Friday , April 20 2018
Home / Mera Column / خواجہ احمد عباس (1987-1914)

خواجہ احمد عباس (1987-1914)

 

میرا کالم مجتبیٰ حسین
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں، جن سے آپ زندگی میں کبھی نہیں ملتے، یا بہت کم ملتے ہیں لیکن یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ انہیں جنم جنم سے جانتے ہیں۔ اس کے برخلاف کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں، جن سے آپ بار بار اور لگاتار ملتے ہیں۔ لیکن جوں جوں ملاقاتیں بڑھتی جاتی ہیں، اجنبیت اور بے گانگی کی کھائی کچھ اور بھی پھیلتی چلی جاتی ہے۔ خواجہ احمد عباس کے بارے میں اب کچھ لکھنے بیٹھا ہوں تو یاد آتا ہے کہ زندگی میں بمشکل تمام پانچ چھ مرتبہ ان سے ملاہوں اور وہ بھی سرسری طور پر ۔ ان سرسری ملاقاتوں کے باوجود یوں محسوس ہوتا ہے جیسے خواجہ صاحب سے میں اپنی پیدائش سے بھی پہلے ملا تھا اور اب آگے ان کی موت کے بعد بھی ان سے ملتا رہوں گا۔ ایک سچے ادیب اور ایک کھرے فن کار سے کسی کی وابستگی زماں و مکاں کی پابند نہیں ہوتی۔

ملک کی آزادی سے پہلے جب مجھ میں اردو افسانوں کو پڑھنے کی ذرا سی صلاحیت پیدا ہوئی اور جو میں نے پہلا اردو افسانہ پڑھا، وہ خواجہ احمد عباس ہی کا تھا۔ ’’دوپائلی چاول‘‘ نام تھا اس کا۔ دس گیارہ برس کی عمر میں آدمی ادب سے متاثر تو بہت ہوتا ہے، لیکن اسے پوری طرح سمجھنے کی سکت نہیں رکھتا۔ اس گہرے تاثر کا ایک سبب تو یہ ہوتا ہے کہ اس عمر میں زندگی کو سمجھنے کی جستجو اور اسے برتنے کی آرزو کچھ اور بھی سوا ہوتی ہے۔ یاد پڑتا ہے کہ اس زمانے میں پڑھے ہوئے یا سنے ہوئے بہت سے شعر ایسے ہوتے تھے جو پوری طرح سمجھ میں تو نہیں آتے تھے لیکن جتنے بھی سمجھ میں آتے تھے، ان پر فوراً عمل پیرا ہونے کو جی چاہتا تھا بلکہ ہم جیسے عاقبت نااندیش تو عمل پیرا ہوئے بھی اور کم عمری میں حتی المقدور نقصان بھی اٹھایا جو بعد میں ادب کو سمجھنے کے معاملے میں سودمند ثابت ہوا۔ بہت سے افسانے اور شعر ہمارے سروں سے گزرجاتے تھے یا پھر ہم ہی افسانوں اور شعروں کے سروں پر سے گزرجاتے تھے۔ کچھ افسانوں کو ہم نے سمجھا اور جن کو نہیں سمجھا انہوں نے بعد میں خود ہمیں سمجھ لیا۔ ترقی پسند تحریک کے عروج کا زمانہ تھا۔ کیسے کیسے البیلے اور قدآور فن کار اس وقت موجود تھے۔

مجھے یاد ہے کہ خواجہ صاحب کے افسانے جوں جوں پڑھتا تھا، ذہن کی گرہیں کُھلتی جاتی تھیں اور سارے وجود پر ایک سرشاری سی طاری ہوجاتی تھی۔ پھر آزادی کے پانچ برس بعد جب گلبرگہ انٹرمیڈیٹ کالج میں پہنچا اور کالج کے ڈرامہ کلب کی جانب سے سالانہ تقریب کے موقع پر ایک ڈرامہ اسٹیج کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو یہ ڈرامہ بھی اتفاق سے خواجہ احمد عباس کا لکھا ہوا تھا۔ اس کا عنوان تھا ’’یہ امرت ہے‘‘۔ بہت کم لوگوں کو اب یہ ڈرامہ یاد ہوگا، مگر مجھے تو اس کے کئی مکالمے یاد ہیں، کیوں کہ میں نے اس ڈرامے کا سب سے اہم کردار یعنی مزدور کا کردار ادا کیا تھا۔ گویا زندگی میں پہلی بار جو افسانہ پڑھا، وہ خواجہ احمد عباس کا تھا اور زندگی میں پہلی بار جس ڈرامے میں حصہ لیا، وہ بھی خواجہ احمد عباس کا لکھا ہوا تھا۔ ڈرامے کا تھیم مجھے اب تک یاد ہے۔ ایک سائنس داں برسوں کی محنت اور تجربے کے بعد ایک ایسا امرت ایجاد کرتا ہے جسے پی لینے کے بعد آدمی کبھی نہیں مرتا۔ امرت کی مقدار اتنی محدود ہے کہ اسے صرف ایک ہی آدمی استعمال کرسکتا ہے۔ سائنس داں کے پاس ہر طبقہ کا کردار اس امرت کو حاصل کرنے کی غرض سے آتا ہے۔ سرمایہ دار، تاجر اور افسر ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس امرت کو پی لے۔ سائنس داں شش و پنج میں مبتلا ہے کہ وہ یہ امرت کسے پیش کرے۔ اسی اثناء میں سائنس داں کی نظر اس مزدور پر پڑتی ہے جو اس کی لیباریٹری کے ایک حصہ کی مرمت کررہا ہوتا ہے۔ سائنس داں اچانک سوچتا ہے کہ یہ مزدور بھی عجیب و غریب کردار ہے۔ اس کے دل میں اس امرت کو پینے کی آرزو پیدا نہیں ہورہی ہے۔ سائنس داں، مزدور کی اس بے نیازی سے بیحد متاثر ہوتا ہے اور فیصلہ کرلیتا ہے کہ اب وہ یہ ا مرت مزدور کو ہی پلائے گا۔ چنانچہ سائنس داں مزدور کو اپنے پاس بلاتا ہے اور امرت کا پیالہ اسے پیش کرتا ہے۔ لیکن مزدور اسے پینے سے انکار کردیتا ہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ زندہ رہنے کے لیے امرت کی نہیں محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ بازوئوں میں طاقت کی حاجت ہوتی ہے اور اسے اپنے بازوئوں اور اپنی محنت پر پورا بھروسہ ہے، اس لیے وہ امرت کو پینے سے انکار کردیتا ہے اور امرت کا پیالہ سائنس داں کے ہاتھ سے چھوٹ کر گرجاتا ہے۔ یہ ڈرامہ کا کلائمکس تھا، جس میں انسانی محنت کی عظمت کو نہایت خوب صورتی کے ساتھ پیش کیا گیا تھا۔ میں نے اس ڈرامہ میں مزدور کا کلیدی کردار ادا کیا تھا اور میں نے اس کردار کی ادا کاری میں اپنی محنت اور لگن کے وہ جوہر دکھائے تھے کہ گلبرگہ کی سب سے بڑی ٹیکسٹائل مل کے مالک نے میری اداکاری سے خوش ہوکر یا پھر مزدور کے کردار سے گھبراکر سو روپئے کا انعام دینے کا اعلان کیا تھا۔ یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ یہ میری زندگی کا پہلا انعام تھا جسے حاصل کرنے کے لیے مجھے بڑی محنت کرنی پڑی تھی۔ کیوں کہ ٹیکسٹائل مل کے مالک نے انعام کا اعلان تو کردیا تھا لیکن انعام کی رقم دینے کا نام نہ لیتا تھا۔ غرض زندگی کا پہلا انعام میں نے یوں حاصل کیا جیسے انعام نہیں لے رہا ہوں بلکہ اپنا دیا ہوا قرض وصول کررہا ہوں۔

عباس صاحب کی تحریروں سے یہ میرا ابتدائی ربط تھا۔ اس کے بعد ان کی فلموں سے بھی سابقہ پڑا اور ان کی صحافتی تحریروں سے بھی ناتا جڑا۔ لیکن ان سے شخصی طور پر ملاقات کی نوبت نہیں آئی تھی۔ غالباً 1968ء میں وہ اپنی فلم ’’آسمان محل‘‘ کی شوٹنگ کے سلسلے میں اپنے یونٹ کے ساتھ حیدرآباد آئے تھے۔ اس موقع پر فائدہ اٹھاکر حیدرآباد کی ایک انجمن نے ان کے اعزاز میں ایک ادبی محفل آراستہ کی اور مجھے اس موقع پر ایک طنزیہ مضمون پڑھنے کی دعوت دی۔ ان دنوں احمد آباد میں فسادات کا دور دورہ تھا۔ میں نے فسادات کو بنیاد بناکر ایک طنزیہ مضمون لکھا جس کا عنوان تھا ’’سندباد جہازی کا سفرنامہ‘‘۔ یہ ایک طرح کی فنتاسی تھی جس میں سندباد جہازی ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات کا دیدار کرنے کی غرض سے ہندوستان آتا ہے۔ خواجہ احمد عباس اس محفل کی صدارت کررہے تھے۔ جیسے ہی میں نے مضمون ختم کیا خواجہ صاحب کرسیٔ صدارت سے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ میری نشست کی طرف آئے اور مجھے گلے سے لگالیا۔ عام طور پر جلسوں کے صدر کسی مضمون پر اس طرح داد نہیں دیتے۔ اس طرح کی پہلی اور بے ساختہ داد بھی مجھے خواجہ صاحب ہی سے ملی۔ وہ اپنے یونٹ کے ساتھ کئی دن حیدرآباد میں رہے۔ انہوں نے عارضی طور پر ایک مکان کرایہ پر لے لیا تھا۔ جہاں ان کے یونٹ کے سارے افرادیوں رہتے تھے جیسے سب ایک ہی خاندان کے رکن ہوں۔ کھانا بھی سیدھا سادہ بنتا۔ میں نے پرتھوی راج کپور کو پہلی بار اسی گھر میں دیکھا۔ دال اور چاول کھاتے جاتے تھے اور کھانے کے ذائقے کی تعریف کرتے جاتے تھے۔ اصل میں ذائقہ کھانے میں نہیں، خواجہ صاحب کے خلوص اور ان کے حسن سلوک میں ہوتا تھا۔ کھانا بھی یونٹ کے افراد ہی بناتے تھے۔ ان کی فلم کی ہیروئین فلم میں کام کرنے کے علاوہ گھر کا کام بھی کرتی تھی۔ سارے یونٹ کو یہ فکر رہتی تھی کہ اخراجات زیادہ نہ ہونے پائیں۔ ایک دن میں نے اپنی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا کہ پرتھوی راج کپور ایک سائیکل رکشا میں حیدرآبادی نوابوں کا زرق برق لباس پہنے اور سرپر تاج رکھے چلے جارہے ہیں۔ پتہ چلا کہ یونٹ کی موٹر کسی وجہ سے نہیں آسکی تو پرتھوی راج کپور سائیکل رکشا میں ہی سوار ہوکر نکل کھڑے ہوئے۔ بڑا عجیب و غریب منظر تھا۔ اسے یاد کرتا ہوں تو اب بھی ہنسی آتی ہے۔ خواجہ صاحب کے اسسٹنٹ وحید انور حیدرآبادی ہونے کے ناتے میرے پرانے دوست تھے۔ ان کے ذریعہ خواجہ صاحب کی بہت سی باتوں کا علم ہوتا رہتا تھا۔ کام اور لکھنا پڑھنا خواجہ صاحب کے لیے دین اور ایمان کی حیثیت رکھتا تھا۔ ایک ایک پل مصروف رہتے تھے۔ پھر ان کی شخصیت بھی کئی خانوں میں بٹی ہوئی تھی۔ فلم بنارہے ہیں، بلٹز کا آخری صفحہ لکھ رہے ہیں، کہانیاں لکھ رہے ہیں۔ صحافتی تحریریں الگ لکھ رہے ہیں، سیاسی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ آدمی کیا تھے، آئینہ خانہ تھے! لیکن اتنے خانوں میں بٹنے کے باوجود ان کی شخصیت کی انفرادیت مجروح نہیں ہونے پاتی تھی۔ جو کام بھی کرتے، اس میں ان کا عقیدہ اور زاویۂ نگاہ صاف دکھائی دیتا۔ ایک بار میں نے کہیں مذاق میں یہ جملہ کہہ دیا تھا کہ عباس صاحب کی فلم کو دیکھئے تو یوں لگتا ہے جیسے آپ بلٹز کا آخری صفحہ پڑھ رہے ہیں اور بلٹز کا آخری صفحہ پڑھیئے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ عباس صاحب کی فلم دیکھ رہے ہیں۔ میرے اس جملہ سے وہ بہت لطف اندوز ہوئے تھے۔

میں کئی بار بمبئی گیا، لیکن ان سے ملاقات کی کوشش نہیں کی کیوں کہ مجھے ان کی مصروفیات کا اندازہ تھا۔ 1968ء کی سرسری ملاقاتوں کے گیارہ سال بعد ان سے میری جو ملاقات ہوئی وہ ایک دلچسپ ماحول میں ہوئی۔ 1979ء میں میرے دفتر یعنی نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ میں ایڈیٹر کی ایک آسامی کے لیے ایک انٹرویو مقرر تھا۔ میں بھی اس آسامی کے لیے ایک امیدوار تھا۔ جب انٹرویو کے لیے مجھے طلب کیا گیا تو دیکھا کہ خواجہ صاحب انٹرویو بورڈ کے ممبر بنے بیٹھے ہیں۔ میں نے حیرت سے انہیں دیکھا تو ان کے ہونٹوں پر ایک شفقت آمیز مسکراہٹ پھیل گئی۔ سلیکشن کمیٹی کے ایک رکن نے خواجہ صاحب کی طرف اشارہ کرکے مجھ سے پوچھا ’’کیا آپ انہیں جانتے ہیں؟‘‘ میں نے کہا ’’بہت اچھی طرح جانتا ہوں اور اس لیے بھی جانتا ہوں کہ ان کی وجہ سے کم از کم ایک رسالہ کو میں غلط ڈھنگ سے پڑھتا ہوں یعنی شروع سے آخر تک پڑھنے کے بجائے آخر سے شروع تک پڑھتا ہوں۔‘‘ میرا اشارہ بلٹز کی طرف تھا جس کا آخری صفحہ خواجہ صاحب لکھتے تھے اور جب تک خواجہ صاحب زندہ رہے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں نے بلٹز خریدا ہو اور اس کا مطالعہ شروع سے شروع کیا ہو۔ اس رسالے کو ہمیشہ آخر سے شروع تک پڑھتا تھا۔ میرے جواب کو سن کر خواجہ صاحب کی شفقت آمیز مسکراہٹ میں کچھ اور بھی شفقت شامل ہوگئی۔
انٹرویو بورڈ کے سارے ارکان نے مجھ سے کچھ نہ کچھ ضرور پوچھا۔ لیکن خواجہ صاحب آخر سے شروع تک خاموش بیٹھے رہے۔ انٹرویو جب ختم ہونے لگا تو بورڈ کے چیرمین نے خواجہ صاحب سے کہا کہ وہ بھی مجھ سے کوئی سوال پوچھیں۔ اس کے جواب میں خواجہ صاحب نے کہا ’’میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ میرے کسی سوال کا یہ کیا جواب دیں گے۔ سوال اس شخص سے کرنا اچھا لگتا ہے جسے آپ نہ جانتے ہوں۔‘‘ اس جملے نے میرا حوصلہ کتنا بڑھایا تھا، اسے شاید میں لفظوں میں بیان نہیں کرسکوں گا۔ بعد میں پتہ چلا کہ اس آسامی کے لیے میرا انتخاب ہوگیا ہے۔ خواجہ صاحب دہلی میں دو تین دن رہے، لیکن میں ان کا شکریہ ادا کرنے کے لیے نہ جاسکا۔ کیوں کہ میں جانتا تھا کہ اگر میں ان کا شکریہ ادا کروں تو وہ اس کا کیا جواب دیں گے۔
چار پانچ مہینوں بعد مہاراشٹر اردو اکیڈیمی کی دعوت پر مجھے بمبئی جانے کا موقع ملا۔ اس تقریب میں کنہیا لال کپور بھی موجود تھے۔ جلسہ جاری تھا کہ خواجہ صاحب ہاتھ میں کتابوں کا ایک چھوٹا سا بنڈل اٹھائے چلے آئے اور پچھلی نشستوں پر بیٹھ گئے۔ جلسہ کے بعد خواجہ صاحب سے ملاقات ہوئی۔ بڑی محبت سے ملے۔ اپنے ناول’’انقلاب‘‘ کی ایک جلد مجھے اپنے آٹو گراف کے ساتھ دی۔ لکھا تھا ’’مجتبیٰ حسین کے لیے _____ جن کے پتے کی مجھے ہمشیہ تلاش رہتی ہے۔‘‘ وہ ادبی محفلوں میں کم جاتے تھے لیکن غالباً کنہیا لال کپور سے ملنے کا اشتیاق انہیں محفل میں کھینچ لایا تھا۔ خواجہ صاحب سے یہ میری آخری ملاقات تھی۔ اسے بھی دس برس بیت گئے۔ اس کے بعد انہیں جلسوں میں دیکھا ضرور لیکن ملنے کی ہمت نہیں پڑی۔
1986ء میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی گولڈن جوبلی تقریب میں شرکت کے لیے وہ دہلی آئے۔ تقریب کے دوسرے دن کے اجلاس میں وہ آئے تو کچھ اس طرح کہ دو آدمی انہیں تھامے ہوئے تھے اور وہ بڑی مشکل سے قدم اٹھارہے تھے۔ انہیں اسٹیج پر پہنچنے میں پندرہ بیس منٹ لگ گئے۔ بے حد کمزور ہوگئے تھے۔ انہیں اس طرح تکلیف میں چلتے ہوئے دیکھ کر آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ وقت کی سنگینی اور بے رحمی پر غصہ آیا کہ وہ آدمی کو کیا سے کیا بنادیتی ہے۔ لیکن جب خواجہ صاحب نے اپنا خطبہ پڑھا تو آواز میں وہی کرارا پن تھا، لہجے میں وہی عزم و حوصلہ تھا۔ ایک ایک لفظ سے ان کی انا اور ان کے پکے عقیدے کا اظہار ہوتا تھا۔ ان میں ایک ایسی زبردست قوتِ ارادی تھی جس کے بل بوتے پر وہ سب کچھ کرنے کا حوصلہ رکھتے تھے۔ جسمانی کمزوریوں کے باوجود انہوں نے آخری وقت تک لکھا۔ لکھنے کو وہ عبادت سمجھتے تھے۔

ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ جس عقیدے کو انہوں نے سچا جانا اس پر آخر وقت تک قائم رہے۔ ذہنی قلابازیاں لگانے اور کرتب دکھانے کے وہ قائل نہیں تھے۔ ادیب پیدا ہوتے رہیں گے، لیکن خواجہ احمد عباس جیسا بوتے والا ادیب ا ب اردو کو شاید ہی نصیب ہو۔ پانی پت اپنی جنگوں کے لیے مشہور ہے اور مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے پانی پت کی آٓخری اور اصلی لڑائی خواجہ احمد عباس نے اپنی تحریروں کے ذریعہ لڑی تھی۔ یہ لڑائی تھی ظالم کے خلاف، مظلوم کے حق میں سرمایہ دار کے خلاف، مزدور کے حق میں۔ ظلمت کے خلاف اجالے کے حق میں اور طاقت ور کے خلاف کمزور کے حق میں اور جب تک اس لڑائی کا فیصلہ نہیں ہوجاتا ہمیں خواجہ صاحب کی تحریریں قدم قدم پر یاد آتی رہیں گی اور ان کی یاد کو تازہ رکھنا ہم سب کا فرض ہے۔
(نومبر 1988 ء)

TOPPOPULARRECENT