئے ۔
نربھئے کی اجتماعی عصمت ریزی 18 ڈسمبر 2012 ء کو پیش آئی تھی جس پر پورے ہندوستان اور دنیا بھر میں برہمی پھیل گئی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT