Tuesday , December 12 2017
Home / Top Stories / خواتین کیلئے خوشنما وعدے کافی نہیں‘ آئی ایم ایف سربراہ کا بیان

خواتین کیلئے خوشنما وعدے کافی نہیں‘ آئی ایم ایف سربراہ کا بیان

خواتین گروپ کا قیام ‘ صنفی معاشی مساوات مقصد ‘ جی 20 چوٹی کانفرنس کا فیصلہ ‘وزیراعظم ترکی کی بھی تقریر

انقرہ۔6ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) دنیا کی 20 سرفہرست معیشتوں میں اپنا شعبہ خواتین W-20 قائم کیا ہے تاکہ سب کو ساتھ لیکر معاشی ترقی کیلئے صنفی مساوات برقرار رکھی جاسکے ۔ آئی ایم ایف کی سربراہ کرسٹین لاگارڈ نے  آج کہا کہ خواتین کیلئے صرف خوشنما وعدے کافی نہیں ہیں ۔ تمام تیقنات پر عمل آوری کی جانچ کی جائے گی ۔ لاگارڈ نے کہا کہ آئی ایم ایف درحقیقت خواتین کے متعلق مسائل پر قبل ازیں بڑے پیمانے پر توجہ نہیں دے سکا لیکن اسے اس کی اہمیت سمجھ میں آنے کے بعد ایسا کرنا ضروری ہوگیا ہے ۔ آئندہ اقدام جو آئی ایم ایف کرے گا اب اس پر عمل آوری کی جائے گی ۔ جب بھی ہم اپنے ملک واپس جائیں تو ہمیں ایک نیا پروگرام شروع کرنا ہوگا ۔ ہم ملک کی خواتین پر خصوصی توجہ مرکوز کریں گے ۔ لاگارڈ نے کہا کہ یہ صرف ایک تصوراتی بات نہیں ہے کہ خواتین کی با اختیاری  معاشی ترقی کی رفتار بھی تیز کرتی ہے ۔ اس سے فی کس آمدنی میں اضافہ اور عدم مساوات میں کمی میں مدد ملتی ہے ۔ خود اپنی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ صرف ایک قائد کی حیثیت سے سیاست میں تھیں ‘ وہ نجی شعبہ میں تھیں اور ایک قائد تھیں

لیکن اب ایک بڑے بین الاقوامی تنظیم کی سربراہ اور ایک قائد ہیں ۔ تاہم لاگارڈ نے زور دیا کہ خاتون قائدین کو دنیا بھر میں جو یہاں جمع ہوچکی ہیں خواتین کے شعبہ W-20 کے قیام میں مدد کرنی چاہیئے اور خواتین سے اب تک جتنے وعدے کئے ہیں اُن پر عمل آوری کو یقینی بنانا چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ صرف الفاظ کافی نہیں ہے ‘ شاندار الفاظ کے بارے میں خبردار رہیں ‘ ہمیں ان پر عمل آوری کی جانچ کرنا چاہیئے کیونکہ خوشنما وعدے کئے جاسکتے ہیں جن کی تکمیل نہیں ہوتی ‘ اس لئے خواتین کو جانچ لینا چاہیئے کہ جب بھی ان سے کوئی وعدہ کیا جائے اس پر عمل ہی ہو ۔ لاگارڈ نے کہا کہ تعلیم خواتین کی بااختیاری کیلئے بنیادی اہمیت رکھتی ہے ۔ انہوں نے ہر قسم کے تعصب بشمول خاتون کارکنوں کی اجرتوں کے سلسلہ میں تعصب ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ آئی ایم ایف اقوام متحدہ کے لئے دنیا بھر میں معاشی مساوات اور سب کو ساتھ لیکر چلنے کو یقینی بنائے گا ۔مزاحیہ انداز میں انہوں نے اپنے دوست سابق وزیر خارجہ امریکہ میڈلین البریٹ کا تذکرہ کیا کہ وہ کہا کرتی تھیں کہ خواتین کو متحد ہوجانا چاہیئے اور ایسی خواتین کیلئے جو دیگر خواتین کی مدد نہیں کرتیں ایک خاص مقام ’’ جہنم ‘‘ ہے ۔ وزیراعظم ترکی نے قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ تاریخ W-20کے اقدامات کو ہمیشہ یاد رکھے گی ۔ یہ ایک اہم تقریب ہے ‘ یہ ایک ایسا دن ہے جس میں تسلیم کیا گیا ہے کہ خواتین کی شراکت داری کے بغیر معاشی ترقی ناممکن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جیسے کہ ہم اپنے گھر میں شانہ بہ شانہ جدوجہد کرتے ہیں اسی طرح معیشت کا معاملہ بھی ہونا چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ زندگی کے تمام شعبوں میں ہر سمت کو شامل کیا جانا چاہیئے ۔ وزیراعظم ترکی نے کہاکہ اگر خاندانوں میں خواتین فیصلہ ساز حیثیت رکھتی ہیں تو گھروں سے باہر بھی فیصلہ ساز شخصیت کیوں نہیں ہوسکتی۔ W-20کے نئی مقررہ صدر گلدین ترکتان نے کہا کہ ان کا گروپ معاشیات میں بھی خواتین کو باآختیار بنائے گا ۔

TOPPOPULARRECENT