Tuesday , November 21 2017
Home / جرائم و حادثات / خواتین سے چھیڑ چھاڑ پر قابو پانے تشکیل دی گئی شی ٹیم کا ایک سال مکمل

خواتین سے چھیڑ چھاڑ پر قابو پانے تشکیل دی گئی شی ٹیم کا ایک سال مکمل

300 افراد کی گرفتاری ، کمسن لڑکے اور معمر افراد بھی شامل ، اڈیشنل کمشنر سواتی لکرا سے بات چیت
حیدرآباد /27 اکٹوبر ( سیاست نیوز) خواتین سے چھیڑ چھاڑ اور ہراسانی کی روک تھام کیلئے قائم کی گئی ’’ شی ٹیم ‘‘ کے ایک سال مکمل ہونے پر اس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں ۔گذشتہ ایک سال میں شی ٹیم نے کامیاب طور پور 300 افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں ضعیف اور کم عمر افراد بھی شامل ہیں ۔ ریاست تلنگانہ کے قیام کے بعد خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ہراسانی کی روک تھام کیلئے ایڈیشنل کمشنر پولیس کرائم شریمتی سواتی لکرا کی قیادت میں 24 اکٹوبر 2014 کو  شی ٹیم قائم کی گئی تھی جو عوامی مقامات ، کالجس اور دیگر مقامات خواتین سے بدسلوکی ، چھیڑ چھاڑ اور دست درازی میں ملوث ہونیوالوں کے خلاف بروقت کارروائی کرتی ہے ۔  سب انسپکٹر کے رتبہ پر مشتمل فی شی ٹیم نے تین مرد کانسٹیبلس موجود ہوتے ہیں خفیہ کیمرے سے منچلے نوجوانوں اور دیگر افراد کی ویڈیو گرافی کرتے ہوئے خواتین سے چھیڑ چھاڑ میں ملوث ہونے والوں کو فوری حراست میں لیتے ہیں ۔ شی ٹیم کے ایک سال مکمل ہونے پر اس ٹیم کے سربراہ شریمتی سواتی لکرا نے سیاست نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ خواتین اور لڑکیوں سے چھیڑ چھاڑ کے واقعات میں کمی ہوئی ہے اور نوجوانوں کے برتاؤ میں بھی تبدیلی پائی گئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ گذشتہ ایک سال قبل شی ٹیم قائم کی گئی تھی جس کا اہم مقصد یہ ہے کہ ریلوے اسٹیشنس ، مالس ، بس اسٹاپس ، کالجس اور دیگر عوامی مقامات پر راہ چلتی لڑکیوں اور خواتین کو نوجوانوں کی جانب ہراساں کئے جانے کے خلاف بروقت کارروائی کرنا ہے۔ اس مقصد میں شی ٹیم نے کامیابی حاصل کی ہے اور اس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے ہیں چونکہ اب تک 300 افراد کے خلاف کارروائی کی جاچکی ہے جس میں 120 کم عمر لڑکے بھی شامل ہیں اور بعض واقعات میں 70 سال کے ضعیف العمر اشخاص کے خلاف بھی کارروائی کی گئی ہے ۔ شریمتی سواتی لکرا نے بتایا کہ پولیس کنٹرول روم نمبر 100 پر کئی فون کالس موصول ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ سوشیل نیٹ ورکنگ ویب سائیٹ فیس بک ، ٹوئیٹر اور واٹس اپ پر چھیڑ چھاڑ سے متعلق شکایتیں بھی موصول ہوتی ہیں جس کے خلاف بروقت کارروائی کی جاتی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ مسلسل چھیڑ چھاڑ کے واقعات میں ملوث پائے جانے پر شی ٹیم نربھئے ایکٹ 2013 کے تحت کارروائی کرتی ہے جس میں جیل بھیجنا لازم ہے ۔ کم عمر لڑکوں کو حراست میں لئے جانے کے بعد ان کی کونسلنگ کی جاتی ہے اور ان کے والدین کی موجودگی میں انہیں اپنے حرکتوں سے باز آنے کا انتباہ بھی دیا جاتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ خواتین عزت کرنے اور ان سے چھیڑ چھاڑ نہ کرنے سے متعلق کالجوں میں شعور بیداری کیمپ بھی منعقد کئے جاتے ہیں۔ شریمتی لکرا نے بتایا کہ شی ٹیم کے قائم کے بعد عوام میں اپنا بھرپور تعاون دیا ہے جس کے ذریعہ انہیں یہ کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ شی ٹیم کے قیام سے قبل خواتین اور لڑکیاں چھیڑ چھاڑ کے واقعات کے خلاف پولیس میں شکایت کرنے سے گریز کیا کرتی تھی لیکن شی ٹیم جس کے تحت ان کی شناخت پوشیدہ رکھے جانے کے باعث چھیڑ چھاڑ کے بے شمار واقعات درج کئے گئے ہیں ۔ انہوں نے خواتین سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی نوجوان کی جانب سے ہراسانی کے شکار ہونے پر وہ بے باکی سے پولیس کنٹرول روم کو اس بات کی اطلاع دیں کیونکہ حیدرآباد سٹی پولیس خواتین کی تحفظ کو اولین ترجیح دیتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT