Monday , December 11 2017
Home / مضامین / خود مسلمان سے ہے پوشیدہ مسلمان کا مقام…

خود مسلمان سے ہے پوشیدہ مسلمان کا مقام…

محمد مبشر الدین خرم
اخوت‘ محبت‘ جانثاری‘ جذبۂ ایثار‘ مواخات ‘ حقوق‘ قربانی ‘ تحفظ‘صبر‘ عزت نفس یہ الفاظ مسلمان کی زندگی کا فلسفہ حیات ہونا چاہئے کیونکہ مسلمانان عالم کو ایک جسم کے مانند قرار دیتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ اگر جسم کے کسی ایک حصہ میںدردہو تو دوسرا حصہ اس تکلیف کو محسوس کرتا ہے ۔1439برسوں میں ایسا کیا ہوگیا کہ خیر امت کہلانے والی یہ قوم دست و گریباں تو ہو ہی گئی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان میں سے اخوت و محبت‘ایثار و قربانی ‘ تحفظ حقوق کا جذبہ بھی ختم ہوتا چلا گیا اور اس حد تک ختم ہوا کہ کئی مقامات پر دنیا کی دوسری بڑی آبادی و الی اس قوم کو متعدد مقامات پر شرمساری کا سامنا کرناپڑ رہا ہے۔ قیصر و کسریٰ کی رعونت کا خاتمہ کرنے والے اسلاف کی نشانی یہ قوم بے یار و مددگار بنی ہوئی ہے ۔ فتح خیبر کے ذریعہ اپنی جرأت و شجاعت کی علامتیں ثبت کرنے والوں کی نام لیوا قوم حفاظت خوداختیاری کے سلسلہ میں خود کو بے بس محسوس کرنے لگی ہے ۔ معرکہ ٔ کربلا کے دوران سرزمین کربلا کو خون شہادت کی عظمت سے بلند کرنے والے شہداء کو اپنا رہنماء و رہبر ماننے والی قوم کے نوجوان شوق شہادت سے بیزارنظر آنے لگے ہیں۔ دریائے فرأت کے کنارے رہتے ہوئے پیاس کو برداشت کرنے اور صبر کرنے والوں کے طفیل جینے کے مدعی معمولی بات پر جھگڑنے والے بنتے جا رہے ہیں۔یہ کوئی زیادہ پرانی نہیں بلکہ 1400اور 1450سال کے درمیان کی ہی بات ہے کہ کلمہ شہادت پر ایقان رکھنے والوں نے ایسے حکمراں بھی دیکھے ہیں جنہوں نے نہر کو بہنے کا حکم دیا‘ ایسے حکمراں بھی دیکھے ہیں جنہیں بیت المال سے حاصل ہونے والی آمدنی سے کچھ بچا کر میٹھا میسر آجائے تو وہ اپنی ضروریات کی آمدنی میں تخفیف کروانے والے رہے۔ ایسے بھی دیکھے جنہوں نے پانی وقف کیا اور 40یوم تک پیاسے رہے اور ایسے شجیع بہادر بھی دیکھے جنہوں نے امت میں تفرقہ ڈالنے والوں کو تہہ تیغ کردیا ۔ان کے یہ عمل تعلیمات میں ہیں لیکن عام طور پر یہ کہا جانے لگا ہے کہ ہم موجودہ دور میں ایسا نہیں کرسکتے۔

کرۂ ارض پر صرف ایک مسلمان قوم نہیں آباد ہے بلکہ اللہ کی وحدانیت پر ایمان رکھنے والی ایک اور قوم بھی ہے جو مسلمان کی دوست نہیں ہوسکتی کیونکہ قرآن نے انہیں مسلمانوں کا دشمن قرار دیا ہے لیکن ا ن کے اعمال کا اگر باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوگی کہ قوم یہود ہزاروں برس گذر جانے کے بعد بھی اپنی جڑوں کو تلاش کرنے میں کوتاہی نہیں کر رہی ہے بلکہ اس قوم نے یہودیوں کے لئے جو کچھ ممکن ہو سکتا ہے کیا اور دنیا کی مختصر ترین بہ اعتبار تعداد قوموں میں شمار کی جانے والی اس قوم نے ترقی کی منزلیں طئے کرتے ہوئے جو کارنامے انجام دیئے ہیں وہ قابل غور ہیں۔ انسان کو اللہ رب العزت نے زمین پر اپنا خلیفہ بنا کر بھیجا ہے اور یہودیوں کا ادعا ہے کہ وہ اللہ کی منتخبہ قوم ہے جبکہ قرآن نے امت محمدیہ ﷺ کو خیر امت کا لقب عطا کیا ہے اور یہودیوں و نصرانیو ںکو مسلمانوں کا کھلا دشمن قرار دیا گیا ہے لیکن کھلے دشمن کے کارناموں پر عش عش کرنے والے مسلمان آپسی بغض و عناد کا شکار ہوتے ہوئے ایک دوسرے کو کافر قرار دینے کی کوشش میں مصروف ہیں۔یہودی مذہبی بنیادوں کو سامنے رکھتے ہوئے نہ صرف تحفظ یہودیت پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں بلکہ وہ اس حقیقت سے آشنا ہیں کہ اگر مسلمان بیدار ہوجائے گا تو ان کی خیر نہیں ہے اسی لئے وہ انہیں بیدار ہونے سے روکنے کے لئے ہر طرح کے ہتھکنڈے اختیار کرتا جا رہاہے ۔ ان حالات سے واقف ہوتے ہوئے بھی مسلما ن خواب غفلت میں ہیں اور اس بات کی امید کر رہے ہیںکہ قوموں کی سرخروی ایسے ہی ہوجائے گی اور اس عمل میں ان کے کسی حصہ کی ضرورت نہیں ہے۔
ہٹلر نے جب یہودیوں کا قتل عام کیا تو دنیا نے یہ سمجھا کہ اس قوم کا وجود ختم ہوگیا لیکن اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو باقی رکھنے کا وعدہ کیا ہے اور اس کے اختتام کا تعین بھی کر رکھا ہے اور اس قوم کو اس بات کا یقین ہے کہ اس کا خاتمہ اسی وقت ہوگا جس کا اللہ نے وعدہ کیا ہے۔ 70عیسوی سے یہودی اپنی بقاء کی جدوجہد کر رہے ہیں اور ان کی بقاء کے لئے وہ اپنے طور پر ہر طرح سے تیار ہوتے جاتے ہیں ۔ حالیہ عرصہ میں منظر عام پر آنے والی موساد کے ایک مشن ’’مشن برادرس‘‘ کی تفصیل دنیا بھر کے مسلمانوں کے لئے لمحۂ فکر ہے ۔ سوڈان سے اسرائیل کے انتہائی کشیدہ تعلقات کے دور میں اسرائیل جب اس بات سے واقف ہوا کہ سوڈان کی سرحد میں 430یہودی مواضعات آباد ہیں تو ان یہودیو ںکو اسرائیل پہنچانے کیلئے 1982میں جو حکمت عملی اختیار کی گئی اسے دیکھیں تو اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ ہزاروں برس سے زمین پر موجود یہ مکار قوم اپنے ہم نسلوں کیلئے کس حد تک اپنا دماغ‘ سرمایہ اور طاقت لگا سکتی ہے۔ ایتھوپیا سے تعلق رکھنے والے 4000 یہودی نفوس جو سوڈانپہنچنے کے دوران فوت ہوگئے تھے ان کے اقرباء و دیگر افرادخاندان کوبچانے کیلئے موساد نے کس طرح کا مشن تیار کیا اور کیسے انہیں ایک ایسی مملکت سے نکالنے میں کامیابی حاصل کی جو اسرائیل کی کٹر دشمن تصور کی جا رہی تھی اور اس وقت اسرائیل کا دورہ کرنا بھی سوڈان میں قابل گردن زدنی جرم ہوا کرتا تھا لیکن ایسے دور میں یہودی سازش و مکاریوں کے ذریعہ لاکھوں ڈالر خرچ کرتے ہوئے انہیں اسرائیل پہنچایا گیا۔

اسرائیلی وزیر اعظم میناچیم بیگن کے دور میں جس وقت اسرائیل کے تعلقات اپنے کسی بھی پڑوسی ملک کے ساتھ بہتر نہیں تھے اور اسرائیل حالت جنگ میں تھا اس وقت موساد نے آپریشن برادرس کا منصوبہ تیار کرتے ہوئے جرمنی نژاد یہودی ائیر ہوسٹس ’یولا‘ کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اسے ایک فون کال کے ذریعہ موساد میں شمولیت اختیار کرنے کی دعوت دی اور فون پر یہ کہا گیا کہ ملک اور قوم کے لئے خدمات کی انجام دہی کا اس سے بہترین کو ئی موقع میسر نہیں آسکتا موساد کی اس دعوت کو یولا نے بلا تردد قبول کرلیا اور ایتھوپیا سے اسرائیل کا رخ کرنے والے یہودی خاندان جو خرطوم میں پھنسے ہوئے تھے انہیں وہاں سے نکلنے کے مشن کی انجام دہی کیلئے تیار ہوگئی ۔اس مشن میں نا صرف جان کا خطرہ تھا بلکہ اس مشن کی انجام دہی خود کو ہلاکت میں ڈالنے کے علاوہ اپنی قوم کو مزید مصائب میں مبتلاء کرنے کے مترادف تھی لیکن موساد نے اس مشن تخلیہ کیلئے سوڈان کے ساحلی علاقہ میں سیاحتی مرکز کے فروغ کا منصوبہ تیا رکیا اور اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کیلئے یوروپی نژاد یہودی کمپنیوں کی مدد حاصل کی گئی جنہوں نے سوڈان میں’ بحر احمر ‘کے ساحل پر سمندری تفریح کا پراجکٹ تیار کیا تاکہ اس تفریح گاہ کے ذریعہ ایتھوپیائی یہودی خاندانوں کی اسرائیل منتقلی کو ممکن بنایا جا سکے۔اس تفریح گاہ کی تیاری اور ترقی کیلئے ابتداء میں برقی ‘ پانی‘ اشیائے خورد و نوش لانے کیلئے ٹرکس کا استعمال کیا جاتا رہا اور اس ٹرک کے ذریعہ ممکنہ حد تک یہودیوں کو منتقل کیا جانے لگااور اس تفریحی مرکز پر یہودی خاندانوں کو ملازمت فراہم کرتے ہوئے انہیں تفریحی مرکز کے ملازمین کی حیثیت سے ملک سے باہر لیجایا جانے لگا۔

سمندری تفریح کو فروغ دینے کے نام پر شروع کئے گئے اس مرکز میں کشتی رانی اور سطح سمندر تک پہنچانے اور اندرون سمندرتفریح کے فروغ کے دوران موساد نے جو منصوبہ تیا رکیا تھا اس کے مطابق سمندری حدود سے تجاوز کرنے والے یہودیوں کو بحریہ کے جہازوں میں سوار کرواتے ہوئے انہیں اسرائیل منتقل کیا گیا ۔ 1981تا1984 جاری رہنے والے اس’آپریشن برادرس‘ کے دوران موساد نے 12ہزار سیاہ فام یہودیو ںکو اسرائیل منتقل کیا اور اس آپریشن کے دوران پیش آنے والے واقعات کے متعلق یولا نے بتایا کہ یہ تفریحی مرکز اعلی پیمانے کے تفریحی مراکز کے طور پر ترقی دیا گیا تھا اور اسی وجہ سے یہاں سفارتی عہدیداروں اور ان کے خاندانوں کی آمد و رفت بھی ہوا کرتی تھی جس کے سبب انہیں ان سے تعلقات ہموار کرنے میں بھی کوئی دشواری نہیں ہوتی تھی۔ یولا نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ اس مشن کے دوران شراب کے علاوہ دیگر ایسی اشیاء کے ذریعہ عہدیداروں اور فوجی اہلکاروں کو اپنا مددگار بنایا گیا ہے اور کچھ ایسی اشیاء خورد و نوش اس تفریحی مرکز پر بنائی جانے لگیں جو ایتھوپیائی ہی تیار کرسکتے ہیں اور انہیں اسی کی بنیاد پر ملازمتیں فراہم کی جانے لگی۔اسرائیل کی موجودہ آبادی میں بتایا جاتا ہے کہ اب ایک لاکھ 30ہزار ایتھوپیائی یہودی آباد ہیں جن کی علحدہ کالونی بنائی جا چکی ہے اور ان کی بازآباد کاری کے بڑے پیمانے پر انتظامات کئے جانے لگے اور ان سیاہ فام باشندو ںکو بھی اسرائیل میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جانے لگااور انہیں بہتر سے بہتر سہولتیں فراہم کی جانے لگیں۔سوڈان میں شرعی قوانین کے باعث شراب نہیں ملتی تھی لیکن پولیس چیف اور پولیس اہلکاروں کو اس تفریحی مرکز کے ذریعہ وہسکی اور دیگر شراب کی فراہمی کے ذریعہ اپنا ہمنواء بنا لیا گیا تھا۔

1984میں مشن برادرس کے متعلق ایک اسرائیلی سیاستداں کے برسرعام اظہار خیال کے فوری بعد اس مشن کے خاتمہ کو ممکن بنانے کی موساد نے حکمت عملی تیار کی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران طیاروں کی آمد و رفت کیلئے تیار کئے گئے رن وے پرکارگو طیارے اتارے اور یہودی خاندانو ںکی منتقلی عمل میں لائی گئی۔ 2برسوں کے دوران اس فضائی پٹی کو موساد کے ایجنٹوں نے کھوج نکالا تھا جو کئی دہائیوں سے ریت کے نیچے دبی ہوئی تھی۔راتوں رات کی گئی اس کاروائی کے بعد اس آپریشن کو ایسے ہی چھوڑ دیا گیا اور اسی کے ساتھ اس تفریحی مرکز کا بھی خاتمہ ممکن بنایا گیا ۔جہاں لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری ایک مقصد کے تحت کی گئی تھی جس میں انہیں بڑی کامیابی بھی حاصل ہوئی ۔اس حکمت عملی اور منصوبہ بندی کو دیکھنے کے بعد ہمیں اب اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم احادیث کے مطابق ’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کے بھائی ‘ کا فرض ادا کر رہے ہیں یا پھر اپنے خونی رشتہ داروں کے خون کے پیاسے بنے ہوئے ہیں۔مفاد پرست قوم نے اپنے جراثیم ہم میں منتقل کردیئے ہیں اور ہم کو جو ذمہ داریاں دی گئی تھیں ہم ان ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرتے جا رہے ہیںجو کہ عالمی سطح پر ہمارے لئے ذلت و رسوائی کا سبب بنتا جا رہا ہے اور ذلت کے خاتمہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ ہم مواخات کے درس کو عام کریں۔

TOPPOPULARRECENT