Tuesday , December 11 2018

خواتین پر تشدد سے سختی سے نمٹنا ضروری : عدالت

نئی دہلی 21 مئی (سیاست ڈاٹ کام) اپنی 26 سالہ بیوی کو خودکشی پر مجبور کرنے کے مجرم ایک شخص کو دہلی کی عدالت نے 7 سال کی سزائے قید سناتے ہوئے کہاکہ خواتین پر تشدد سے سختی سے نمٹا جانا چاہئے۔ ایڈیشنل سیشن جج سندیپ یادو نے کہاکہ مجرم اودے نارائن یادو کسی بھی نرمی کا مستحق نہیں ہے کیونکہ ایسے مقدمات میں کسی بھی قسم کی بھی نرمی کے نتیجہ میں معا

نئی دہلی 21 مئی (سیاست ڈاٹ کام) اپنی 26 سالہ بیوی کو خودکشی پر مجبور کرنے کے مجرم ایک شخص کو دہلی کی عدالت نے 7 سال کی سزائے قید سناتے ہوئے کہاکہ خواتین پر تشدد سے سختی سے نمٹا جانا چاہئے۔ ایڈیشنل سیشن جج سندیپ یادو نے کہاکہ مجرم اودے نارائن یادو کسی بھی نرمی کا مستحق نہیں ہے کیونکہ ایسے مقدمات میں کسی بھی قسم کی بھی نرمی کے نتیجہ میں معاشرہ میں غلط پیغام پہونچ سکتا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ جرم کی سنگین نوعیت کے مطابق سزا دی جانی چاہئے تاکہ سماج پر مختلف اثر مرتب ہوسکے۔ عدالت نے کہاکہ نوجوان بیوی سے بے رحمانہ سلوک اور اُسے خودکشی پر مجبور کرنے والا شخص کسی بھی نرمی کا مستحق نہیں ہے۔ جج نے کہاکہ ایک نوجوان خاتون ظالمانہ سلوک کی وجہ سے اپنی زندگی کھو بیٹھی جو مجرم اودے نارائن یادو نے اُس پر روا رکھا تھا۔ مجرم کا یہ جرم درحقیقت خاتون کے خلاف جرم تھا اور اِس سے سختی سے نمٹا جانا چاہئے۔ ایسے مقدمات میں کسی بھی قسم کی نرمی سماج کو غلط پیغام دے گی۔متوفی کے والد اور والدہ کو اُن کی بیٹی کی قبل ازوقت غیرطبعی موت سے جو ذہنی اور روحانی اذیت پہنچی ، اِس کا تقاضہ ہے کہ مجرم کے ساتھ کوئی نرمی نہ کی جائے ورنہ اِن عمر رسیدہ شہریوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ اودے نارائن کو قانون تعزیرات ہند کی خواتین پر ظلم اور خودکشی پر مجبور کرنے سے متعلق دفعات کے تحت سزا سنائی گئی۔

TOPPOPULARRECENT