Monday , June 25 2018
Home / ہندوستان / خواتین کو بااختیار بنانا وقت کی ضرورت مگر بڑا چیلنج

خواتین کو بااختیار بنانا وقت کی ضرورت مگر بڑا چیلنج

اسپیکر لوک سبھاسمترا مہاجن کا بیان ‘ خواتین کے مسئلہ پر پارلیمنٹ میں انوکھا اتفاق رائے

نئی دہلی ۔ 8مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) خواتین کو بااختیار بنانا وقت کی ضرورت ہے اور ایک بڑا چیلنج بھی ہے‘ اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن نے آج یہ بات کہی اور بین الاقوامی یوم خواتین کے موقع پر صنف نازک کی تمام برادری کیلئے نیک تمنائیں پیش کیں ۔ سمترا مہاجن نے آج لوک سبھا کی کارروائی کے آغاز پر اس مسئلہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے زور دیا کہ آج خواتین کی ہمہ جہت ترقی کے لئے مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سماج میں مثبت تبدیلی یقینی بنائی جاسکے ۔ ’’ اگر آپ آدمی اور عورت کو انسانیت کے دو پنکھ سمجھیں تو انہیں بااختیار بنانا نہایت ضروری ہے تاکہ وہ اچھی طرح اونچی پرواز کرسکیں ۔‘‘ اسپیکر لوک سبھا نے ان الفاظ کے ساتھ آج کے موقع پر مزید کہا کہ خواتین کو با اختیار بنانا موجودہ ماحول میں دنیا کیلئے بڑا چیلنج ہیں ۔ اس دوران پارلیمنٹ کے دونوں ایوان راجیہ سبھا اور لوک سبھا میں آج لگاتار چوتھے روز معمول کی کارروائی میں خلل پڑا ‘ لیکن دونوں ایوان نے یہ پیام دیا کہ بین الاقوامی یوم خواتین کے موقع پر ان کے حقوق کے تحفظ کیلئے بھرپور سعی کی جائیگی ۔ ایوان بالا میں ارکان نے خواتین تحفظات بل کی عاجلانہ منظوری چاہی تاکہ پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کو 33فیصد ریزرویشن فراہم کئے جاسکے ۔ راجیہ سبھا دن کی کارروائی شروع ہوتے ہی خواتین کے مسائل پر ایک گھنٹہ طویل مباحث منعقد کئے گئے جس میں ارکان نے پارٹی خطوط سے بالاتر ہوکر تشویش کا اظہار کیا کہ خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں ‘ اور ویمنس کوٹہ بل کی عاجلانہ منظوری پر زور دیا ۔ ایوان بالا میں یہ ایک انوکھا موقع رہا جہاں دوشنبہ سے مختلف مسائل پر احتجاجوں کے سبب ایوان کی کارروائی شوروغل کی نظر ہوتی آئی ہے ‘ وہاں ارکان نے آج اپنی سیاسی وابستگیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خواتین کے کاز کے بارے میں متحدہ آواز اٹھائی ‘ لیکن جیسے ہی خواتین کے مسئلہ پر مباحث اختتام پذیر ہوئے ‘ بعض اپوزیشن پارٹیوں جیسے ٹی ڈی پی و دیگر کے ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور مختلف مسائل مثلاً بینکنگ اسکام اور کاویری کے پانی کی تقسیم سے متعلق تنازعہ کے بارے میں احتجاج کرتے ہوئے نعرے بلند کئے ۔ اس پر صدر نشین ایم وینکیا نائیڈو نے خفگی ظاہر کی جسے شوروغل کے درمیان سنا نہیں جاسکا ‘ اور پھر انہوں نے ایوان کی کارروائی کو 2بجے دن تک کیلئے ملتوی کردیا۔
بہار میںریزرویشن کیلئے نعرے بازی
پٹنہ، 8 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بہار اسمبلی میں آج عالمی یوم خواتین کے موقع پر حکمراں پارٹی اور اپوزیشن کی خاتون اراکین نے متحد ہوکر مقننہ میں ریزرویشن کے مطالبے پر جم کر نعرے بازی کی۔ اسمبلی کی کارروائی شروع ہونے کے بعد جنتا دل یونائٹیڈ (جے ڈی یو)، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کی خواتین اراکین اسمبلی نے متحد ہوکر مقننہ میں 33 فیصد ریزرویشن کا مطالبہ کیا۔ اپنی مانگ کی حمایت میں وہ ‘ریاست کی خواتین کرے پکار، خواتین کو ریزرویشن کا ملے ادھیکار’، ‘لوہیا کا خواب کرو ساکار ، مہیلا کو ملے برابر ادھیکار’، ‘برابری کا ساتھ نبھائیں، خواتین اب آگے آئیں’ ۔
اور ‘ مہیلا کا کرو سمان، تبھی بنے گا دیش مہان’کے نعرے لگاتے ہوئے ایوان کی چاہ میں آ گئیں۔ انہوں نے تقریبا 11 منٹ تک نعرے بازی کی۔ اس سے قبل اسپیکر وجے کمار چودھری نے عالمی یوم خواتنی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ نے خواتین کو بااختیار بنانے کے لئے سال 1977 سے ہر سال 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین منانے کی شروعات کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اس بار یوم خواتین کا تھیم ‘پریس فار پروگریس’ ہے ۔ اس کے پیش نظر اگر ایوان کی رضامندی ہو تو وقفہ سوالات میں خواتین ارکان کو ترجیح دیتے ہوئے ان کے سوالات پہلے سنے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر کو خوشی ہے کہ خواتین کے معاملے میں پورا ایوان متحد ہے ۔ حالانکہ اس کے بعد بھی خاتون ممبران اسمبلی کی نعرے بازی جاری رہنے پر انہوں نے کہا کہ “آپ جو مطالبہ کر رہی ہیں وہ اس ایوان کا معاملہ نہیں ہے ۔ یہ پارلیمنٹ کا معاملہ ہے “۔

TOPPOPULARRECENT