Sunday , February 18 2018
Home / شہر کی خبریں / خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے واقعات میں کمی

خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے واقعات میں کمی

نوجوانوں کی کونسلنگ کے مثبت نتائج ، طلبہ کو اخلاقی درس دینا ضروری : شی ٹیم
حیدرآباد ۔ 21 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر کے شی ٹیم کے ذریعہ پکڑے جانے والے نوجوانوں اور نابالغ لڑکوں کو شی ٹیم کی جانب سے والدین کی موجودگی میں کونسلنگ کرنے سے مثبت تبدیلی آرہی ہے اور زیادہ چھیڑ چھاڑ کرنے والے افراد کی نشاندہی کرتے ہوئے شی ٹیم نے انہیں روزانہ اسٹیشن آکر دستخط کرنے کی ذمہ داری عائد کردی ہے ۔ ایسے نوجوانوں کو ماہرین نفسیات کے ذریعہ بھی کونسلنگ کرائی جارہی ہے ۔ شی ٹیم کا کہنا ہے کہ دو تین ماہ قبل تک روزانہ 15 افراد کو اس جرم میں گرفتار کیا کرتے تھے ۔ مگر اب 8 ، 10 افراد کو گرفتار کیا جارہا ہے ۔ اس جرم میں مبتلا نوجوان تقریبا 75 فیصد واٹس اپ اور یو ٹیوب دیکھ کر ہی جرم کا ارتکاب کررہے ہیں اور انٹرنیٹ کے ذریعہ فحش تصاویر اور ویڈیوز دیکھ کر ایسے جرائم کے علاوہ بس اسٹاپس اور تعلیمی اداروں کے پاس لڑکیوں کی خاموشی کے ساتھ تصاویر حاصل کرنے کے بعد تصاویر سے چھیر چھاڑ کر کے لڑکیوں کو پریشان کررہے ہیں ۔ ایسے نوجوان گھروں میں بڑی معصومیت کے ساتھ رہتے ہیں اور جب گھر سے باہر آتے ہیں تو ایسی حرکات کررہے ہیں ۔ بنجارہ ہلز ، جوبلی ہلز ، یس آر نگر ، مہدی پٹنم ، وجئے نگر کالونی اور سکندرآباد کے علاقوں میں رہنے والے 30 فیصد نوجوان لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ تفریح طبع کے لیے کررہے ہیں ایسے نوجوان پکڑے جانے پر فوری ان کے والدین کو بلا کر کونسلنگ کی جارہی ہے اور بعض نوجوانوں کے شراب کی لعنت میں مبتلا ہونے کے بھی حقائق سامنے آرہے ہیں ۔ اے سی پی شی ٹیم محترمہ ڈی کویتا کا کہنا ہے کہ طلباء اور نوجوان فحش تصاویر اور ویڈیوز دیکھنے کے عادی بن رہے ہیں ۔ فیس بک ، واٹس اپ اور انٹرنٹ کا کثرت سے استعمال کررہے ہیں ۔ اس بارے میں غور کرنے پر پتہ چلا ہے کہ والدین بچوں پر توجہ نہیں دے رہے ہیں ۔ اسکولس اور کالجس میں ذہنی سکون فراہم کرنے والے گیمز منعقد نہیں کئے جارہے ہیں اور طلبہ کو اخلاقیات پر مشتمل درس کا نہ دینا اصل وجہ ہے ۔ بعض کارپوریٹ تعلیمی اداروں کے طلبہ کا کہنا ہے کہ تعلیمی اداروں میں کھیل کود کا انتظام ہی نہیں ہے صرف اور صرف تعلیم پر زور دیا جارہا ہے ۔ اسی وجہ سے واٹس اپ ، یو ٹیوب اور فیس بک کے ذریعہ ذہنی تناؤ دور کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ان تمام مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے نوجوانوں کی کونسلنگ کی جارہی ہے ۔ شی ٹیم پکڑے جانے والے نوجوانوں کے ذریعہ ہی واٹس اپ اور فیس بک کی مدد سے لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ ہونے والی چھیڑ چھاڑ کے خلاف مہم چلا رہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT