Tuesday , December 12 2017
Home / جرائم و حادثات / خود ساختہ پولیس ظاہر کرکے رقم وصول کرنے والا صحافی گرفتار

خود ساختہ پولیس ظاہر کرکے رقم وصول کرنے والا صحافی گرفتار

شمس آباد ڈی سی پی اے آر سرینواس کی پریس کانفرنس
شمس آباد 17 نومبر (سیاست نیوز) شمس آباد پولیس نے خود ساختہ پولیس ظاہر کرکے رقم وصول کرنے والے ایک صحافی کو گرفتار کرکے اس کے قبضہ سے 6 ہزار روپئے ضبط کرلئے۔ شمس آباد ڈی سی پی اے آر سرینواس نے پریس کانفرنس سے مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ 28 ستمبر کی شب سات رکنی ٹولی نے غیر قانونی طور پر چاول منتقل کرنے والی ایک بولیرو کار کو روک کر اسے ڈرا دھمکاکر خود کو پولیس ظاہر کرکے اس کے پاس سے 85 ہزار روپئے وصول کئے تھے۔ شمس آباد پولیس نے مقدمہ درج کرکے 10 اکٹوبر کو 6 افراد کو گرفتار کرکے عدالتی تحویل میں دے دیا تھا۔ ایم راجندر ریڈی 31 سالہ ساکن کاشم باؤلی معین آباد پیشہ منا تلنگانہ شمس آباد ٹاؤن صحافی مبینہ طور پر مفرور تھا جسے آج گرفتار کرلیا گیا۔ ڈی سی پی نے بتایا کہ راجندر نگر گزشتہ دو سال سے مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر منتقل کرنے والے چاول والوں کو نشانہ بناتے ہوئے انھیں خود کو پولیس ظاہر کرتے ہوئے بھاری رقومات وصول کرنا اس کا پیشہ بن چکا تھا وہ اپنے اصل پیشہ کو بھول کر آسان طریقہ سے رقم کمانے کیلئے خود کو پولیس ظاہر کرکے پولیس کی امیج کو خراب کررہا تھا۔ مادی راجندر ریڈی دو سال کے عرصہ میں غیر قانونی کاموں میں ملوث ہوکر بھاری رقومات وصول کرنے کے لئے اس نے ایک گینگ بھی تشکیل دی جسے پہلے ہی گرفتار کرلیا۔ صحافی کا سماج میں ایک اہم رول ہوتا ہے۔ صحافت کا عوام پر بہت جلد اثر ہوتا ہے۔ ڈی سی پی نے کہاکہ راجندر ریڈی کی گرفتاری اور اس کی تفصیلات کو ڈسٹرکٹ یونٹ اور منا تلنگانہ آفس کو پہنچائیں گے تاکہ آئندہ اسے کسی بھی اخبار یا چیانل میں کام کرنے کا موقع نہ دیا جائے۔ اس کی گرفتاری کے بعد اگر دیگر متاثرہ افراد بھی راجندر ریڈی کے خلاف شکایت کریں گے تو اس کے خلاف پی ڈی ایکٹ اور روڈی شیٹ کھول دی جائے گی۔ اس سلسلہ میں غیر قانونی طور پر چاول کی منتقلی کی اطلاع ویجلنس اور سیول سپلائی عہدیداروں کو بھی دے دی گئی ہے۔ ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔ شمس آباد انسپکٹر اوما مہیشور راؤ اور سب انسپکٹر محمد خلیل پاشاہ کو ایوارڈ کیلئے سائبرآباد کمشنر سے سفارش کی گئی ہے۔ اس موقع پر شمس آباد اے سی پی بی انورادھا، شمس آباد انسپکٹر اوما مہیشور راؤ اور سب انسپکٹر محمد خلیل پاشاہ اور دیگر بھی موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT