Thursday , April 19 2018
Home / شہر کی خبریں / خواتین کو عام شعبوں میں مساوی مواقع فراہم کرنے کی وکالت

خواتین کو عام شعبوں میں مساوی مواقع فراہم کرنے کی وکالت

تمام طبقات کی یکساں ترقی کے لیے دستور میں اہم نکات موجود ، اردو یونیورسٹی میں کانفرنس
حیدرآباد۔16جنوری (سیاست نیوز) ملک کے تمام طبقات کو مساوی مواقع ۔ نظریات اور عمل و تفہیم کے عنوان سے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں منعقدہ کانفرنس کے دوران مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ افتتاحی اجلاس سے خطاب کے دوران مسز فلاویا ایگنس نے کہا کہ خواتین کو تمام شعبہ جات اور ادار وں میں مساوی مواقع فراہم کرنے کے علاوہ ان کے متعلق بنائے جانے والے قوانین پر مؤثر عمل آوری کو یقینی بنایاجانا ناگزیر ہے۔ اس افتتاحی تقریب میں پروفیسر عامر اللہ خان‘ پروفیسر شکیل احمد پرو وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی‘ مسٹر جی ایچ پی راجو آئی پی ایس کے علاوہ دیگر موجود تھے۔ افتتاحی تقریب کے بعد محترمہ نازیہ ارم کی کتاب ’’مدرنگ اے مسلم‘‘ کا رسم اجراء انجام دیا گیا۔ مسز فلاویا ایگنس نے طلاق ثلاثہ و دیگر قوانین کے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے قوانین کو صرف مدون کیا جانا کافی نہیں ہے بلکہ ان قوانین پر عمل آوری ضروری ہے۔ مسٹر جی ایچ پی راجو نے اپنے خطاب کے دوران دستور ہند میں دیئے گئے مساوی حقوق کے متعلق بتایا کہ تمام طبقات کی یکساں ترقی کے سلسلہ میں دستور میں کافی اہم نکات موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کی مجموعی ترقی کیلئے تمام شہریوں کو برابری کے حقوق کی فراہمی کے علاوہ انہیں مساوی مواقع فراہم کرنا ہی دستور ہند پر عمل آوری کے مترادف ہے۔ مسٹر جی سدھیر صدرنشین تلنگانہ کمیشن آف انکوائری کانفرنس کے افتتاحی سیشن کے بعد منعقدہ پہلے سیشن کے دوران اپنے خطاب کے دوران بتایا کہ مجموعی اعتبار سے مسلم لڑکے اور لڑکیوں میں تعلیم کا فقدان ہے اور اس سے زیادہ قابل غور بات یہ ہے کہ ترک تعلیم کا رجحان بھی کافی پایا جاتا ہے ۔ انہو ںنے بتایاکہ اس کی بنیادی وجہ معاشی بد حالی سمجھی جاتی ہے اور اسے دور کرنے کیلئے اقدامات کئے جانے چاہئے۔ مسٹر جی سدھیرنے بتایا کہ ریاست تلنگانہ کے سرکاری ملازمین میں مسلمانوں کا فیصد 7.36 ہے جبکہ ان کی آبادی 12.8 فیصد ہے۔انہوں نے ملازمتوں اور آبادی کے درمیان موجود اس فرق کو دور کرنے کی ضرورت پر زوردیا۔محترمہ نازیہ ارم نے اس سیشن سے خطاب کے دوران کہا کہ ہندستان میں مسلم بچوں کو جس طرح سے اسکولو ںمیں نشانہ بنایا جا رہا ہے اسے دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے بچپن سے ہی بچوں میں نفرت پیدا کی جا رہی ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ کتاب کی تحریر سے قبل انہوں نے 145خاندانوں سے ملاقات کی اور دہلی میں 114 اسکولی طلبہ سے ملاقات کے بعد اس نتیجہ پر پہنچی ہیں۔محترمہ نازیہ ارم نے کہا کہ حالیہ عرصہ میں زیر بحث رہنے والے موضوعات جیس ’’لو جہاد‘ لینڈ جہاد‘ گاؤ کشی‘ طلاق ثلاثہ ‘ دہشت گردی جیسے امور کو ایک مخصوص طبقہ کی حد تک محدود رکھنے کے سبب بھی یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے۔اس سیشن سے پروفیسر ابو صالح شریف ‘ محترمہ میرا شنائے‘ پروفیسر سنگیت کامت نے مخاطب کیا ۔کے علاوہ مزید دو سیشن کے دوران مختلف ماہرین نے جنس اور مساوات کے علاوہ معذوروں کو مساوی حقوق کی فراہمی کے سلسلہ میں اقدامات کے متعلق تفصیلات سے آگاہ کروایا۔

TOPPOPULARRECENT