Sunday , November 19 2017
Home / کھیل کی خبریں / خودغرض کھلاڑیوں کی پاکستانی ٹیم میں کوئی جگہ نہیں : کوچ آرتھر

خودغرض کھلاڑیوں کی پاکستانی ٹیم میں کوئی جگہ نہیں : کوچ آرتھر

سڈنی ، 10 مئی (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کرکٹ ٹیم کے نئے کوچ مکی آرتھر نے شروعات ہی میں نیشنل کرکٹرز کو خبردار کیا ہے کہ وہ ڈسپلن، فٹنس اور فیلڈنگ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ناکامیوں سے دوچار اور ایک روزہ رینکنگ میں نویں نمبر پر موجود پاکستانی ٹیم کو دوبارہ بلندیوں کی جانب گامزن کرنے کے مقصد کے تحت سابق کوچ وقار یونس کی جگہ نسبتاً سخت ڈسپلن کیلئے مشہور مکی آرتھر کی تقرری کی ہے۔ آسٹریلیا میں بیوی اور تین بیٹیوں کے ساتھ مقیم جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے آرتھر نے ٹیلی فون پر انٹرویو میں ’خراب ڈسپلن‘ کیلئے مشہور بعض نیشنل کرکٹرز کو خبردار کیا کہ وہ ڈسپلن پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اس کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی کریں گے۔ 47 سالہ آرتھر نے کہا کہ ’’میں ڈسپلن کے معاملے میں سخت رہوں گا اور یہی وہ طریقہ ہے کہ جس سے ہم بہتر سے بہتر نتائج حاصل کر سکتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ ہر کوئی ٹیم کیلئے کھیلنا شروع کر دے اور میں کوئی بھی خود غرض کھلاڑی ٹیم میں نہیں چاہتا‘‘۔ پاکستان کرکٹ کی نئی سلیکشن کمیٹی نے نوجوان اوپنر احمد شہزاد اور مڈل آرڈر بلے باز عمر اکمل کو خراب ڈسپلن کے سبب دورۂ انگلینڈ کی تیاریوں کیلئے کیمپ کے ممکنہ کھلاڑیوں میں شامل نہیں کیا۔ اس کے علاوہ پاکستان کپ چھوڑ کر جانے والے سینئر بلے باز یونس خان کو جب پی سی بی نے وجہ بتاؤ نوٹس جاری کی تو انہوں نے بھی بورڈ سے معافی مانگی تھی۔ آرتھر نے کہا کہ ہماری بولنگ اچھی ہے لیکن ہمیں اپنی بیٹنگ بہت بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ ماضی میں جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا کی کوچنگ کا تجربہ رکھنے والے آرتھر نے کہا کہ وہ فیلڈنگ اور فٹنس کے معاملے میں بھی بہت سخت ہوں گے اور ایسے کھلاڑیوں کی ضرورت ہے جو لمبے عرصے تک کھیل سکیں اور ان معاملات پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔

آرتھر پاکستان کے پانچویں غیر ملکی کوچ ہوں گے جبکہ اس سے قبل رچرڈ پائی بس، باب وولمر، جیف لاسن اور ڈیو واٹمور پاکستان کی کوچنگ کر چکے ہیں۔ آرتھر کا پہلا امتحان 14 جولائی سے 7 ستمبر تک دورۂ انگلینڈ ہو گا جہاں پاکستان چار ٹسٹ، پانچ ایک روزہ اور ایک ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے گا۔ اس کے بعد پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کھیلنے کے بعد ڈسمبر میں تین ٹسٹ اور چھ ایک روزہ میچوں کیلئے آسٹریلیا کی مہمان بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ انگلینڈ اور آسٹریلیا کا اُن کی سرزمین پر سامنا بہت سخت ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانی کھلاڑیوں کیلئے یہ حالات بہت بڑی آزمائش ہوں گے لیکن میں کھلاڑیوں کو اس چیلنج کیلئے تیار کرنے کی کوشش کروں گا۔ کوئی شک نہیں کہ ہم جیتیں گے، اگر کھلاڑی بہتری دکھاتے ہیں تو میں سمجھ جاؤں گا، میں بہتر کام کر رہا ہوں۔ پاکستانی ٹیم کی کوچنگ دنیائے کرکٹ میں سب سے مشکل کام تصور کی جاتی ہے مگر آرتھر نے کہا کہ اس بات نے انہیں مزید پرجوش کر دیا ہے۔ ’’میں اس نوکری کے بارے میں ہر بات جانتا ہوں لیکن اس سے زیادہ یہ جانتا ہوں کہ یہاں کرکٹ کیلئے بہت جوش و جذبہ ہے اور پاکستان میں بہت ٹیلنٹ ہے، اگر ہم صحیح ڈھانچہ مرتب کر پاتے ہیں تو پھر اس ٹیم کو بلندیوں کی جانب گامزن کر دیں گے۔

TOPPOPULARRECENT