Friday , June 22 2018
Home / ادبی ڈائری / خواجہ میر درد کے ضرب المثل اشعار

خواجہ میر درد کے ضرب المثل اشعار

صابر علی سیوانی

صابر علی سیوانی
روزنامہ سیاست 28 جون 2014ء کے شمارے میں راقم السطور کا ایک مضمون بعنوان ’’فلسفۂ انسانیت شعر و سخن کے آئینے میں‘‘ شائع ہوا تھا۔ اس مضمون میں ایسے متعدد اشعار نقل کئے گئے تھے جو فلسفۂ انسانیت کی تشریح کے حوالے سے تھے۔ ان اشعار میں سے ایک شعر درد کا بھی تھا جو اس طرح ہے۔ ’’درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو : ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کرّوبیاں‘‘ اس شعر کے شاعر کے متعلق راقم السطور کو تھوڑی دیر کے لئے یہ شک پیدا ہوا کہ آیا یہ شعر درد کا ہے یا کسی دوسرے شاعر کا؟ اس شعر کے خالق کے بارے میں معلوم کرنے کیلئے میں نے متعدد ادباء، شعراء، اہل دانش و بینش اور ماہرین شعر و ادب سے فون پر ربط پیدا کیا ، بعضوں نے اسے حالی سے منسوب قرار دیا۔ لیکن اس مشہور شعر کے بارے میں متحقق نہ ہوسکا کہ اس شعر کا تخلیق کار کون ہے؟ تاہم میں نے اس شعر کو درد کے نام سے منسوب کرتے ہوئے مضمون مکمل کیا اور یہ سوچا کہ ممکن ہے کہ اگر یہ شعر درد کا نہ ہو تو کوئی نہ کوئی اہل علم یہ ضرور نشاندہی کرے گا کہ یہ شعر درد کا نہیں بلکہ فلاں شاعر ہے، لیکن کسی نے اس جانب اشارہ نہیں کیا۔ میرے دل میں تجسس اس بات کی تھی کہ یہ معلوم کروں کہ آخر اس شعر کو کس شاعر نے موزوں کیا۔ اس دوران راقم السطور کو پٹنہ جانے کا اتفاق ہوا۔ خدابخش لائبریری پٹنہ میں دیوان درد، مرتّبہ ڈاکٹر ظہیر احمد صدیقی، سابق ریڈر شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی، مطبوعہ مکتبہ جامعہ نئی دہلی 1963 کی ورق گردانی شروع کی ،تو صفحہ 128 پر درد کی ایک غزل ملی ،جو چار اشعار پر مشتمل تھی ، جس کا تیسرا شعروہی ہے جو اوپر مذکور ہوا۔ درد کی وہ پوری غزل اس طرح ہے ؎

دل کو لے جاتی ہیں معشوقوں کی خوش اسلوبیاں
ورنہ ہے معلوم ہم کو سب انہوں کی خوبیاں
صورتوں میں خوب ہوں گی شیخ گو حورِ بہشت
پر کہاں یہ شوخیاں، یہ طور، یہ محبوبیاں
دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کیلئے کچھ کم نہ تھے کرّوبِیاں
آپ تو تھیں ہی پس اس کا بھی کیا خانہ خراب
درد اپنے ساتھ آنکھیں دل کو بھی لے ڈوبیاں ۔اس غزل کا تیسرا شعر ہی اس مضمون کو لکھنے کا باعث بنا، جس میں ’’کرّوبیاں‘‘ کا لفظ کا درد نے استعمال کرکے بڑی معنویت پیدا کی ہے اور شاید درد اردو کے پہلے شاعر ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اس لفظ کا استعمال کیا۔ کرّوبی کی جمع کروبِیاں ہے جس کا مفہوم فرشتے، وہ مخلوق جو عالم بالا میں خدا کی تسبیح و تمجید میں مصروف ہے، ہوتا ہے۔ درد نے نہایت مشکل زمین کا استعمال کیا اور اس کو نبھانے کی کوشش کی ،لیکن وہ اس مشکل ردیف کے تحت صرف چار اشعار ہی کہہ سکے مگر ان ہی چار اشعار میں ایک شعر انہوں نے ایسا کہہ دیا جو ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گیا جو لاکھوں افراد کے حافظے میں محفوظ ہے۔

خواجہ میر درد کا شمار اردو کے سب سے اہم صوفی شاعر کی حیثیت سے ہوتا ہے۔ قدیم تذکرہ نگاروںبشمول میر تقی میر (نکات الشعراء) نے درد کا نام بڑے احترام سے لیا ہے۔ درد نے تصوف کی راہ بعد میں اختیار کی، آغاز جوانی میں وہ بھی ایک دنیادار کی طرح زندگی گذار رہے تھے۔ بعد میں تصوف کی راہ پر چل پڑے اور جب اپنے والد خواجہ ناصر عندلیب کی مسند ارشاد پر متمکن ہوئے تو پھر دنیاداری سے یکسر منحرف ہوکر تصوف کے دامن گیر ہو کر رہ گئے۔ انہوں نے پوری زندگی ایک صوفی کی طرح گذاری ،حالانکہ ان کی شاعری میں عشق حقیقی کے علاوہ عشق مجازی کا رنگ بھی نمایاں نظر آتا ہے، لیکن ایسا لگتا ہیکہ یہ رنگ ان پر اس وقت چڑھا ہوگا جب وہ آغاز جوانی میں شاعری کے زلف گرہ گیر کو سنوار رہے تھے یہ حقیقت ہے کہ اس دور کے درد کے اشعار نمائندہ اشعار نہیں کہے جاسکتے اور ان اشعار سے انہیں شہرت بھی نہیں ملی۔ انہیں شہرت ان ہی اشعار کی بدولت حاصل جن میں تصوف کا رنگ نمایاں نظر آتا ہے ،جن میں اخلاقیات کی رمق واضح طور پر نظر آتی ہے اور جن میں فلسفہ انسانیت کی گہرائی پائی جاتی ہے۔ حالانکہ درد کے معاصرین میں میر تقی میر بھی تھے، جن کا ضخیم کلیات موجود ہے، جس میں متصوفانہ شعر کم و بیش اتنے ہی مل جائیں گے جتنے درد کے مختصر سے دیوان میں موجود ہیں۔ تاہم میر کو صوفی شاعر نہیں قرار دیا گیا اور درد کو شہرت ہی صوفی شاعر کے طور پر حاصل ہوئی۔ درد کی خصوصیت یہ ہیکہ ان کے ہاں خالص متصوفانہ اشعار ملتے ہیں۔اس میں تصوف و معرفت کی ایک ایسی دنیا پوشیدہ ہوتی ہے جو رمزیہ اسلوب سے آراستہ و پیراستہ ہوتی ہے جن میں ایک جہان معانی پنہاں ہوتا ہے۔ ان اشعار کو ملاحظہ کیجئے اور درد کے منفرداسلوب اور سہل پسندی کی امتیازی خوبیوں کا اندازہ لگائیے۔
بستے ہیں تیرے سائے میں سب شیخ و برہمن
آباد ہے تجھ سے ہی تو گھر دیر و حرم کا
وحدت میں تیری حرف دوئی کا نہ آسکے
آئینہ کیا مجال تجھے منہ دکھا سکے
ارض و سما کہاں تیری وسعت کو پاسکے
میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
مدرسہ ،یا دیر تھا ،یا کعبہ ،یا بت خانہ تھا
ہم سبھی مہمان تھے واں ،تو ہی صاحب خانہ تھا
ہر جُز کو کل کے ساتھ بمعنی ہے اتصال
دریا سے دُرجدا ہے یہ ہے غرق آب میں
ہے جلوہ گاہ تیرا ،کیا غیب کیا شہادت
یاں ہے شہود تیرا، واں ہے حضور تیرا

دیوان درد میں ایسے متعدد اشعار ملتے ہیں جن میں تصوف و معرفت کے اسرار و رموز کی عقدہ کشائی کی ہے اور کمال کی بات ہے کہ اس میں اسلوب کی گئی ایسی سادگی اور زبان کی ایسی سلاست پائی جاتی ہے جو تفہیم اشعار میں گراں نہیں معلوم ہوتی۔ درد کے کلام کی زبان اور اس میں تصوف کے بھرپور عناصر کی نشاندہی کرتے ہوئے سید احتشام حسین نے یوں اظہار خیال کیا ہے۔ ’’درد کا زیادہ تر کلام غزل کی شکل میں ملتا ہے جس میں تصوف کے عمیق اصول صاف ستھری اور آسان زبان میں پیش کئے گئے ہیں۔ ان کا تخلص درد ہے تو ان کی شاعری میں ویسے ہی پُردرد اور پُراثر جذبات بھی ملتے ہیں۔ ان کی زبان لوچدار، ملائم اور رواں ہے۔ دلّی کی بول چال کی وہ زبان جوبہت آسان اور میٹھی تھی، میر کے بعد درد ہی کی شاعری میں ملتی ہے۔ اس وقت کے سبھی شعراء اور مصنفین نے درد کو اعلیٰ درجے کا شاعر مانا ہے۔ درد کے چھوٹے سے دیوان میں زیادہ تر غزلیں چھوٹی بحروں میں ہیں، مگر وہ اتنی مؤثر ہیں کہ مولانا محمد حسین آزاد نے ان کے لئے کہا ہیکہ وہ تلواروں کی آبداری نشتروں میں بھر دیتے ہیں‘‘۔ (اردو ادب کی تنقیدی تاریخ، سید احتشام حسین، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ، نئی دہلی 1997ء صفحہ 63)
خواجہ میر درد کی شاعری کی خصوصیات میں سے اہم ترین خصوصیت یہ ہیکہ ان کے متعدد اشعار ضرب المثل کی شکل اختیار کرچکے ہیں حالانکہ درد 1721ء میں دلی میں پیدا ہوئے اور کم و بیش تین سو سال گذر جانے کے باوجود بھی ان کے اشعار لوگوں کی زبانوں پر آج بھی جاری ہیں۔ یہاں درد کے چند ایسے اشعار پیش کئے جائیں گے جو ضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں یا جو اکثر و بیشتر تحریر و تقریر میں استعمال کئے جاتے ہیں۔ بہت سے شعراء ایسے گذرے ہیں جن کے صرف دوچار اشعار ہی ضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں یا کچھ شاعروں کا صرف ایک ہی شعر انہیں زندہ رکھنے کیلئے کافی ہے۔ مثلاً اختر انصاری کا ایک نہایت ہی مشہور شعر ہے جو ضرب المثل کی حیثیت رکھتا ہے لیکن بہت کم لوگ اس شعر کے شاعر سے واقف ہیں۔ وہ شعر یہ ہے۔
یاد ِماضی عذاب ہے یارب!
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
لیکن درد کی شاعری کا کمال یہ ہیکہ ان کے بہت سے اشعار ضرب المثل بن گئے ہیں۔ شاعر کا کمال فن یہ تصور کیا جاتا ہے کہ وہ شاعری پر اس قدر قدرت حاصل کرلے کہ اس کے اشعار ضرب المثل بن جائیں۔ اس کی شاعری سلاست، صفائی، معانی، اسلوب اور معانی کے اعتبار سے اس قدر پُراثر ہوکہ قاری پڑھتے ہی حافظے میں محفوظ کرلے اور یہ سلسلہ دوسرے قارئین تک بھی جاری رہے تبھی وہ کلام ضرب المثل کا مقام حاصل کرتا ہے۔ ڈاکٹر ظہیراحمد صدیقی نے دیوان درد کے مقدمہ میں ایسے شعر کی خصوصیت بیان کی ہے جو ضرب المثل کے زمرے میں آتے ہیں اور ساتھ ہی میر درد کے یہاں ایسے سینکڑوں اشعار کی نشاندہی کی ہے جو ضرب المثل کا رتبہ حاصل کرچکے ہیں۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں۔
’’کسی شعر کی صفائی اور جزالت کا کمال یہ ہیکہ وہ خاص و عام کی زبانوں پر ضرب المثل کی طرح جاری ہوجائے۔ بہت سے اشعار تو ایسے ہوتے ہیں کہ عام بول چال میں زبان زد ہوتے ہیں مگر لوگ نہیں جانتے کہ کس کے ہیں۔ سعدی کے بہت سے فقرے اور مصرعے آج ضرب المثل کی صورت میں ہماری تقریر و تحریر کا جزو بن گئے ہیں۔ میر درد کے یہاں بھی ایسے اشعار کی کمی نہیں ہے‘‘۔ (مقدمہ دیوان درد، مرتبہ ڈاکٹر ظہیراحمد صدیقی، مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ نئی دہلی 1963 صفحہ 15)
جیسا کہ ظہیراحمد صدیقی کی اس تحریر سے معلوم ہوتاہیکہ میر درد کے ہاں ضرب المثل کے طور پر مشہور اشعار کی کمی نہیںہے واقعتاً درد کے اشعار میں وہ خصوصیات پائی جاتی ہیں جو ضرب المثل بن سکیں۔
مثلاً درد کا ایک نہایت ہی مشہور شعر ہے جس میں شاعر نے شیخ کی عبادت اور زہد و تقویٰ پر حرف گیری کی ہے اور اپنی تر دامنی کو ہدف ملامت نہ بنائے جانے کی نصیحت کرتے ہوئے درد نے کہا ہیکہ اس تر دامنی کو مت دیکھو بلکہ اس دل کی صفائی کو دیکھو جس میں خدا کی خشیت جلوہ گزیں ہے۔ درد کہتے ہیں۔

تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
اسی طرح درد زاہد کو اپنی عبادت پر نازاں ہونے کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ تم اپنی عبادت پر ناز مت کرو اور گنہگاروں کو بہ نظر حقارت مت دیکھو، کیونکہ نہ حضرت آدم سے لغزش ہوتی نہ وہ جنت سے دنیا میں بھیجے جاتے نہ دنیا میں انسانوں کا سلسلہ جاری ہوتا۔ بس اے زاہد جو تمہیں یہ عبادت کا موقع نصیب ہوا تو یہ بہ طفیل آدم ہے۔ اس لئے تمہیں اپنی عبادت پر پھولنے کی ضرورت نہیں۔
مت عبادت پہ پھولیو زاہد
سب طفیلِ گناہ ِآدم ہے
دنیا کی بے ثباتی اور موت کے وقت حقیقت دنیا کے ادراک کے بارے میں بھی درد نے بڑی نصیحت آمیز بات کہی ہے اور یہ لکھا ہیکہ یہ دنیا جس میں انسان ہزاروں خواہشیں پالتا ہے لیکن جب نزع کا وقت آتا ہے اور اسے یقین ہوجاتا ہیکہ اب میرا وجود عدم کی منزل میں جانے والا ہے تب اسے احساس ہوتا ہیکہ میں نے دنیا میں جو کچھ بھی دیکھا اور سنا وہ سب خواب اور افسانہ تھا۔ حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ درد نے اس شعر میں بھی تصوف کی گتھی سلجھانے کی کوشش کی ہے اور بڑی سادگی سے حقیقت دنیا کو محض دو مصرعوں میں بیان کردیا لیکن یہ شعر ضرب المثل کی شکل اختیار کرگیا۔
وائے نادانی کہ وقتِ مرگ یہ ثابت ہوا
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا، جو سنا افسانہ تھا
یا درد کا یہ شعر جس میں عمر رفتہ کو آواز دے کر شاعر کہتا ہے کہ دنیا مجھے نقش پا کی طرح روندتی رہتی ہے کاش میں اس دنیا میں نہ رہتا تو زیادہ بہتر ہوتا، کیونکہ یہ دنیا رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ یہاں ذلت و رسوائی ہی مقدر ہے۔ درد کا یہ شعر بھی ضرب المثل کا درجہ رکھتا ہے۔
روندے ہے نقش پاک کی طرح خلق یاں مجھے
اے عمرِ رفتہ ! چھوڑ گئی تو کہاں مجھے
زندگی کو طوفان سے تعبیر کرنا اور زندگی گذارنے کو موت کی منزل سے گزرنے کی بات کہنا واقعی حیات انسانی کی کشمکش کی عمدہ تشریح ہے، جو ہمیں درد کے ایک شعر میں ملتی ہے۔ یہ شعر بھی تصوف کی گہرائیوں اور علم معرفت کی باریکیوں کی انشراحی کیفیت لئے ہوے ہے، کیونکہ صوفی اس دنیا میں رہتے ہوئے اپنی الگ دنیا بنا کر رہنا چاہتا ہے اور اسے ایسی دنیا میں رہنا جہاں قدم قدم پر آزمائشیں ہوں کتنا مشکل معلوم ہوتا ہوگا۔ بالآخر وہ اپنے تجربات کو جب بیان کرتا ہوگا تو اس کی کیفیت درد کے اس شعر کی ہی طرح ہوتی ہوگی کہ

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے
یا درد کے ایک دوسرے شعرکے مصداق کہ اب چل چلاؤ کا وقت آ گیا ہے، ایسے میں ساغر ہی کا سہارا لینا بہتر ہے۔ کیونکہ شراب معرفت کے ذریعہ ہی زندگی کو بامقصد بنایا جاسکتا ہے اور کم از کم آخری وقت میں تو اس کے دامن گیر ہوجانا چاہئے۔
ساقیا اب لگ رہا ہے چل چلاؤ
جب تلک بس چل سکے ساغر چلے
خدا کی راہ میں صوفی کو کن کن آزمائشوں، مصیبتوں، مشکلوں اور صعوبتوں سے گزرنا پڑتا ہے اس کی اذیت ناکی کا احساس راہ خدا کے مسافر (صوفی) کو ہی ہوسکتا ہے کیونکہ تصوف کی راہ بہت کٹھن ہوتی ہے۔ صوفی کو دنیاداری سے بے خبر ہوکر بس خدا کی معرفت کی راہ پر چلنا پڑتا ہے ،دنیا کی راہ سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ اس کا احساس بس خدا سے عشق کرنے والے کو ہی ہوسکتا ہے۔
اذیت، مصیبت، ملامت ،بلائیں
ترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا
کچھ گل ہی باغ میں نہیں تنہا شکستہ دل
ہر غنچہ دیکھتا ہوں تو ہے گا شکستہ دل
سب خون دل ٹپک ہی گیا بوند بوند کر
اے درد بس کہ عشق سے میں تھا شکستہ دل
[email protected]
(باقی آئندہ)

TOPPOPULARRECENT