Saturday , February 24 2018
Home / مضامین / خواتین کیا کچھ نہیں کرسکتی اگر چاہیں

خواتین کیا کچھ نہیں کرسکتی اگر چاہیں

محمد مصطفیٰ علی سروری
نمیتا بنکا کا تعلق گجرات سے ہے وہ ایک روایاتی ماڑواڑی خاندان سے تعلق رکھتی ہے ۔ اس کی ہمیشہ سے خواہش تھی کہ وہ اپنی زندگی میں کچھ نیا کرے لیکن اس کے گھر کے حالات ہی ایسے تھے کہ اس کو گھر کے باہر جاکر کام کرنے کی اجازت نہیں تھی ۔ نمیتا جب سورت گجرات میں رہتی ہے تو گھر پر جویلری کو ڈیزائن کرنے کا کام کرتی تھی ‘ نمیتا کی کاروبار کرنے کی دلچسپی کو دیکھ کر ایک دن اس کے والد کے دوست نے اس کی تعریف کی اورکہا کہ نمیتا تم تو ایک دن بڑی تاجر خاتون ہوگی ۔ نمیتا کو کچھ یاد ہو نہ ہو مگر اپنے والد کے دوست کی کہی بات اس کے ذہن پر نقش ہوکر رہ گئی ۔ماڑواڑی خاندان کی لڑکیوں کی طرح اس کی بھی شادی جلد ہوگئی لیکن سسرال میں بھی نمیتا کو باہر جاکر کام کرنے کی اجازت نہیں ملی تو وہ گھر پر رہتے ہوئے کاروبار کرنے لگی ۔ سورت سے وہ بنگلور شفٹ ہوگئی ‘ وہاں پر بھی وہ جویلری ڈیزائن کرنے کا کام کرتی رہی ۔ اس دوران اس کی صحت خراب ہوگئی کیونکہ وہ جہاں کام کرتی تھی وہاں عورتوں کیلئے ٹوائیلٹ نہیں تھے ‘ سال 2008ء میں نمیتا اپنے شوہر کے ساتھ حیدرآباد شہر آگئی ۔

حیدرآباد میں نمیتا جویلری کا نہیں کچھ دوسرا کام کرنا چاہتی تھی ‘ سال 2009ء میں اس نے Center for Social Initiative Management (CSIM) ادارہ سے غیر سرکاری تنظیم چلانے کا کورس سیکھا اور اس کے بعد ہی اپنی خود کی ایک کمپنی شروع کردی ۔ قارئین آپ سوچ رہے ہوں گے کہ نمیتا نے جویلری ڈیزائن کا کام چھوڑ کر جب خود اپنی کمپنی شروع کی تو وہ کوئی بہت بڑا کاروبار ہوگا لیکن حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ نمیتا نے ماحول دوست بیت الخلاء کی تعمیر کا پراجکٹ شروع کیا یعنی ایسا بیت الخلاء جس میں گندگی کو محفوظ طریقے سے ٹھکانہ لگایا جاتا ہے ۔
بہت چھوٹے پیمانے پر نمیتا نے یہ کاروبار شروع کیا تھا اور آج عالم یہ ہے کہ نمیتا کے شوہر سنجے بنکا نے اپنی کمپنی کی ملازمت چھوڑ کر نمیتا کے ساتھ ( اپنی بیوی کی کمپنی میں ) بطور منیجنگ ڈائرکٹر کام کرنا شروع کردیا ۔ Bank Bio Loo Pvt. لمٹیڈ کمپنی نے انسانی فضلے کو ماحول دوست طریقے سے ٹھکانے لگاکر گذشتہ 6برسوں کے دوران چار کروڑ روپیوں کا کاروبار کرلیا ہے ۔ ( بحوالہ تلنگانہ ٹو ڈے ۔ 14 نومبر 2017) ۔
کمپنی کے پراڈکٹس خریدنے والوں میں سب سے بڑا نام انڈین ریلوے کا ہے ‘ یہی نہیں نمیتا کے ان ماحول دوست بیت الخلاء کو ڈی آر ڈی او سے تکنیکی تعاون بھی ملا ‘ چیرالہ پلی میں اس کمپنی کے مینوفیکچرنگ یونٹ کام کررہے ہیں اور یہ ترقی کے راستے پر بڑی تیزی سے گامزن ہے ۔ نمیتا کی کامیابی ایک گھریلو خاتون کی ہمت و حوصلے کی کہانی ہے جس کو گھر والوں نے باہر نکلنے کا موقع نہ دیا تو وہ شکایات کا بازار نہیں لگائی اور جتنا کچھ موقع ملتا گیا آگے بڑھتی گئی ۔ یہاں تک کہ اس کی کمپنی اتنی بڑی بن گئی کہ اس کا شوہر اپنی نوکری کو چھوڑ کر اس کے ساتھ ہی اس کی کمپنی میں کام کرنے لگا ۔ نمیتا نے اپنی کامیابی کے متعلق اخبار ’’ تلنگانہ ٹوڈے ‘‘ کو بتایا کہ ’’ خواتین جب اپنی صلاحیتوں پر خود بھروسہ کرنے لگیں اور ان کے ہاں مشکلات کا سامنا کرنے کا پکا ارادہ ہو تو آگے بڑھنے اور ترقی کرنے سے انہیں کوئی نہیں روک سکتا ہے ‘‘ ۔

26نومبر 2008ء کی بات ہے مومنہ خاتون چار مہینے کی حاملہ تھی ‘ اس کا شوہر محمد عمر شیخ ایک ٹیکسی ڈرائیور تھا جو روز کی طرح اس دن بھی ٹیکسی چلانے نکلا تھا لیکن شام ہوتے ہوتے محمد عمر شیخ تو واپس نہیں آیا لیکن اس کی نعش گھر واپس آئی ۔ مومنہ خاتون کو پہلے ہی سے تین بچے تھے اور چوتھا بچہ ابھی دنیا میں نہیں آیا تھا لیکن وہ اب بیوہ ہوگئی تھی ۔ اس کا بچہ اب اپنے والد کو زندگی میں کبھی نہیں دیکھ سکتا تھا ‘ آج 9برس بیت گئے اس کا بڑا لڑکا 14برس کا ہوگیا اور اپنی ماں کا ہاتھ بٹانے کی کوشش کررہا ہے ۔ آٹھویں کلاس میں زیر تعلیم یہ لڑکا آگے پڑھ کر کمپیوٹر انجنیئر بننے کا ارادہ رکھتا ہے ۔ اپنی پڑھائی تو اچھے سے کرتا ہے ‘ ساتھ ہی اپنے چھوٹے بھائیوں کو بھی ہوم ورک کرنے اور پڑھنے میں مدد کرتا ہے ۔ مومنہ خاتون نے شوہر کے مرنے کے بعد زندگی گذارنا سیکھ لیا ہے ‘ اب وہ پھولوں کے گجرے بناکر بیجتی ہے لیکن ان گجروں کی فروخت سے گھر کا اور چار بچوں کا گذارہ مشکل ہے ۔ 26 نومبر 2008ء کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں میں مومنہ خاتون کا شوہر اپنی جان گنوا چکا تھا ۔ شوہر کے انتقال کے بعد سرکار کی طرف سے مومنہ کومعاوضہ دیا گیا تھا ‘ اسی معاوضہ کو بینک میں رکھ کر اس پر ملنے والی سود کی رقم سے وہ اپنے گھر کے اخراجات پورے کررہی ہے ۔ خیراتی تنظیموں کی طرف سے بچوں کے اسکول کی فیس اور تعلیمی خرچ ادا کیا جاتاہے ۔ مومنہ نے اخبار ’’ انڈین ایکسپریس ‘‘ کے نمائندے کو بتایا کہ وہ ممبئی کے ایک سلم علاقے میںرہتی ہے ۔ جہاں پر چھوٹے بچے بھی آوارہ گردی اور غیر صحت مند عادتوں کے شکار بن جاتے ہیں لیکن وہ اپنے بچوں کی ہر وقت نگرانی کرتی رہتی ہے اور ان کی تربیت کو یقینی بنانے مومنہ نے طئے کیا ہے کہ وہ کسی دوسرے علاقے میں اچھا گھر کرایہ پر لے لیکن اس کا موجودہ بجٹ اس کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا ‘ وہ کہتی ہے کہ جو کچھ بھی ہو اپنے بچوں کی تعلیم کو جاری رکھے گی اور ان کو اپنے پیروں پر کھڑا کرے گی ۔ (بحوالہ ’’ انڈین ایکسپریس 19نومبر 2017) ۔
مومنہ خاتون کی زندگی کی جدوجہد ثابت کرتی ہے کہ زندگی میں برا وقت آجائے ‘ اگر عورت ٹھان لیتی ہے تو نہ صرف اپنی مدد آپ کرتی ہے بلکہ پھولوں کے گجرے فروخت کر کے بھی اپنے بچوں کی روٹی جمع کرنے کا سامان کرلیتی ہے اور بچوں کو بری صحبت اور عادتوں کا شکار بننے نہیں دیتی ۔
غزالہ تسنیم دو بچوں کی ماں ہے ‘ گذشتہ دنوں جب ریاست بہار میں جوڈیشیل سرویس امتحانات کے نتائج کا اعلان کیا گیا تو کامیاب امیدواروں میں غزالہ تسنیم کا نام بھی شامل تھا ۔ غزالہ نے ایک بیوی ‘ ایک ماں اور اپنے گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ ایک Competative امتحان لکھ کر کامیابی حاصل کرتے ہوئے ثابت کیا کہ ماں بننے کے بعد بھی عورت تعلیم حاصل کرسکتی ہے ۔ اپنے دو بچوں کی تربیت کے ساتھ ساتھ آگے ترقی کا سفر جاری رکھ سکتی ہے ۔ شوہر کا خیال رکھنے کے علاوہ اپنی پسند کے کریئر کو اختیار کرسکتی ہے ۔ غزالہ تسنیم نے Muslim Mirror کی نمائندہ خوشبو خان کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ جوڈیشیل سرویس میں داخل ہونے کی تحریک ان کے والد سے ملی جو بطور ڈسٹرکٹ جج ریٹائرڈ ہوئے تھے ‘ غزالہ امین نے کئی ایک معنوں میں ایک نئی تاریخ رقم ہے ۔ غزالہ نے اپنے کریئر کے لئے کسی ادارے سے ٹریننگ نہیں لی بلکہ اپنے طور پر گھر پر ہی تیاری کی ۔ غزالہ نے امتحان کی تیاری کے متعلق بتایا کہ وہ گھر پر ہی روزآنہ 14 تا 15 گھنٹے پڑھتی تھی ۔ غزالہ نے اپنی اسکولنگ ایک اردو اسکول سے 1998ء میں پوری کی ۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے 12ویں اور ڈگری کی تعلیم حاصل کی ۔ 2007ء میں غزالہ نے امیٹی انٹرنیشنل اسکول سے ایم ایس سی بائیو ٹکنالوجی کا کورس کیا اس کے بعد اس کے والدین نے اس کی شادی ایک سرجن سے کروا دی ۔ اب غزالہ کی دلچسپی اور صلاحیتوں کو دیکھ کر اس کے شوہر ڈاکٹر محمد مظہر الحق نے اس کو جوڈیشیل امتحانات کیلئے تیاری کرنے کا مشورہ دیا ۔ ( بحوالہ مسلم مرر ‘11نومبر 2017 )
کلپنا کی عمر صرف 12سال تھی جب اس کی شادی کردی گئی تھی ۔ شادی کے بعد سسرال میں اس کو ایک گھریلو خادمہ کا رول نبھانا پڑا ‘ اپنی لڑکی کے اس طرح استحصال پر کلپنا کے والد نے اس کو واپس گھر بلالیا ‘ اپنے ماں باپ کے گھر واپس آکر کلپنا نے راحت کی سانس لی مگر اس کو کچھ عرصے بعد احساس ہوا کہ وہ اپنے ماں باپ کے گھر بھی خالی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھ سکتی ہے ۔ کلپنا نے مختلف جگہوں پر نوکری کی کوشش کی مگر ہرجگہ اس سے کہا جاتا تھا کہ کم سے کم ایس ایس سی پاس ہوتو ٹھیک ہے مگر کلپنا نے تو شادی کے بعد اسکول چھوڑ دیا تھا ‘ ایک مرتبہ حالات سے مایوس ہوکر کلپنا نے زہر کھالیا مگر اس کی خالہ نے بروقت اس کو طبی امداد دے کر بچالیا ۔ دواخانہ سے باہر نکل کر کلپنا نے ایک نئی زندگی شروع کی ۔ گاؤں میں صرف کھیتوں کا کام تھا ‘ کلپنا نے گاؤں سے باہر نکل کر ایک نئی زندگی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ۔ ممبئی جاکر کلپنا نے ہاؤزیری کی دکان سے کام شروع کیا پھر خود کا ایک بیوٹی پارلر کھولا ۔ آگے چل کر سرکاری امداد سے ایک این جی او شروع کی ۔ ایک زمین کا ٹکڑا ڈھائی لاکھ میں خریدا جس کی بعد میں قیمت 50لاکھ تک پہنچ گئی ۔ کلپنا اب رئیل اسٹیٹ کا کاروبار کرنے لگی ۔1997ء میں ایک ماروتی 800گاڑی سے سفر کرنے والی یہ خاتون آج بے شمار گاڑیوں کی مالک ہے ۔ اپنی دوسری شادی کے بعد کلپنا کے دو بچے ہیں جو جرمنی اور لندن میں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ سال 2013ء میں حکومت ہند نے اس دلت خاتون صنعت کار کو پدم شری کے اعزاز سے نوازا ہے ۔ یہ خاتون ہندوستان کی ایک معروف دلت خاتون صنعت کار کے طور پر مشہور ہے ۔ ( بحوالہ اخبار ’’ انڈین ایکسپریس ‘‘ 12جون 2017 )
مثالیں رہبری کیلئے دی جاتی ہیں ۔ برابری کیلئے نہیں ۔ اگر اُمت مسلمہ کی خواتین ‘ مائیں اور بہنیں عزم کرلیتی ہیں تو اُمت مسلمہ کو درپیش تمام چیالجنس کا حل ڈھونڈ نکالا جاسکتا ہے ۔ اپنی مدد آپ کرنا اور تجارت کرنا سنت ہے اور ایسا کرنے میں برکت کی بھی بشارت دی گئی ہے ۔ جب اخبارات میں یہ خبریں شائع ہوتی ہیں کہ مسلمان تعلیم یافتہ اور صاحب جائیداد خواتین کو پولیس نے بھیک مانگنے کی پاداش میں گرفتار کردیا ہے تو یقین جانیئے دلی تکلیف ہوتی ہے ۔ اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو راہ راست پر چلنے میں آسانی عطا کر اور نیک کاموں کیلئے استقامت عطا فرمائے ( آمین ) ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT