Sunday , November 19 2017
Home / شہر کی خبریں / خواتین کو حصول انصاف رسانی کے لیے دشواریاں برقرار

خواتین کو حصول انصاف رسانی کے لیے دشواریاں برقرار

انسداد گھریلو تشدد قانون نفاذ کے گیارہ سال ، اے پی میں موثر عمل تلنگانہ میں لاپرواہی
حیدرآباد۔15فروری(سیاست نیوز) قانون انسداد گھریلو تشدد 2005پر مؤثر عمل آوری نہیں ہو پا رہی ہے جبکہ قانون کے نفاذ کو 11سال کا عرصہ گذر چکا ہے اس کے باوجود اس قانون کے ذریعہ گھریلو مظالم کا شکار خواتین کو انصاف رسانی کے عمل میں دشواریاں اب بھی برقرار ہیں۔ غیر سرکاری تنظیم کی جانب سے تیار کردہ مطالعاتی رپورٹ کے مطابق گھریلو تشدد کے انسداد کے سلسلہ میں کوئی قانون موجود ہے اس بات سے اب بھی 90فیصد خواتین واقف نہیں ہیں اور جو ان مظالم کے خلاف پولیس اسٹیشن سے رجوع ہوتی ہیں ان میں 50فیصد سے زیادہ مقدمات میں انصاف رسانی کے عمل میں 2تا4سال کا عرصہ گذر جاتا ہے۔38 فیصد مقدمات ایسے ہیں جن میں 4تا6سال درکار ہوتے ہیں اسی طرح 25فیصد مقدمات تو ایسے موجود ہیں جن میں 7تا12سال لگنے لگے ہیں۔ گھریلوتشدد کے شکار خواتین کا کہنا ہے کہ انہیں سرکاری طور پر مناسب مدد حاصل نہ ہونے کے سبب وہ پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 65فیصد متاثرین کاکہنا ہے انہیں محکمہ پولیس سے گھریلو تشدد کے مقدمات میں فی الفور کوئی مدد نہیں مل پاتی جس کے سبب ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہونے لگتا ہے۔جبکہ 84فیصد متاثرین کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں انہیں بہترین کونسلنگ سے زبردست فائدہ حاصل ہوا ہے۔

بھومیکا نامی خواتین کی تنظیم کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ انہو ںنے 2015ڈسمبر اور 2016فروری کے درمیان کئے گئے سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں خواتین پر گھریلوتشدد کے واقعات کی روک تھام کیلئے کوئی منظم میکانزم موجود نہ ہونے کے سبب خواتین انتہائی ابتر حالت میں زندگی گذارنے پر مجبور ہو رہی ہیں۔مسز کے ستیہ وتی نے بتایا کہ ایک روزہ سمینار یا ورکشاپ کے ذریعہ گھریلو تشدد کے واقعات کا خاتمہ ممکن نہیں ہے اسی لئے یہ ضروری ہے کہ خواتین کو گھریلو تشدد سے بچانے کیلئے پروٹیکشن آفیسر‘ کونسلرس‘ کی تعیناتی کے علاوہ وکلاء اور ججس کی تعیناتی عمل میں لائی جائے اور شیلٹر ہومس کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ آندھرا پردیش میں قانون انسداد گھریلو تشدد 2005پر مؤثر عمل آوری کیلئے ریاست کو ماڈل اسٹیٹ بنانے کا اعلان کرچکا ہے جبکہ ریاست تلنگانہ میں حالت بتدریج ابتر ہوتی جا رہی ہے جو کہ خواتین کی تنظیموں کے لئے تشویش کا باعث بنتی جا رہی ہیں۔ ریاست تلنگانہ میں اس قانون کو بہتر انداز میں نافذ کرنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ پروٹیکشن آفیسرس کی تعیناتی کے ساتھ انہیں ان کے حقوق اور اختیارات سے واقف کروایا جائے۔ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد ریاست میں جملہ 7مقدمات اس قانون کے تحت درج کئے گئے جبکہ ملک بھر میں انسداد گھریلو تشدد قوانین کے تحت 461مقدمات درج کئے گئے ہیں ۔خواتین کی تنظیمو ںکا ادعا ہے کہ سرکاری عہدیدار بھی اس مسئلہ پر سنجیدہ نہیں ہیں اور وہ بھی تفریق کے مرتکب بنتے ہیں۔

آج آر کے لکشمن میموریل لکچر
حیدرآباد ۔ 15 ۔ فروری : ( پریس نوٹ ) : جناب راجن شرما کے بموجب کارٹونسٹ آنجہانی آر کے لکشمن کی یاد میں جمعرات 16 فروری کو شام 6 بجے FTAPCCI آڈیٹوریم ریڈہلز میں بعنوان ’ کارٹونس اینڈ انڈین پالٹکس ‘ آر کے لکشمن میموریل لکچر مقرر ہے ۔ گورنر ای ایس ایل نرسمہن مہمان خصوصی ہوں گے ۔ شریمتی اوشا لکشمن اور ایم نارائنا صدر نشین پریس اکیڈیمی تلنگانہ اسٹیٹ خطاب کریں گے ۔ مسرز دیویندر سرانا اور رویندر مودی بھی شرکت کریں گے ۔۔

 

اوپن یونیورسٹی ڈگری میں داخلہ ، آج آخری تاریخ
حیدرآباد ۔ 15 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی میں ڈگری کورس بی اے ، بی کام ، بی ایس سی سال اول میں داخلے کیلئے اہلیتی امتحان 26 فروری کو مقرر ہے ۔ اس کے فارمس داخل کرنے کی آخری تاریخ 16 فروری مقرر ہے ۔ محمڈن انسٹی ٹیوٹ لاڈ بازار پر 24510012 پر ربط کریں۔۔

TOPPOPULARRECENT